“سرائیکی کوئئ زبان ہی نہیں ہے۔میں شاہ پور سرگودھا کا ہوں ۔میری مادری زبان پنجابی ہے۔میں اپ��ی مادری زبان پرکسی بدنییت،متعصب غیرمقامی ،کسی پناہگیر کو سرائیکی کا لیبل لگانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا ۔کسی کا باپ بھی پنجاب کی زبان اور پنجابیوں کی نسل نہیں بدل سکتا ۔پنجابی کے ملتانی، ریاستی، ڈیروی لہجہ ملاکر گھڑی گئی جعلی زبان ہے،مقصد پناہگیروں قبضہ گیروں کا پنجاب کی سرزمین ،وسائل اور دریاؤں پر قبضہ ہے "سما کے ٹاک شو میں پی ہی کے قمرالزمان کائرہ،ن لیگ کے زعیم قادری پر غشی کے دورے ،محمد علی درانی کی خاموشی اور اینکر فریحہ ادریس شاک میں ۔تھرتھلی پے گئی۔سچ زہر ہوتا ہے ۔برداشت نہ کرسکے کہوٹ کو وقفہ کے بعد باقی کےشو سے کاٹ دیا گیا۔پنجابی زبان کے خلاف قومی میڈیا کا امتیازی سلوک قابل مذمت ہے۔پاکستان کےآئین ،قانونی اور پنجابی اکثریت کے بنیادی آئینی ، قانونی ، جمہوری ، انسانی اور پیدائشی حق کے تحت پنجابی کو پنجاب کی تعلیمی ، سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان کے طور پر نافذ کیا جائے ۔
پنجاب ہمیشہ بڑا بھائی کا کردار بھی ادا کرے ۔
پنجاب ہمیشہ قربانی بھی دے ۔
پنجاب سب سے زیادہ ٹیکس بھی دے ۔
پنجاب ��ب سے زیادہ Deliver بھی کرے ۔
اور پھر باتیں بھی پنجاب کو تقسیم کرنے کی ہوں ایسا کیوں ؟
سندھ تقسیم نہیں ہو سکتا مگر پنجاب کو کردوں؟
کیوں؟
1962 میں ایک لہجے کو وکھری زبان قرار دینے سے آپ مامے چاچے نہیں بن جاتے اس خطے کے
سندھ کی طرح صدیوں سے یہ پنجاب کا حصہ ہے
پانچ دریاوں کی سرزمین میں یہ خطہ آتا ہے
صوبے بنانے ہیں تو سب بناو ورنہ خالی پنجاب دی ونڈ نامنظور