سورہ یس اور بعض دیگر سورتوں کے فضائل
سورۃ یٰسین جسے قرآنِ مجید کا دل کہا جاتا ہے اپنے اندر بے شمار فضائل و برکات، فوائد وثمرات اور بے پناہ منافع اور حکمتیں سموئے ہوئے ہے۔
سورہ یٰس کی برکات بے شمار ہیں، اسے قرآن کا دل کہا جاتا ہے اور اس کی تلاوت سے حوائج پوری ہوتی ہیں، دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے، اور یہ زندگی میں برکت لاتی ہے. یہ سورہ انسان کی غربت ختم کرتی ہے اور کاروبار میں برکت کا باعث بنتی ہے.
سورہ یٰس کے فضائل اور برکات:
قرآن کا دل:
سورہ یٰس کو قرآن کا دل قرار دیا گیا ہے جس کی تلاوت سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں.
حاجت روائی:
جو شخص دن کے شروع میں سورہ یٰس پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تمام حاجتیں پوری فرماتا ہے.
ثواب میں اضافہ:
سورہ یٰس کی تلاوت کرنے والے کو دس قرآن کی تلاوت کا ثواب ملتا ہے.
برکت اور غربت کا خاتمہ:
اس سورہ کی برکت سے گھر میں خیر و برکت آتی ہے اور غربت ختم ہوتی ہے.
ازل سے برکت:
اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق سے ہزار سال قبل سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰس کو پڑھا تھا، جس سے اس کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے.
عمل کرنے کا طریقہ:
سورہ یٰس کی آیت نمبر 15 کو سات بار پڑھیں اور اول و آخر تین بار درود شریف پڑھیں، اس سے کاروبار میں برکت آتی ہے، جیسا کہ ایک روایت میں ذکر کیا گیا ہے۔
فقط واللہ اعلم
سوال: سورہ یس کو ضروریات پوری کرنے اور معاملات آسان ہونے کی نیت سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: قرآن کریم کو پڑھنا ان امور میں سے ہے جو پڑھنے والے کیلیے الله تعالی کی طرف سے برکت، ثواب اور اجر کا باعث بنتے ہیں؛ سورتِ یس بھی ان سورتوں میں سے ایک ہے جن کے پڑھنے کی فضیلت میں متعدد احادیث آئی ہیں، حضرت معقل بن یسار رضی الله عنه سے روایت ہے نبی مکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: سورت یسین قرآن کریم کا دل ہے جو شخص بھی اسے اللہ تعالی رضا اور راہ آخرت کو حاصل کرنے کے لئے بڑھتا ہے اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور اسے اپنے مُردوں پر پڑھا کرو۔ (مسند احمد)
پس سورہ یس پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے اور قاری کیلیے الله کی طرف سے اجر عظیم ہے ، علماء کی ایک جماعت نے سورہ "یس" کی تلاوت کو غربت سے نجات ، پریشانیاں سے چٹھکارا اور وسعتِ رزق ، قرض کی ادائیگی اور چیزوں کے حصول اور اسی طرح دیگر امورِ خیر کی نیت سے پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور جس نے بھی اس یقین کے ساتھ سورہ یس پڑھی کہ الله تعالی اس تلاوت کی برکت سے میری حاجت پوری فرما دے گا تو الله کے حکم سے وہ اپنی مراد کو پا لے گا۔
دار الافتاء مصر
ایک اور روایت میں ہے سورہ یس کے 10 فضائل منقل ہیں جو یہ ہے کہ
’’جو شخص سورۂ یٰسین کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہے اور جو راستہ گم ہو جانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جو جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھے تو وہ جانور کو پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانے کا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہوجاتا ہے اور جو ایسے شخص کے پاس پڑھے کہ جو نزع (جان کنی)کی حالت میں ہو تو اُس پر نزع میں آسانی ہوجاتی ہے اور جو ایسی عورت پر پڑھے کہ جس کے بچہ ہونے میں دُشواری ہورہی ہو تو اُس کے بچہ جننے میں سہولت ہوتی ہے‘‘ ۔ حضرت مقریؒ کہتے ہیں کہ’’جب بادشاہ یا دُشمن کا خوف ہو اور اُس کیلئے سورۂ یٰسین پڑھے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے‘‘۔
امام اسحاق تجیبی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ جب بھی آپ ﷺ کا ذکر کرتے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ رونے لگتے!
