آہ میری بڑی باجی اس طرح الٹی لیٹی ہو، اور کوئی حرامی تگڑا مرد ہمارے گھر گھس آئے، باجی پر چڑھ جائے اور مجھے پاس کرسی پر چاند دے، اففف باجی کو حرامی کے نیچے ایسا تڑپتا دیکھ کر میرا لؤڑا کھڑا ہو جائے مگر ہاتھ بندھے ہوں اور میں مٹھ نہ لگا سکوں فیر ایسے ہی پانی نکل جائے۔ اففف
آج بڑی باجی بغیر برا کے کچن میں کام کر رہی۔ اففف ممے بلکل تنے ہوئے اور کپڑے پسینے سے جسم سے چپکے ہوئے۔اور اوپر سے بغیر دوپٹے کے۔
32 سال کی عمر میں ایسے جلوے دکھا رہی کہ آج میں ایک ضروری کام چھوڑ کر مٹھ مارنے بیٹھ گیا۔
@IncestGfs اففف آج ایک ��و باجی کے مموں سے کہنی ٹچ ہوئی، اور باجی نے ایک دفہ دوپٹہ آتا کر صحیح کر کے پہنا تو کیا نظارہ تھا اور جب مموں سے کام کرتے ہوئے کہنی ٹچ ہوئی آہ۔
38 سال کی عمر میں اونچا قد، تگڑے چوتڑ اٹھی ہوئی بنڈ اور چوڑا سینہ،
مگر شوہر بد نصیب دوبئی اور آنکھیں غیر سیک رہے۔ اففف
@Abbasi_98765 اففف آج ایک تو باجی کے مموں سے کہنی ٹچ ہوئی، اور باجی نے ایک دفہ دوپٹہ آتا کر صحیح کر کے پہنا تو کیا نظارہ تھا اور جب مموں سے کام کرتے ہوئ�� کہنی ٹچ ہوئی آہ۔
38 سال ��ی عمر میں اونچا قد، تگڑے چوتڑ اٹھی ہوئی بنڈ اور چوڑا سینہ،
مگر شوہر بد نصیب دوبئی اور آنکھیں غیر سیک رہے۔ اففف
چھوٹی 17 سال کی بہن کا جب ایک مصلی سے دوستی کا پتہ چلا تو سبق سکھانے کے لیے پڑوسی رنڈوے عزیز انکل کے نیچے لٹا دی۔ پھر عزیز انکل نے ایسا سبق سکھایا کہ عمر بھر یاد رکھے گی اور غیر مرد سے بچے گی
چھوٹی بہن کو جب شہر میں کالج ہاسٹل بھیجا تو اس نے آنکھ مٹکا شروع کر دیا۔ خاندان کی عزت بچانے کا یہی راستہ تھا کے اسے سبق سکھایا جائے تو زبردستی اپنے ایک دوست کے نیچے لٹا دیا۔ دوست نے ایسا سبق سکھایا جو زندگی بھر یاد رکھے گی۔
دوسروں کی بہنوں کے مموں پر باتیں کرنے سے پہلے اپ کو اپنی بہن کےگانڈ مموں کا بغور جائزہ لے لینا چاہیے
کہ اُن کی گانڈ تھن دن بہ دن اتنے بڑے کیوں ہوتے جا ر��ے ہیں۔۔۔؟
17 سال کی بہن کالج بھیجی تو آنکھ مٹکا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے کہ ہماری عزت کی نیلامی کرے ��یں نے فوراً زبردستی ایک کالے کے نیچے پھینک دی تاکہ اسے سمجھ لگے کہ کچے جسم کو یہ دنیا کیسے نوچتی ہے۔
حرامی مردوں کو اندر گھسنے کی ضرورت نہیں، بدچلن باجی خود اپنی چدائی کی بھوک مٹانے باہر نکل جاتی ہے۔ اُس کے جسم کی بو ہی کافی ہے حرامیوں کو کھینچ لانے کے لیے۔ وہ تو دروازہ کھلا رکھتی ہے، بس کوئی آ کے ننگا کر دے
جب بہنیں ایسی الہڑ جوان ہوں تو بھائیوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں۔ گھر میں بہن کی ٹانگوں سے شہد چاٹنے کو ملتا تو باہر سبھی حرامی ان بھائیوں کو دوست بنانا شروع کر دیتے۔ چاپلوسی کی ہر حد پار کرتے تاکہ کسی طرح گھر میں داخل ہو سکیں
ھماری امی بہن بیٹیوں تک پہچنے والے مردوں کو کئی بار ھم خود ان تک لے آتےھیں ھمارے قریبی دوست جن کو ھم کبھی بھی گھرمیں آنے جانے کی اجازت دیتےھیں وہ کبھی گھر کی میچور تو کبھی کچی کلیوں تک پہنچ جاتے ھیں اور ھم بعد میں پچھتاتے ھیں
بھینس، گائے، بھیڑ، بکری کی اپنی کوئی مرضی نہیں ھوتی۔ ڈیرے کا مالک اپنی پسند کا سانڈ، بیل، بکرا لا کر اس پر چڑھاتا ھے۔ اگر بھینس، گائے، بھیڑ، بکری کا قد ذیادہ ھو تو بڑے قد کا سانڈ، بیل بکرا منگوا لیا جا��ا ھے۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی 90 فیصد عورتوں کی شادیاں ڈیرے کا مالک طے کرتا