میں محمد امجد اقبال یہ ایمان رکھتا ہوں کہ #شان_حبیب_کبریا ﷺ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو خاتم النبیین بنا کر نبوت کا سلسلہ آپﷺ پر ختم کردیا۔ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جو یہ دعوی کرے وہ جھوٹا اور کذاب ہے
آپ بھی میرے نام کی جگہ اپنا نام لکھ کر ٹویٹ کریں
الحمدللہ باری اور رابعہ کو انکے والد اور دو بھائیوں کے ساتھ کاغان روانہ کردیا۔
انیس سال قبل ماں کے ساتھ بچھڑنے والے بچے آج خاندان کو مل گئے ۔
بچوں کی ملاقات کل والد کے ساتھ ہوگئی تھی۔ہم اس موقع پر جا تو نہیں سکے تھے کیونکہ ہمارا ایک اور کیس مس ہورہا تھا۔
رات یہ ہمارے مہمان تھے،آج دوپہر کے وقت انکو ہم اڈے لیکر گئے پانچوں کی ٹکٹ ہم نے از خود کرواکر گاڑی میں بٹھاکر مانسہرہ روانہ کردیا۔ مانسہرہ سے پھر یہ اپنے گاوں جائیں گے۔روانہ ہوتے ہوئے باری اداس چہرے کے ساتھ بزبان حال یہ التجا کررہا تھا کہ "میری ماں کو بھی ڈھونڈیں"
ہم نے انکا انٹرویو کیا ہے ابھی سات بجے ہمارے چینل پر اپلوڈ ہوگی ضرور دیکھئےگا۔
#waliullahmaroof
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایرانی امریکیوں کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں تو شاید آپ صحیح ہیں مگر فق۔ دو باتیں یاد رکھیں ایک کُھلے دماغ کے ساتھ۔
۱۔ آج تک امیریکیوں کے ساتھ کوئ کھیلا نہیں۔ مگر ایرانی کھیل رہے ہیں۔
۲۔ اور یہ کھیل ایرانی تب ہی جیت گئے تھے جب ایرانیوں نے اعلان کیا تھا کہ ہم امام حُسین علیہ السلام کے ماننے والے ہیں اور یہ سر قلم ہو سکتے ہیں مگر یزید کے آگے جُھک نہیں سکتے۔
میرا گھر ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔!!
اس نوجوان کا نام شان یا شانی ہے۔والد کا نام بشیر یاد ہے۔والدہ کا یاد نہیں ہے۔
شان کا کہنا ہے کہ میں ایک روز گھر سے باہر نکل کر ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ گھر جانے کے لئے راستہ بھول گیا۔
ایک شخص مجھے اپنے گھر لےگیا وہاں تین دن تک مجھے رکھا۔
میری تصویریں بنائیں اور پھر مجھے تین روز بعد ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا۔
ملتان سے پھر مجھے کراچی لایا گیا۔
مجھے اپنا شہر تاندلےوال یا تاندلا یاد ہے (جب ہم نے سرچ کیا تو تاندلیانوالہ میپ پر ملا)۔
تین بھائی اور تین بہنیں تھیں انکے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
گھر کے پاس ایک طرف کھیت اور ایک طرف باڑا تھا۔
میں نے ہوش سنبھال کر اپنی فائل نکال کر چیک کی تو اسمیں میرے داخلے کا سال 2006 لکھا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بھی بہن بھائی ہوں امی ابو ہو۔ میں بھی لاوارث نا کہلاؤں۔
خدارا مجھے میرے پیاروں سے ملائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپ کا ایک شئیر کسی اداس ماں کو خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 june 2026
#waliullahmaroof
الحمدللہ باری کا خاندان مل گیا ۔ کچھ دیر قبل والد اور بھائی سے بات کروائی۔
والد خالص ہندکو بول رہا جو بیٹے کے سر کے اوپر سے گزرا۔
باری اردو بولتا ہے اپنی زبان نہیں آتی۔
انکا تعلق کاغان سے ہے
ان شاء اللہ جلد انکی ملاقات ہوگی
#waliullahmaroof
ایک صاحب نے رابطہ کرکے اس اللہ والے کا کیس دیا ہے۔
آج جمعے کا بابرکت دن ہے شئیر کریں اور اس کی خوب دعائیں سمیٹیں۔
انکا کہنا ہے کہ:
""السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ولی اللہ بھائی خیریت سے ھیں اللہ تعالیٰ آپکوسلامت رکھے۔آپ
میرا تعلق پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ سےھے۔
یہاں سے آپ سے متعلقہ ایک کیس آپ کا منتظر ھے۔
تفصیلات درج ذیل ھیں۔
ایک لڑکا جو ھمارے یہاں کسی کے پاس عرصہ 18 سال سے ھے۔
یہ ذہنی طور پر ذرا کمزور ہے۔ہم نے اس سے تفصیلات معلوم کیں تو انہوں نے
اپنا نام۔۔ امجد
والد کانام۔۔ ارشد
والدہ کانام۔۔حمیداں
ایک بہن ھے جس کانام علم نہیں
بکر منڈی لاھور سے تعلق بتاتا ہے۔
والد کرین ڈرائیوری کام کرتاتھا۔
سائیں ٹائپ بندہ ھے۔۔'
یہ کیس اتنا مشکل تو نہیں ہے لیکن شاید اللہ نے ہمارے ذریعے اپنوں سے ملانا تھا۔
جو علاقہ بتایا ہے وہاں کے تمام دوست اپنے ہاں خوب شئیر کریں تاکہ ایک ماں کو اپنا بچھڑا ہوا لخت جگر جلد از جلد مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
12 june 2026
#waliullahmaroof
اس بچے کے ورثاء کی تلاش کے لئے ہم نے چند روز قبل پوسٹ لگائی تھی لیکن تاحال ورثاء نہیں ملے۔
بچہ کراچی ملیر پولیس کو ملا تھا ،اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظت میں ہے۔
بچہ جب ملا تھا تو کانوں سے سنتا نہیں تھا۔
چائلڈپروٹیکشن کی انتظامیہ نے ڈاؤ اسپتال سے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا بچے کو آلہ لگایا جائے تو سننے کے قابل ہوسکتا ہے۔
پہلے ڈیوائس کی قیمت پچاس ہزار بتائی گئی تھی۔ لیکن پھر معلوم ہوا وہ سب سے ہلکی کوالٹی ہے جسمیں شور ہوتا ہے آواز صاف نہیں رہتی۔
گزشتہ کل ہم چائلڈ پروٹیکشن عملے کے ساتھ کلینک گئے وہاں اچھی ڈیوائس کا انتخاب کیا جسکی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپے بعد از ڈسکاؤنٹ طے ہوا۔
الحمدللہ دوستوں کی مدد سے پیسے مکمل ہو گئے۔ کل بچے کی ناپ لی گئی ان شاءاللہ ایک ہفتے بعد تیار ہوکر لگے گی۔
بچے کو جب آزمائش کے لئے آلہ لگا تو چہرے کے تاثر سے پتہ چلا کہ پہلی بار کچھ سننے کو ملا ہے۔
ڈاکٹر کے بقول ڈیوائس لگنے کے چند ماہ بعد بچہ رسپانس کرےگا جب وہ سن کر کچھ الفاظ سیکھےگا۔ اس پر خصوصی محنت کی ضرورت ہے کوئی ٹیچر اسکے ساتھ باتوں میں مصروف رہے گا تو یہ بات کرنا سیکھےگا ورنہ نہیں۔
اس بچے کی پوسٹس ہر جگہ چلی ہیں لیکن ورثاء نہیں مل رہے۔
بچہ ماشاءاللہ بہت پیارا اور معصوم ہے۔
اگر بالفرض ورثاء نے بوجھ سمجھ کر اس پھول جیسے بچے کو چھوڑا ہو اور ہمارا یہ پیغام ان تک پہنچ رہا ہو تو وہ یاد رکھیں کہ کل قیامت کے روز یہ تم سب کو گریبان سے پکڑ کر سوال کرےگا کہ اتنی ننھی عمر میں مجھے کیوں دربدر کیا؟
خدارا اب بھی وقت ہے اپنی آخرت بچائیں آکر بچہ لیکر جائیں
#waliullahmaroof
اس نوجوان کا نام نعمان ہے والد کا نام وسایا ہے۔
نعمان آج سے تقریبا 23 سال قبل چار سال کی عمر میں اپنے گھر سے والوں سے بچھڑ گیا تھا آج تک ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا ہے۔
نعمان کا کہنا ہے کہ انکو اپنے والد کا نام وسایا یاد ہے والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔ دو بھائیوں عثمان اور رضوان کے نام یاد ہیں۔
بہنیں شاید چار تھیں انکے نام یاد نہیں ہیں۔
نعمان نے اپنے گم ہونے کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ملتان کے کسی اسپتال میں آیا تھا جہاں اسکی انگلی کا آپریشن ہونا تھا۔اسپتال سے باہر نکلا تو وہاں لاوارث سمجھ کر شیلٹر پہنچادیا گیا۔
