آخر کار وہ ہوگیا جس کا ڈر تھا۔ چوروں کا ٹولہ ہال ہی میں ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہا تھا۔ تصویریں لگا رہے تھے۔ چین کے دورے کو کامیاب قرار دے رہے تھے۔ اور آج دنیا کی معتبر جریدے کا سچ- چین سے بھی چھٹی
Is China Souring on Pakistan? – The Diplomat https://t.co/UiKIW3UEu0
شاکر شجاع آبادی کی اردو غزل
جھونکا ہوا کا تھا آیا گزر گیا
کشتی میری ڈبو کے دریا اتر گیا
صدیوں کی آہ و زاری دامن میں ڈال کر
لمحوں کا ہم سفر تھا جانے کدھر گیا
وہ خواب سی حقیقت میرا روگ بن گئی
اک دل لگی کی قیمت، خونِ جگر گیا
پھولوں سی مسکراہٹ کیا کام کر گئی
میرے سکوں کا گلشن کانٹوں سے بھر گیا
میرے پیار پہ جو صدقہ میرے یار نے دیا
دیکھا جو غور سے تو میرا ہی سر گیا
بٹتی ہیں اب نیازیں اس کے مزار پر
کچھ روز پہلے شخص جو فاقوں سے مر گیا
اسے قتل کر کے شاکرؔ رویا وہ بے پناہ
کتنی ہی سادگی سے قاتل مکر گیا
کلیات شاکر
زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے
ہے کوئی بات جسے تم نے چھپا رکھا ہے
چند بے ربط سے صفحوں میں، کتابِ جاں کے
اِک نشانی کی طرح عہدِ وفا رکھا ہے
ایک ہی شکل نظر آتی ہے، جاگے، سوئے
تم نے جادُو سا کوئی مجھ پہ چلا رکھا ہے
یہ جو اِک خواب ہے آنکھوں میں نہفتہ، مت پوچھ
کس طرح ہم نے زمانے سے بچا رکھا ہے!
کیسے خوشبو کو بِکھر جانے سے روکے کوئی!
رزقِ غنچہ اسی گٹھڑی میں بندھا رکھا ہے
کب سے احباب جِسے حلقہ کیے بیٹھے تھے
وہ چراغ آج سرِ راہِ ہوا، رکھا ہے
دن میں سائے کی طرح ساتھ رہا، لشکرِ غم
رات نے اور ہی طوفان اٹھا رکھا ہے
یاد بھی آتا نہیں اب کہ گِلے تھے کیا کیا
سب کو اُس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے
دل میں خوشبو کی طرح پھرتی ہیں یادیں،
ہم نے اس دشت کو گلزار بنا رکھا ہے
امجد اسلام امجد
میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
افتخار عارف
یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں
جو ہم یہاں کے نہیں ہیں تو پِھر کہیں کے نہیں
وفا سرشت میں ہوتی تو سامنے آتی
وہ کیا فلک سے نبھائیں گے جو زمیں کے نہیں
تیری شوریدہ مزاجی کے سبب تیرے نہیں
اے مرے شہر ترے لوگ بھی اب تیرے نہیں
میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں
یہ بہر لحظہ نئی دُھن پہ تھرکتے ہوئے لوگ
کس کو معلوم یہ کب تیرے ہیں کب تیرے نہیں
مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے
نوک نیزہ سے مرا سر نہ اتارا جائے
شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا
سورج اک بار مرے دل سے گزارا جائے
اس کی یہ ضد کہ مرا قتل پس پردہ ہو
مری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے
اس کے آنے کی بھی امید عبث لگتی ہے
اس کو جانا ہے تو پھر سارے کا سارا جائے
میں زمیں زاد ہوں اے چاند نگر کے باسی
اس بلندی سے نہ پھر مجھ کو پکارا جائے
میں بہر شکل ترے دل میں اترنا چاہوں
ٹھہرے دریا تو سمندر میں کنارہ جائے
نصیر بلوچ
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے
صیاد نشیمن کا پتہ جان گیا ہے
یعنی جسے دیمک لگی جاتی تھی وہ میں تھا
اب آ کے مرا میری طرف دھیان گیا ہے
شیشے میں بھلے اس نے مری نقل اتاری
خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا ہے
اب بات تری "کُن" پہ ہے کچھ کر مرے مولا
اک شخص ترے در سے پریشان گیا ہے
یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ
درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا ہے
احمد عبداللہ
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے
جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم
ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے
دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی
تم گزر جاؤ گی چُپکے سے تمھارا کیا ہے
تہ بہ تہ دھڑکنیں تجسیم ہوئی جاتی ہیں
پے بہ پے اُس نے مرے دل سے گزارا کیا ہے
وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر
ذرۂ خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے
خواب میں ہم کو فلک پار بُلاتا ہے کوئی
جانے کیا نام ہے اُس کا وہ ہمارا کیا ہے
ناؤ کس چڑیا کو کہتے ہیں مجھے کیا معلوم
لہر کیا شے ہے ندی کیا ہے کنارہ کیا ہے
سوچنا یہ ہے کہ آزر ہمیں جانا ہے کہاں
دیکھنا یہ ہے مقدر کا اشارہ کیا ہے
دلاور علی آزر
اپنا احساس وہ ایسے بھی سِوا رکھتا ہے