(الشفاء : 26/2)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ جو مسلمان نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے؛ تو الله عزوجل اس کے دل کو منور کر دیتا ہے، اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، اس کا سینہ کھول دیتا ہے، اور اس کے معاملات آسان کر دیتا ہے۔
(بستان الواعظين : 297)
امام سخاوی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیجنا بابرکت ترین، بہت فضیلت والے اور دین و دنیا کیلئے بہت نفع بخش کاموں میں سے ہے۔!
(القول البديع : 109)
امام ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے۔
[بذل الماعون : ٣٣٣]
حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنی سانسوں کے برابر رسول ﷲ ﷺ پر درود بھیجے تو بھی آپ ﷺ کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتا!
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ذکر اور درود (شریف) کی کثرت فقر غربت دور کرتی ہے۔
(جلاء الافہام:۲۳۵)
امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ پر درود دعا کی قبولیت کا سبب اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ اس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ بندے کو اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور درود ہی کی برکت سے انسان کو روزِ قیامت نبی رحمت ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔
(جلاء الأفهام : ٤٤٥/١)
امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں:
نفس درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتا تاوقتے کہ نبی کریم ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے جو آپ ﷺ کی محبت اور اتباع کا ایک لازمی تقاضا ہے!
(جلاء الأفهام، ص٤٢٠)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ اے مومن مردو اور عورتو! اللہ سےڈرو اور اپنے محبوب محمد ﷺ پر تمام دنوں اور لمحوں میں کثرت سے درود بھیجا کرو۔ امید ہے کہ اللہ تمہیں (قیامت کی) ہولناکیوں، آفتوں او رعذاب و عقاب سے نجات دے گا اور اس دن بلند جنتوں میں داخل کرے گا جس دن زمین اور آسمان بدل دیے جائیں گے۔
[بستان الواعظين، ص: 281]
روزانہ صبح و شام کم از کم 100 مرتبہ درود شریف پڑھنے کو معمول بنائیں۔
اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارک وسلم
جزاک الله
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ یعنی جمعرات غروبِ آفتاب سے لے کر جمعہ کا سورج ڈوبنے تک مجھ پر درود پاک کی کثرت کر لیا کرو، جو ایسا کرے گا قیامت کے دن میں اس کا شفیع و گواہ بنوں گا۔
(شُعَبُ الْاِیمان جلد:۳، صفحہ:۱۱۱، حدیث۳۰۳۳)
(https://t.co/1mFm1KwNHp)
کثرت درود شریف کی مقدار کے بارے میں حضرات علماء کرام کے تین (3) اقوال ہیں۔
1: جمرات کے دن مغرب کے وقت سے جمعہ کے دن سورج غروب ہونے تک کم از کم تین سو (300) مرتبہ درود شریف پڑھنا، یہ ادنٰی درجہ ہے۔
2: ایک ہزار (1000) مرتبہ پڑھنا، یہ درمیانہ درجہ ہے۔
3: تین ہزار (3000) مرتبہ پڑھنا، یہ اعلٰی درجہ ہے۔
(جمعہ کے معمولات)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ والے دن اور شب جمعہ مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی 100 ضروریات ان میں سے 70 آخرت میں جب کہ 30 دنیا میں پوری فرماتا ہے۔“
(فضائل الاوقات للبیہقی)
حضرت ابو الدرداء ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر صبح و شام دس، دس مرتبہ درود بھیجےگا تو قیامت کے روز میں اس کا سفارشی بن جاؤں گا۔ اور سب سے افضل درود یہ ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
[الترغیب والترھیب]
جزاک اللہ خیرا
https://t.co/hRamIf4G2h
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ جو شخص روزانہ کم از کم ایک ہزار مرتبہ استغفار کرے اور چالیس دن میں کوئی ناغہ نہ کرے، مکمل چالیس دن پورے ہوجائے اور اس نے کسی دن بھی ہزار سے کم استغفار نہیں پڑھا، اکتالیس ویں دن اس کے تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔ اللہ رب العالمین اس کی پریشانیاں دور کردے گا، اس کی دعا قبول کرلے گا، الحمدللہ رب العالمین!