دو تین سال ملتان کے شیلٹر میں رہا۔پھر سال 2006میں کراچی منتقل کیا گیا۔
نعمان کا کہنا ہے کہ ہماری رہائش بھی شاید ملتان میں تھی۔
نعمان اس وقت بھری جوانی میں لاوارث ہے۔اپنوں کے پیار سے محروم ہے۔فیکٹریوں میں کام کرکے وہیں سنسان کمروں میں راتیں گزارتا ہے۔ راتوں کو اٹھ کر ماں باپ اور بہن بھائیوں کو یاد کرکے روتا ہے۔ زندگی کے چاروں طرف تاریکیاں ہیں۔
نعمان چاہتا ہے کہ اسے اسکے ماں باپ اور بہن بھائی ملیں۔اور اذیت ناک تنہائی سے جان چھوٹے۔
آپ کا ایک شئیر نعمان کی زندگی سنوار سکتا ہے۔اسکی آنکھوں سے مایوسی کے پردے دور کرسکتا ہے۔
خوب زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 june 2026
#waliullahmaroof #Multan #punjab #pakistan #MissingChild
اب چونکہ اس کیس کے مرکزی مجرم سید عون علی نقوی کا تعلق ماڈل ٹاون لاہور کی تگڑی سید فیملی سے ہے
اس لئے اشرافیہ کے اس بگڑے رئیس زادے کی دفعہ CCD اس کے نیفے میں پستول نہیں چلائے گی ۔
بلکہ واقعے کو کوئی اور رنگ دے کر فائل ٹھپ کردی جائے گی۔
آج اسلام آباد سے کراچی پہنچتے ہی ہم سیالکوٹ کے قوت سماعت و گویائی سے محروم محمد صدام کو اسکے گھر پہنچانے روانہ ہوچکے ہیں۔
سیالکوٹ کی ٹرین نہیں ملی تو ہم نے فیصل آباد کی ٹرین پکڑی ہے ان شاءاللہ فیصل آباد سے پھر سیالکوٹ جائیں گے۔
ان شاءاللہ 23 سے 24 سال بعد ایک بیٹا اپنی ماں کو ملےگا۔
دعا کریں اللہ خیر و عافیت کے ساتھ یہ سفر مکمل فرمائے۔آمین
#waliullahmaroof
فیصل آباد کے حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ رہائشی علاقوں میں کبوتروں کے بڑے پنجرے ختم کروائے جائیں۔ ان کی وجہ سے خواتین کو اپنے گھروں اور چھتوں پر روزمرہ معمولات انجام دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ شہریوں کے سکون، صفائی اور پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ #Faisalabad #شہری_مسائل
@DCFaisalabad@CMComplaintCell
یہ بچہ دسمبر 2025 کو کراچی میں لاوارث ملا تھا۔ اپنا نام یا دیگر معلومات بتانے سے قاصر ہے۔
بچہ اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ بہت کوشش کی گئی لیکن ورثاء نہیں ملے۔ برائے مہربانی بچے کو ماں کے آغوش تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔اس عمر میں ماں باپ سے دور ہونا بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور کریں شاید آپ برداشت نا کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829
نوٹ: برائے مہربانی گود لینے کے
خواہشمند بالکل بھی رابطہ نا کریں۔
2 jun 2026
#waliullahmaroof
A humble request to the owners of #jalalsons in #Lahore .. I was waiting outside one of your stores where I saw the foodpada rider standing outside on the steps at arpund 3PM today. The temperature was 42° and it was extremely hot. When the rider arrived to collect the order he was assigned, the guard did not allow him to enter the store. Why? Why was he asked to stand outside and wait while his order is prepared? I stayed outside to watch this all. The person with him came out twice to confirm the order and kept him waiting in the sun. No shade. No relief from thr heat. He asked for water and was declined rather snubbed. This is inhuman and racist behavior. Koi khuda ka khouf karein.
