In the past three days, Israeli occupation forces KILLED one male and two female journalists in #Gaza:
1- 𝑨𝒃𝒅𝒖𝒍𝒍𝒂𝒉 𝒂𝒍 𝑱𝒂𝒎𝒂𝒍
2- 𝑨𝒉𝒍𝒂𝒎 𝒂𝒍 𝑬𝒋𝒍𝒂
3- 𝑫𝒊𝒏𝒂 𝒂𝒍 𝑩𝒂𝒕𝒏𝒆𝒆𝒋𝒊
The KILLING of these three brings the total number of journalists killed since the start of the ongoing Israeli onslaught in #Gaza to 150!
آنے والے دنوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے، 47 سے 52 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے، اور کمولس بادلوں کے نمودار ہونے کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں گھٹن کا ماحول پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں- حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
🔴 مندرجہ ذیل چیزوں کو کاروں سے دور رکھیں جان�� چاہئے:
1. گیس کا مواد۔ گھریلو سلنڈر وغیرہ
2. لائٹرز ـ
3. کاربونیٹیڈ مشروبات۔
4. عام طور پر پرفیوم اور ڈیوائس کی بیٹریاں۔
5. کار کی کھڑکیوں کو تھوڑا سا کھول کر رکھیں (وینٹیلیشن)۔
6۔ کار کے فیول ٹینک کو مکمل طور پر نہ بھریں۔
7. شام کے اوقات میں کار کو ری فیول کریں۔
8. صبح کے وقت گاڑی سے سفر کرنے سے گریز کریں۔
9. گاڑی کے ٹائروں میں زیادہ ہوا نہ بھروائیں، خاص طور پر سفر کے دوران۔
🔴 بچھوؤں اور سانپوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ یہ اپنے بلوں سے نمایاں طور پر نکل آئیں گے اور ٹھنڈی جگہوں کی تلاش میں گھروں کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔
🔴 وافر مقدار میں پانی اور سیال چیزیں پییں۔
🔴 اس بات کو یقینی بنائیں کہ گیس سلنڈر دھو�� میں نہ ہوں ـ
🔴 اس بات کو یقینی بنائیں کہ بجلی کے میٹروں کو اوورلوڈ نہ کریں اور صرف گھر کے زیر استعمال کسی ایک کمرے میں ہی ایئر کنڈیشنر استعمال کریں، خاص طور پر گرمی کے زیادہ ہونے کے اوقات میں۔
🔴 سورج کی روشنی میں براہ راست نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 3 بجے کے درمیان۔
🔵 آخر میں: براہ کرم اس معلومات کو شیئر کریں کیونکہ شاید دوسرے نہیں جانتے ہوں گے اور شاید اسے پہلی بار پڑھ رہے ہوں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گدھا گاڑی سے ہانگ کانگ تک کا سفر
یہ کہانی ہے ڈیرہ غازی خان کے ایک بہت ہی غریب اور محنتی لڑکے شعیب محمد ولد محمد بخش کی جو ایک انتہائی پسماندہ علاقہ و ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ساتھ کم عمری میں یتیم بھی ہو جاتے ہیں
لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم پر توجہ جاری رکھی ۔۔۔
آپ نے پرائمری سے لے کر بی ایس تک ڈیرہ غازی خان بورڈ سے تعلیم حاصل کی ۔۔۔پھر آپ نے *ایم ایس میتھ* اسلام آباد سے کی۔۔۔
معیشتی مشکلات کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ کھیتوں میں مشقت و مزدوری کرتا اور اپنی فیملی کی حتی الم��دور مالی مدد کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔
انکی ایک اہم خصوصیت یہ ہے انہوں نے غربت و ناداری کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کی ہمت باندھتا ہے اور وہ بھی اتنے بڑے ارادہ کے ساتھ کہ کسی باہر ملک سے ہی کرونگا کیونکہ اپنی محنت و خدا پر کامل اعتماد تھا کہ میں کر سکتا ہوں ۔۔۔
پھر 2021 سے انہوں نے باہر ممالک کی اسکالرشپ پر اسٹڈی ویزہ کی ایپلائی کرنا شروع کی ۔۔۔اور بالآخر تین سال بعد 2024 میں انکو ہانگ کانگ کی بہترین یونیورسٹی میں ریسرچ ورک جاب مل جاتی ہے اور ساتھ ہی پی ایچ ڈی کرنے کی اسکالرشپ بھی مل جاتی ہے۔۔۔۔
پس انسان محنت و لگن سے کام کرے تو خدا کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا ۔۔۔۔ہم سب یہ کر سکتے ہیں ۔۔۔
اگر تعلیم سے محبت ہے تو شئیر ضرور کرنا۔۔۔۔