شیخ التفسیر حضرت مفتی زر ولی خان صاحب رحمہ اللّٰہ
اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ کل ذَنبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْه
40 دن تک روزانہ 1000 مرتبہ پڑھنے کی یاد دہانی
38/41
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن کے اول حصّے میں سورۃ یٰس پڑھ لیتا ہے اس کی پورے دن کی ضروریات پوری کردی جاتی ہیں۔
(سنن الدارمي، المعجم الأوسط للطبراني)
*طریقۂ دُعا بعد از تلاوت سورۂ یٰسین*
جب تلاوت کرلے تو درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب حضور ﷺ کی روح مبارک کو ایصال کردے پھر یوں دعا کرے کہ اے اللہ! ہم نے آپ کے قرآن پاک کے قلب کی تلاوت کی ہے، اس کی برکت سے ہمارے دل کو اللہ والا بنا دیجئیے اور ہمارا نام عالمِ غیب میں شریفوں کے ساتھ درج فرما دیجئیے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں ہم پر عام فرما دیجئیے کہ اس سورت کا نام ’’معمّہ‘‘ ہے اور ہماری تمام بلائیں اور پریشانیاں دور فرما دیجئیے کہ اس کانام ’’مدافعہ‘‘ ہے اور اس کی برکت سے ہماری تمام حاجتیں پوری فرما دیجیے کہ اس کا نام حضور ﷺ نے ’’قاضیہ‘‘ بھی فرمایا ہے۔
کوئی دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے
اور اگر اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
ہر رات یہ موقع ہرگز ضائع نہ کریں!!!
#مسنون_دعائیں#مسنون_اعمال#رات
کوئی دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے
اور اگر اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
ہر رات یہ موقع ہرگز ضائع نہ کریں!!!
#مسنون_دعائیں#مسنون_اعمال#رات
🌿 عرشِ الٰہی کو جھومنے پر مجبور کرنے والے عظیم صحابیؓ 🌿
اسلام کی تاریخ میں کچھ ایسی ہستیاں گزری ہیں جن کے ایمان، اخلاص اور قربانی نے انہیں ایسا بلند مقام عطا کیا کہ ان کا ذکر آسمانوں تک پہنچ گیا۔ انہی خوش نصیب شخصیات میں حضرت سعد بن معاذؓ کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپؓ انصار کے عظیم سردار، رسول اللہ ﷺ کے مخلص ساتھی اور دینِ اسلام کے لیے ہر لمحہ اپنی جان قربان کرنے والے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ کی زندگی ہمیں وفاداری، سچائی، جرأت اور اللہ و رسول ﷺ سے بے مثال محبت کا درس دیتی ہے۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، جب حضرت سعد بن معاذؓ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی وفات پر **عرشِ الٰہی خوشی سے جھوم اٹھا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور فرشتوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔** یہ وہ عظیم اعزاز ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا، اور یہ ان کے اخلاص اور بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔
حضرت سعد بن معاذؓ نے غزوۂ خندق کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ کی وفات اسلامی ریاستِ مدینہ کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، حق کی حمایت اور رسول اللہ ﷺ کی نصرت میں گزار دی، اسی لیے آپؓ کا نام تاریخِ اسلام میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں حضرت سعد بن معاذؓ کے فضائل کئی مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے جنتی مقام کی خوشخبری بھی عطا فرمائی اور فرمایا کہ اگر کسی کو قبر کی تنگی سے مکمل نجات مل سکتی تو حضرت سعد بن معاذؓ اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔ یہ ارشاد اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ قبر کا مرحلہ ہر انسان کے لیے اہم ہے، اس لیے ہمیں اپنی آخرت کی تیاری میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
حضرت سعد بن معاذؓ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت، حسب و نسب یا دنیاوی دولت سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص، تقویٰ اور دین کے لیے قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ہم بھی اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، سچائی اور انصاف پر قائم رہیں اور دین کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی رحمتوں سے نوازے گا۔
🌸 **سبق:** دنیا کی اصل کامیابی شہرت یا دولت نہیں بلکہ وہ مقام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ حضرت سعد بن معاذؓ کی مبارک زندگی ہمیں اخلاص، وفاداری، دین سے محبت اور آخرت کی تیاری کا بہترین درس دیتی ہے۔
✍️ **محمد ثاقب جیلانی**
#حضرت_سعد_بن_معاذ #صحابہ_کرام #اسلامی_تاریخ #حدیث #سیرت_صحابہ #اسلامی_معلومات #دینی_سبق #Muslim #IslamicHistory #Hadith #Sahaba #IslamicReminder #MSJourney
میں حضور پاکؐ کو جانتا ہوں!