دل تھام کے پڑھئے!
عمران سے ملاقات کرکے جب میں نے انکی زبانی انکی داستان سنی تو واللہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا،رات بھر مجھے ان دو ننھے منے بہن بھائی پر گزرے وقت کی داستان سن کر بہت رویا۔
یہ سال 2009 کی بات ہے،نیچے جو تحریر کاپی کی ہے یہ عمران کا لکھا ہوا ہے:
"میرا نام عمران ھے اور میری بہن کا نام لا ئبہ(اصل نام اسماء) ھے
ھم دونوں جب گھر سے نکلے تھے تب میری عمر چار۔ بہن چھ سال کی تھی۔
ہمارے گھر میں ماں باپ کے درمیان کوئ جھگرا ہوا،ماں ھم دونوں کو لیکر گھر سے نکل گئ ۔
تب رات زیادہ ہونے کی وجہ سے ھم فت پاتھ پر ہی سو گئے۔
جب آدھی رات میں آنکھ کھلی تو ماں نہیں تھی،میں اور بہن روتے روتے ڈرتے سہمتے سوگئے۔
صبح اٹھ کر پھر رونے لگے ۔
وہاں تین آدمی أئے انہوں نے ہمے ناشتہ کروایا ۔
ایک آدمی ھم دونوں کو اپنے گھر لے گیا،انہوں نے کئ روز ہمیں اپنے پاس رکھا ۔
ایک دن ایک بندہ آیا اور ان سے بولا یہ دونوں بچے مجھے دیں دے آپ،پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لیکر اپنے گھر لے آیا۔
وہ ہم پر ظ*لم کرتا اور گھر کے کام کرواتا تھا۔
جسکی وجہ سے ایک خاتون نے ہمیں کورنگی کے ایک شیلٹر میں داخل کرادیا ۔
مجھے تب اپنا نام بھی سہی سے یاد نہیں تھا ۔
میری بہن کہتی کہ اس نام اسماء ھے اور والد کا نام برھان ہے ۔
مجھے بس اتنا یاد ھے کہ ہمارے ابو ہمیشہ ٹوپی اور شلوارکمیز پہنے تھے ۔
کبھی کبھی یاد آتا ہے ٹرین میں صفر بھی کیا ہے۔
اور سمندر بھی گئے ہیں ۔
ابھی میرا نام عمران اور میری بہن کا نام لائبہ رکھا ھے
بہن کا کہنا ہے کہ ہمارے بھائ بہن یا کزن بھی ہیں
وہ ہمارے گھر آتے رہتے تھے۔ مجھے کنفرم نہیں ہے کہ میرا نام شیلٹر مے رکھا ہے یا یہی اصلی نام ہے۔ اسماء نے کہا ہے کہ گھر میں بھی یہی نام ہے۔"
یہ دلخراش داستان جب عمران کے ساتھ بیٹھ کر انکی زبانی سنیں تھی تو میں بالکل ساکت ہوگیا تھا اور میں سب کچھ بھول گیا اور ان بہنوں پر گزرے حالات کے سوچ میں بالکل گم گیا۔
اور عمران نے جب یہ بتایا کہ "بہن سے ملنے جاتا ہوں تو وہ بہت ہی حسرت کے ساتھ کہتی ہے بھائی گھر کا کچھ کرو نا""تو ایسے لگا جیسے کسی نے وار کردیا ہو دل پر۔
اگر کراچی کے دوست اس پوسٹ کو پورے شہر میں پھیلا دیں تو یہ دو بہن بھائی اپنے خاندان کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔انکی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
خدارا اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں تاکہ دو پھول جیسے بہن بھائی اپنوں سے ملیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
24 may 2026
#waliullahmaroof
گزشتہ سے پیوستہ۔۔!!