مِل بھی جائے تو مجھے دور ذرا رکھتا ہے
مجھ سے تنہائی میں ملنے کا طلب گار ہے وہ
بزم اپنی کو جو غیروں سے بھرا رکھتا ہے
اُس کا کیا ہے وہ کہیں سے بھی پلٹ جائے گا
لوگ کہتے ہیں وہ اِک رستہ کھُلا رکھتا ہے
میرے احساس نے تقسیم کیا ہے مجھ کو
عشق میرا مجھے سُولی پہ چڑھا رکھتا ہے
اُس نے کر لی نئی ایک لُغت بھی ایجاد
لفظ بُن لیتا ہے ، معنی کو جُدا رکھتا ہے
خواب کیا دیکھتے، تعبیر نظر کیا آتی
اُن کا امکان ہی آنکھوں کو کھلا رکھتا ہے
وہ تِرے وَصل کی خواہش کو بھلا کیا جانے
وہ تِرے ہجر کو پھولوں سے سجا رکھتا ہے
لِکھ رہا ہے وہ مِری سوچ کی تفسیر حسن
اپنے خوابوں کو بھی جو مجھ سے چُھپا رَکھتا ہے
فواد حسن فواد
یادوں کی کتابوں سے ذرا گرد جھڑی ہے
لو سامنے اِک اور قیامت کی گھڑی ہے
وہ مجھ سے مخاطب تھا مگر سرد تھا لہجہ
کیا شہرِ محبت میں کہیں برف پڑی ہے
برسوں کا ترا ساتھ کہاں مانگ رہے ہیں
ہم کو تو محبت کی یہ ساعت ہی بڑی ہے
وہ شخص چُرا لے گیا سورج کے اجالے
اِک میرے دریچے میں وہی شام کھڑی ہے
آنسو جو بڑی دیر سے ٹھہرا ہے پلک پر
لگتا ہے کسی دورِ ندامت کی کڑی ہے
برسات کی بوندیں، یہ سلگتا ہوا آنچل
یاں حشر بپا ہے تمہیں دفتر کی پڑی ہے
آنکھوں کی شرارت سے کوئی خواب نہ جاگے
یہ کھیل تو اچھا ہے مگر شرط کڑی ہے
صائمہ کامران
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئی
مرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے
نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
فیض احمد فیض
محمد علوی کی غزل
کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر
اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر
مرنے کے ڈر سے اور. کہاں تک جئے گا تو
جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر
اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں
اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر
دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا
خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر
خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا
آیا ہے اتنے دور تو علویؔ سوال کر
وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں
اب اس عذابِ شب و روز سے بچاؤ ہمیں
کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے
نمودِ صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں
نہیں ہے خونِ شہیداں کی کوئی قدر یہاں
لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں
تمام عمر کا سودا ہے ایک پل کا نہیں
بہت ہی سوچ سمجھ کر گلے لگاؤ ہمیں
گزر چکے ہیں مقامِ جنوں سے دیوانے
یہ جان لینا اگر کل یہاں نہ پاؤ ہمیں
ہمارے خوں سے نکھر جائے غم تو کیا کہنا
بڑھاؤ دستِ ستم ، دار پہ چڑھاؤ ہمیں
کرشمہ سازئ فکر و نظر سے کیا حاصل
بنے ہو خضر تو پھر راستہ دکھاؤ ہمیں
یہ لمحہ بھر کا تصور تو جان لیوا ہے
جو یاد آؤ تو تا عمر یاد آؤ ہمیں
کتابِ عشق ہیں لیکن نہ اتنی فرسودہ
کہ بے پڑھے ہی فقط میز پر سجاؤ ہمیں
اجڑ نہ جائے عروسِ سخن کی مانگ کہیں
خیال و فن کی نئی جنگ سے بچاؤ ہمیں
منظر ایوبی
"اک بار کہو تم میری ہو"
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کی پھانس لیے من میں
کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا روپ لٹاتا ہو
جب سورج دھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دل میلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
کیا جھگڑا سود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا روپا لے جائے
سب دنیا، دنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ابنِ انشاء
یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے
یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے
کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جوں عام تھے مجھے کھا گئے
میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے
وہ جو مجھ میں ایک اکائی تھی وہ نہ جڑ سکی
یہی ریزہ ریزہ جو کام تھے مجھے کھا گئے
یہ عیاں جو آب حیات ہے اسے کیا کروں
کہ نہاں جو زہر کے جام تھے مجھے کھا گئے
وہ نگیں جو خاتم زندگی سے پھسل گیا
تو وہی جو میرے غلام تھے مجھے کھا گئے
میں وہ شعلہ تھا جسے دام سے تو ضرر نہ تھا
یہ جو وسوسے تہہ دام تھے مجھے کھا گئے
جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خندہ سلام تھے مجھے کھا گئے...