کنہیا لال گابا علامہ اقبال کے جاننے والوں میں سے ایک ہندو بیرسٹر تھے۔ علامہ کی تحریک پر انہوں نے 1932 میں اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام خالد لطیف گابا (کے ایل گابا) رکھا۔ انہوں نے رسول پاکؐ پر ایک شہرہ آفاق کتاب "پیغمبرِ صحرا" لکھی۔ ان کے قبول اسلام سے ہندوستان میں کھلبلی مچ گئی۔
انہیں گرفتار کرکے جھوٹا مقدمہ بنوادیا گیا لیکن وہ اسلام پر ڈٹے رہے۔ مقدمہ چلا تو ایک انگریز جج نے ڈیڑھ لاکھ (آج کے پانچ کروڑ) روپوں کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی۔ یہ بہت بڑی رقم تھی جو مسلمان چندہ مہم چلانے کے باوجود اکٹھی نہ کرسکے۔ ہر طرف مایوسی طاری تھی کہ یکایک سیالکوٹ کے ملک سردار علی عدالت پہنچے اور بنا کوئی سوال کئے کے ایل گابا کی ضمانت کےلئے مچلکے بھردئیے۔ لاہور کے ہندو ڈپٹی کمشنر نے ڈرایا دھمکایا کہ ملک صاحب بیوقوفی نہ کریں یہ کے ایل گابا بھاگ گیا تو آپ کی جائیداد ضبط ہوجائے گی۔ یہ سن کر ملک سردار علی کی آنکھیں بھیگ گئیں ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ بمشکل جواب دیا کہ تم ڈیڑھ لاکھ کی بات کرتے ہو میں تو اس شخص کےلئے اپنا تمام مال دینے کےلئے تیار ہوں۔ جب ملک صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ گابا کو ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ اسکی شخصی ضمانت دینے آگئے۔ انہوں نے جواب دیا
میں تو گابا کو نہیں جانتا میں تو اپنے حضور پاکؐ کو جانتا ہوں جو میرے خواب میں آئے اور مجھے حکم دیا کہ سردار علی کوئی کوتاہی نہ کرنا جاؤ اور گابا کی ضمانت کرواؤ، اس نے میرے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ سبحان اللہ۔
عشق امتحان ضرور لیتا ھے
امام اسحاق تجیبی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ جب بھی آپ ﷺ کا ذکر کرتے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ رونے لگتے!
(الشفاء : 26/2)
(https://t.co/nm0yU6o7Xp)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ جو مسلمان نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے؛ تو الله عزوجل اس کے دل کو منور کر دیتا ہے، اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، اس کا سینہ کھول دیتا ہے، اور اس کے معاملات آسان کر دیتا ہے۔
(بستان الواعظين : 297)
امام سخاوی ؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیجنا بابرکت ترین، بہت فضیلت والے اور دین و دنیا کیلئے بہت نفع بخش کاموں میں سے ہے۔!