ان اماں جی کی پوسٹس اس سے قبل 2 بار ہم لگا چکے ہیں
الحمدللہ کافی پیشرفت ھوئی ھے اور کیس حل ہونے کے قریب پہنچ چکا ھے۔۔
اماں جی کا گاؤں شیخوپورہ کا گاؤں مہتہ سوجا ٹریس ھوا ھے جہاں کے نمبردار صاحب اور بزرگوں نے تصدیق کی ھے کہ یہ بچپن میں اس خاندان کی بچی گم ہوئی تھی۔۔۔ دادا، دادی اور چچا کے نام بالکل صحیح ھیں۔۔۔ لیکن بدقسمتی ھے کہ یہ خاندان کچھ مسائل کی وجہ سے اس علاقے سے جا چکا ھے اور مزید معلومات یا رسائی کسی گاؤں کے فرد تک نہیں ھے۔۔۔
آج خوش قسمتی سے ایک 95 سال کے بزرگ سے انکے بیٹے نے ہماری بات کروائی انہوں نے بتایا کہ اماں جی کے خاندان کو ٹریکٹر ٹرالی پر گوجرانوالہ چن دا قلعہ کے پاس تھیڑی نامی ایریا کے قریب چھوڑا تھا جہاں عبدالغنی اور فتح خان نے اپنا ڈیرہ بنایا تھا۔۔۔
آپ تمام درد دل رکھنے والے انسانوں سے التماس ھے کہ اماں جی کے خاندان کو ٹریس کرنے میں مدد کریں۔۔۔
اماں کے متعلق پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ انکے بقول: میرا نام طاہرہ بی بی ہے والد کا نام عبد الغنی، والد کا نام نصرت بی بی ، داداکا نام فتح خان دادی کا نام اللہ رکھی ہے جو کھڈیوں کا کام کرتے تھے۔
میرے بہن بھائیوں کے نام یہ ہیں محمد انور، محمداسلم، سچاخان،
ضلع شیخوپورہ کا کوئی گاؤں تھا جس کا نام مجھے پتہ نہیں البتہ یہ گاؤں کھیلوں کا سامان بنانے میں مشہور تھا۔ گاؤں کے دو بڑے چوہدری تھے ایک چوہدری شریف اور دوسرا چوہدری بشیر تھے یہ گاؤں کے بڑے اور جاگیر دار تھے میرے چچاؤں کے نام عبدالحق، عبدالقادراور محمد حسین تھے میرے والد نے میری والدہ کو طلاق دے کر دوسری شادی کر لی تھی والدہ نے بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کر کے شاہدرہ موڑ پر کسی سے شادی کر لی تھی میں اکثر ان سے ملنے جایا کرتی تھی۔ میری چھوٹی بہن ریل حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ میری عمر 5، 6 سال ہو گی جب دادی کے ڈانٹنے پر گھر سے اکیلی نکل گئی اور منزل کھو گئ۔ پولیس نے لاہور چوبرجی کے شیلٹر پہنچا دیا جہاں بیس سال گزارے، شیلٹر نے حسب روایت میری شادی کر دی- میرے چار بچے ہیں اب وہ بھی شادی شدہ ہیں۔ شادی کے بعد میرے شوہر نے بہت کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے میں لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ مجھے امید ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو میں اپنے گھر والوں سے مل سکوں گی انشا اللہ۔
مجھے گھر میں پیار سے گدو کہتے تھے۔ بچپن میں پسلی پر دانہ نکلا جو خراب ہوکر زخم بن گیا اسکا نشان آج بھی موجود ہے۔
ہماری قوم جولاۓ ہے۔
ہم آج آپ سے تیسری بار درخواست کررہے ہیں کہ اس کیس کو کامیاب بنانے میں ہماری مدد کریں۔
گوجرانوالہ کے دوست بابا جی کے بتائے علاقوں میں ضرور یہ پوسٹ پہنچائیں اور اماں جی کے خاندان کی تلاش کے لئے ہماری مدد کریں۔جولائے قوم سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے رابطہ کرکے مدد حاصل کریں۔
اماں جی کی طبعیت ناساز ہے دل کی مریضہ ہے برائے مہربانی انکو زندگی میں اپنوں سے ایک بار ضرور ملوائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
25 may 2026
03162529829
#waliullahmaroof
ان سے ملئے۔۔!!
