عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی خودمختاری اور حقیقی آزادی کی بات کی ہے
انہوں نے قوم کو شعور دیا کہ ایک مضبوط ملک وہی ہوتا ہے جو اپنے فیصلے خود کرے اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرے
ہمیں اپنے حق اور اپنے پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا
وفا کا نام ہے عمران امیدوں کی پہچان
پی ٹی آئی کے کارکن ہیں پاکستان کی جان
ظلم کے آگے جھکنا ہم نے سیکھا ہی نہیں
حق کی خاطر لڑتے رہنا یہی ہے اپنا یقین
سبز و سرخ یہ پرچم دلوں میں جوش جگاتا ہے
ہر سچا پاکستانی اس سے عشق نبھاتا ہے
الیکشن کمیشن نے ایک گاؤں میں فارم 47 جاری کیا،
گاؤں والے حیران:
"ہم نے تو ووٹ بھی نہیں دیا، یہ نتیجہ کیسے آیا؟"
الیکشن کمیشن:
"چپ کر جاؤ! تمہارے ووٹ نہ دینا ہی تمہاری رضامندی سمجھی گئی!"
"جنگ میں فائدہ صرف جرنیلوں اور حکمرانوں کا ہوتا ہے، جانیں تو صرف غریب عوام کی جاتی ہیں۔جنگ نے جرنیل حافظ کو فیلڈ مارشل بنا دیا، اور غریب سپاہی کو قبر کا پتہ بھی نہ ملا
"اگر ظالم اتنا طاقتور ہے کہ حق کی آواز کو جیل میں ڈال سکتا ہے،
تو یاد رکھو!
عوام اتنی غیرت مند ہے کہ اسے تاریخ میں عبرت بنا سکتی ہے۔
عمران خان قید ہے، مگر عوام جاگ چکی ہے!"
عمران خان کی جیل میں 6سو دن مکمل ہو چکے ہیں، اور یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کاایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ ایک ایسا لیڈر، جسے عوام نے بے پناہ محبت اور ووٹوں سے نوازا، آج انصاف کے لیے لڑ رہا ہے۔ اگر جرنیل اور طاقتور حلقے ملکی مفاد کے بجائے عوامی امنگوں کا احترام زیادہ پرعزم نظر آ رہے ہ