(القول البديع : 109)
امام ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے۔
[بذل الماعون : ٣٣٣]
حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ اگر انسان اپنی سانسوں کے برابر رسول ﷲ ﷺ پر درود بھیجے تو بھی آپ ﷺ کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتا!
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ذکر اور درود (شریف) کی کثرت فقر غربت دور کرتی ہے۔
(جلاء الافہام:۲۳۵)
امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ پر درود دعا کی قبولیت کا سبب اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ اس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ بندے کو اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور درود ہی کی برکت سے انسان کو روزِ قیامت نبی رحمت ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔
(جلاء الأفهام : ٤٤٥/١)
امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں:
نفس درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتا تاوقتے کہ نبی کریم ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے جو آپ ﷺ کی محبت اور اتباع کا ایک لازمی تقاضا ہے!
(جلاء الأفهام، ص٤٢٠)
امام ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ اے مومن مردو اور عورتو! اللہ سےڈرو اور اپنے محبوب محمد ﷺ پر تمام دنوں اور لمحوں میں کثرت سے درود بھیجا کرو۔ امید ہے کہ اللہ تمہیں (قیامت کی) ہولناکیوں، آفتوں او رعذاب و عقاب سے نجات دے گا اور اس دن بلند جنتوں میں داخل کرے گا جس دن زمین اور آسمان بدل دیے جائیں گے۔
[بستان الواعظين، ص: 281]
روزانہ صبح و شام کم از کم 100 مرتبہ درود شریف پڑھنے کو معمول بنائیں۔
اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارک وسلم
جزاک الله
حج نے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی پوری زندگی بدل ڈالی کراچی میں 5 سٹار ہوٹل کیلئے الگ کیا ہوا پانچ کنال زمین مسجد کے نام وقف کردیا رپورٹ کےمطابق حج سے واپسی کے بعد وسیم اکرم نے اپنی پانچ کنال زمین مسجد اور مدرسے کیلئے وقف کردیا گزشتہ روز اسی زمین پر ایک عالی شان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اس موقع پر پاکستان کے لیجنڈ کرکٹر انضمام الحق سعید انور محمد یوسف اور مشہور عالم دین مولانا طارق جمیل موجود تھے اس موقع پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ اس جگہ پر حج سے پہلے میرا ارادہ تھا ایک 5 سٹار ہوٹل بنانے کا لیکن حج نے میرا اردہ بدل لیا اور اسکی وجہ سعید انور بھی ہے میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش ڈال دی کہ میں ایک عالی شان جامع مسجد کی تعمیر کروں گا اور ساتھ میں ایک مدرسہ بھی بناوں تاکہ یہ میرے والدین کیلئے بخشش کا زریعہ بن جائے اس مسجد کیلئے میں نے پانچ کروڑ روپے الگ کرلی ہے اور جتنا بھی اس پرخرچہ آئے گاوہ میں ادا کروں گا اس مسجد کی ڈائزان ترکی میں بننے والی مساجد کی طرز پر ہوگا جس میں نمازیوں کیلئے تمام سہولتیں میسر ہوگی میں کچھ نہیں ہوں یہ اللہ تعالیٰ کاکرم اور سعید انور کی محنت ہے جس نے مجھے اس راستے کی طرف کھنچ لایا جہاں صرف سکون ہے
https://t.co/hRamIf4G2h
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے لکھا ہے کہ جو شخص روزانہ کم از کم 1000 مرتبہ استغفار کرے اور 40 دن میں کوئی ناغہ نہ کرے، مکمل 40 دن پورے ہوجائے اور اس نے کسی دن بھی 1000 سے کم استغفار نہیں پڑھا، اکتالیس ویں دن اس کے تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔ اللہ رب العالمین اس کی پریشانیاں دور کردے گا، اس کی دعا قبول کرلے گا، الحمدللہ رب العالمین!
شیخ التفسیر حضرت مفتی زر ولی خان صاحب رحمہ اللّٰہ
#فضائل_استغفار #استغفار
اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ کل ذَنبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْه
40 دن تک روزانہ 1000 مرتبہ پڑھنے کی یاد دہانی
19/41