انکا نام بلال ہے،بلال چھ سات سال کی عمر میں گھر سے نکلا تھا،بالوں میں چاندنی آچکی ہے آج تک اپنوں سے جدا ہے۔
بلال کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر اٹک کے کسی قریبی علاقے میں تھا،گھر کے قریب ٹرین رکتی تھی میں ٹرین میں بیٹھ کر اٹک جاتا تھا۔
گھر سے بھاگتا بھی زیادہ تھا۔
ایک بار جب اٹک کے لئے نکلا تو ٹرین میں آنکھ لگ گئی اور اپنے اسٹیشن پر اتر نہیں سکا۔ آنکھ جب کھلی تو اٹک کے بجائے کہیں اور تھا۔
مجھے ایک شیلٹر لیجایا گیا اور میں ہمیشہ کے لئے اپنوں سے دور ہوگیا۔
پہلی بار جس شیلٹر میں گیا وہ اسلام آباد کا شیلٹر تھا اور سال 1996 تھا۔
پھر لاہور لایا گیا اور لاہور سے کراچی ۔
میرے والد ویلڈنگ کا کام کرتے تھے،والدین کے نام یاد نہیں ہیں۔دو بہنیں تھیں،ایک بہن کا نام مجھے یوں لگتا ہے شاید نام حنا تھا۔
بھائی صرف میں تھا
والد کی ایک نشانی یاد ہے انکی گدی پر بڑا سا مَسّہ تھا۔
اور علاقے میں ایک مسجد تھی جو کراچی کی میمن مسجد کی طرح سرخ تھی۔
بلال کو یہ یاد نہیں ہے کہ گھر میں کونسی زبان بولتے تھے لیکن انکو پشتو کافی حد تک آتی ہے شاید ممکن ہے پختون گھرانے سے ہوں۔
جہانگیرہ اور پشاور کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
بلال نام کے ساتھ آفریدی لکھتا ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ آفریدی ہیں یا کوئی اور قوم، شیلٹر والوں نے نام کے ساتھ آفریدی لکھا ہے اسکی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ بچپن سے کرکٹ کے ساتھ بہت لگاو تھا اور شاہد آفریدی کے بہت جذباتی فین تھے۔پشتو جب بولتا ہے تو لہجہ آفریدی نہیں ہے۔
بلال کافی عرصے سے صرف اس وجہ سے ہمیں اپنا کیس نہیں دے رہا تھا کہ مجھے لوگ لاوارث کہیں گے،یہ بات کرتے ہوئے اشکبار بھی ہوا۔
بات بات پر بلال کا گلا بھرا جاتا ہے اور والدین ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
اس بچے کا نام ذبیح اللہ اور والد کا نام حمیداللہ ہے۔
ذبیح اللہ 4 جون 2024 کو تلہ گنگ کے جہاز چوک سے لاپتہ ہوا تھا آج تک نہیں ملا۔
اس وقت 16 سال عمر تھی اپنےوالد کے ساتھ ریڑھی پر کام کرتا تھا۔
والد کسی کام سے گیا واپس آیا تو موجود نہیں تھا۔
جگہ جگہ ڈھونڈا پولیس عدالت ہر در پر دستک دی لیکن ذبیح اللہ نہیں ملا۔
ذبیح اللہ کے جانے کے بعد والدین کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اپنے سہارے کی تلاش میں دن رات سکون سے محروم ہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ ذبیح اللہ کی تلاش میں مددکریں۔
بچہ کہیں بھی موجود ہو برائےکرم نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
تمام شیلٹرز خاص طور پر نوٹ فرمائیں اگر یہ بچہ کسی شیلٹر میں موجود ہو تو برائے کرم اسے آزاد کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
آپ کا ایک شیئر کسی ماں کے دل کے سکون کا سبب بن سکتا ہے
🚨 ضروری اطلاع - گمشدہ بچہ 🚨
آفان ولد عابد، بابو کا نواسہ لاپتہ ہے کسی کو بچے کے بارے میں معلومات ہو تو اس نمبر پر رابطہ کریں۔ شکریہ ڈیلی آواز ٹائمز اسلام آباد 👇👇
رابطہ نمبر: 03005892414