اسلام آباد سے گذرنے والی سری نگر ہائی وے نے قوم کو سری نگر مقبوضہ کشمیر لیکر جانا تھا مگر ہائی وے پر اتنے بڑے اور خطرناک کھڈوں نے اس پر سفر خطرناک بنا دیا ہے۔ اب تو اس شاہراہ کا نام مظفرآباد ہائی وے بھی بُرا نہیں لگے گا۔
ڈبو اگر انکی علیحدگی افوڑڈ نھیں کر سکتے تو انکو اپنے ساتھ چلاؤ انکو جائز حقوق دو انکو حکومت میں حصہ دو انکو علاقائی /صوبائی خود مختیاری دو ان کو اپنے وسائل اپنے لیے استعمال ہونے دو
آزاد کشمیر؟ ایسا ممکن نہیں، ہندوستان کی تقسیم کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے اگر پاکستان کشمیر پر اپنا مؤقف بدل لیتا ہے، ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اتنے چھوٹی ریاستیں مقامی لوگوں کے زیر انتظام نہیں رھتیں آج کشمیریوں یا بلوچ علیحدگی پسندوں کی بات مان لیں تو مستقبل کیا ہو گا، ہم ایسے چھوٹے علاقوں میں گھر جائیں گے جو عالمی ریاستوں اور دھشت گردی کے مراکز ہوں گے، یہ علاقہ نیا یمن یا لیبیا بن جائیگا جہاں کچھ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہو گا، یہ بات درست ہے ہمیں مقامی آبادیوں کو اقتدار میں شامل کریں لیکن آزاد ریاست کا کوئ سوال نہیں اس لئے ہندوستان اور پاکستان دونوں ایسے کسی بھی آئیڈیا کو کبھی عمل پذیر ہونے نہیں دے سکتے!!
وانہ کے مختلف علاقوں میں صبح سے توپوں سے گولہ باری ہو رہی ہے زبیر اور عجب گل کو کم زکم وانہ میں موجود فوجی افسروں سے فون کے زریع یہ تو پوجھنا چاہے کہ اس گولی باری کے نتیجے میں دہشت گردوں کے کتنے ٹکانے تباہ کیے گئے اور کتنے بندوں کو مارا گیا یا صرف لوگوں کو ذہنی اذیت دینے کیلے
خان کی رہائی کے سلسلےمیں پی ٹی ائی اڑھائی سالوں میں سیمی فائنل میں پہنچ گئی ۵ سالوں میں فائنل پہنچے گی لیکن فائنل کھیلا نھیں جائےگا پھر الیکشن میں خان کے نام پر ووٹ مانگینگے - لیکن اس بار عوام کیا کرتی ہے پی ٹی آئی کے ساتھ اس کیلیے الیکشن تک انتظار فرمائے
ایک مولوی کا کسی لڑکی سے افیئر ہوگیا۔ ایک دن دونوں کو تنہائی میسر ہوئی تو لڑکی وفور جذبات سے سرشار ہوکر والہانہ انداز میں مولوی سے بولی منگ وے کیا منگدیں (مانگ لو جو مانگنا ہے)
مولوی شرماتے ہوئے بولا ابے کوں اکھیں ایتواری قربانی دی کھل میکوں ڈیوے۔
(ابو سے کہنا اس بار قربانی کی کھال مجھے دیں)
@ImranRiazKhan بلکل غلط تجزیہ اسٹیبلشمنٹ کو پتہ ہے کہ عمران کے پاس کویئ مخلص نظریاتی سیاسی کارکن نھیں جو گرفتاری یا ظلم کرنے پر ان کیلیے مسلہ پیدا کریں سارے عمران کے نام پر جیبیں بھرنے میں مصروف ھیں اور مولانا کے کارکنوں کا انکو پتہ ہے کہ وہ مولانا کیلیے کس حد تک جا سکتے ھیں