خورشید رضوی
خیال کی طرح چپ ہو، صدا ہوئے ہوتے
کم از کم اپنی ہی آوازِ پا ہوئے ہوتے
ترس رہا ہوں تمہاری زباں سے سننے کو
کہ تم کبھی مرا حرفِ وفا ہوئے ہوتے
عجیب کیفیتِ بے دلی ہے دونوں طرف
کہ مل کے سوچ رہے ہیں، جدا ہوئے ہوتے
بہت عزیز سہی ہم کو اپنی خود داری
مزہ تو جب تھا کہ تیری انا ہوئے ہوتے
یہ آرزو رہی اپنی جو عمر بھر کے لیے
تری زباں پہ رہے وہ مزہ ہوئے ہوتے
سموم کی طرح جینے سے فائدہ کیا ہے
کسی کے واسطے بادِ صبا ہوئے ہوتے
ہمیشہ مائلِ حُسنِ بتاں رہے آذر
کبھی تو قائلِ حُسنِ خدا ہوئے ہوتے
راشد آزر
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا
اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں
تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا
دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا
اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں
تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا
چھپ چھپ کے روؤں اور سر انجمن ہنسوں
مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا
اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
عادی فنا کا تھا تو پجاری بقا کا تھا
ٹوٹا تو کتنے آئنہ خانوں پہ زد پڑی
اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا
حیران ہوں کہ وار سے کیسے بچا ندیم
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا
احمد ندیم قاسمی
از:-محیط ص ۱۱۷/۱۱۸
ہمیں دریافت کرنے سے، ہمیں تسخیر کرنے تک
بہت ہیں مرحلے باقی، ہمیں زنجیر کرنے تک
ہمارے ہجر کے۔ قصّے، سمیٹو گے تو لکھو گے
ہزاروں بار سوچو گے، ہمیں تحریر کرنے تک
ہمارا دل ہے پیمانہ، سو پیمانہ تو چھلکے گا
چلو دو گھونٹ تم بھر لو، ہمیں تاثیر کرنے تک
پرانے رنگ چھوڑو آنکھ کے، اک رنگ ہی کافی ہے
محبّت سے چشم بھر لو، ہمیں تصویر کرنے تک
ہنر تکمیل سے پہلے، مصور بھی چھپاتا ہے
ذرا تم بھی چھپا رکھو، ہمیں تعمیر کرنے تک
وہ ہم کو روز لوٹتے ہیں، اداؤں سے بہانوں سے
خدا رکھے! لٹیرے کو، ہمیں فقیر کرنے تک
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے
ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لیا اسے نادان تھا ضرور
جب چھوڑ کر گیا مجھے نادان تو نہ تھا
کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پوچِھیے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اس قدر میرا ایمان تو نہ تھا
رسماً ہی آ کے پوچھتا فاروقؔ حالِ دل
کچھ اس میں اس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا
فاروق روکھڑی
میرے پسندیدہ شاعر محسن نقوی کا آج 15 جنوری کو یومِ وفات ہے۔
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں
میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر
پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
اچھی لگتی نہیں اس درجہ شناسائی بھی
ہاتھ ہاتھوں سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں
رونے والوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں
اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن
میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
محسن نقوی
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے مہکتی راتیں
وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکھنا
گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا
وہ آرزوؤں کے خواب بننا وہ قصۂ نا تمام لکھنا
مرے نگر کی حسیں فضاؤ کہیں جو ان کا نشان پاؤ
تو پوچھنا یہ کہاں بسے وہ کہاں ہے ان کا قیام لکھنا
گئی رتوں میں حسنؔ ہمارا بس ایک ہی تو یہ مشغلہ تھا
کسی کے چہرے کو صبح کہنا کسی کی زلفوں کو شام لکھنا
حسن رضوی