@CapitalTVLive Why are you posting such fake News..
Lakhoon Pakistanis ko 48 ghante ma UAE chorne ka hukum... There is nothing like this.. stop spreading fake News..
I understand @ImranKhanPTI son's frustration. While Pakistani government's efforts at facilitating negotiations to end the war between #USA/#Israel and #Iran is commendable, we should not forget its terrible and unjust treatment of @ImranKhanPTI, his family and his supporters.#Pakistan
https://t.co/uZAXNf6mY8
@BBhuttoZardari Peoples party has been in govt since decades.. You are alive..
Where is ayeen of 73.
Where is vote ki Taqat.
Where is khudmukhtari
Where is jamhoriyat
and you are tweeting today to make a jamhori and Falahi Pakistan...
Such a shame and disgrace.
@HarmeetSinghPk Pa G... Chatna to nahee in Darò dewaar ko jis ka Naam sénate or parliament hai.. it will only help This régime to carry on... It's the time..
PAKPAC condemns the life imprisonment sentences to seven journalists, political analysts, and YouTubers, including US residents Dr. Moeed Pirzada (@MoeedNj), Wajahat Saeed Khan (@WajSKhan), and Shaheen Sehbai (@SSEHBAI1).
The life sentences by a Pakistani court are politically motivated to silence the Pakistan government’s critics and independent journalists. #TransnationalRepression
Freedom of speech and press are fundamental foundations of democracy and human rights. Efforts to undermine democracy and freedom of speech must not be tolerated. CC: @HouseForeignGOP@HouseForeign@TLHumanRights
We remain firm in our support of the people of Pakistan in pursuit of their civil liberties of free speech, press, assembly, and due process. #JournalismIsNotCrime
Please Urge Your Congress Representative to co-sponsor #HR5271, Pakistan Freedom and Accountability Act by clicking ➡️ https://t.co/nOfm45jUeG
Help our advocacy efforts in your state by joining PAKPAC at https://t.co/ah5bAyp965 #USPakistanRelations #USForeignPolicy #PakistaniAmerican
27ویں ترمیم کے بعد خود کو دس مزہد سالوں کے لئے وطن عزیز کا قادر مطلق سمجھنے والے دس ماہ بھی مکمل کر سکی�� گے یا نہیں۔۔ اس کا کس کو علم ہے؟
دنیا نے بڑے بڑے طاقتور حکمران اور جرنل دیکھے۔ جن کی طاقت و اختیار کو لازوال سمجھا جاتا تھا لیکن ان میں کوئی باقی نہ رہا اور وہ نشان عبرت بن گئے۔
نمرود نے خود کو موت و حیات کا مختار سمجھ کر حضرت ابراہیم کو ذندہ جلانے کا منصوبہ بنایا لیکن خود ایک مچھر ناک میں گھسنے سے مر گیا۔
فرعون نے حضرت موسی اور بنی اسرائیل کو سمندر کے سامنے جا پکڑا اور نعرہ لگایا کہ انا ربکم الاعلی لیکن کچھ منٹ کے بعد سمندر غرق ہوگیا
عظیم روم کا بانی اور خدائی کا دعویدار سیزر اپنے مضبوط ترین محل میں ہی قریبی دوستوں کی خنجر زنی کا شکار ہوگیا ۔
فرانس کا بادشاہ لوئس شش دہم خود کو قلعہ نما محل میں محفوظ سمجھتا تھا کہ عوام کے غیض کا نشانہ بن گیا۔ فرانس کو دنیا کی بڑی عسکری قوت بنانے والا نیپولین بالآخر ملک بدر کردیا گیا۔ ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے نکلا لیکن بالآخر خودکشی کرکے قبر کا نشان بھی نہ چھوڑ سکا۔ قذافی ، حسنی مبارک اور بشار الاسد کی کہانیاں تو کوئی پرانی نہیں۔ حسینہ واجد کا واقعہ گزرے تو ابھی چند ماہ ہوئے ہ��ں۔ آپ کے اپنے ملک میں 1965 کی تاریخی جنگ میں قومی ہیرو اور پہلا فیلڈ مارشل بننے والا ایوب خان 4 سال بعد خود اقتدار چھوڑ کر بھاگ گیا۔��بنگال کی شورش کو طاقت کے زور پر فتح کرنے کا دعویدار جرنل یحی تاریخ انسانیت کی سب سے بڑی فوجی پسپائی کا دھبہ لیکر ملک کو ہی تڑوا بیٹھا۔ اپنی کرسی کی مضبوط کہنے والا بھٹو اپنے قلم سے چیف بنائے گئے ضیاء کے ہاتھوں پھانسی چڑھ گیا۔ بزعم خویش روس کی سپر پاور کو نیست کرنے والا ضیاء الحق چند ماہ بعد اپنے آئی ایس آئی چیف سمیت چھ سینئر جرنلوں کے ساتھ نابود ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم بن کر چاروں صوبوں میں اپنی حکومت بنانے والا واحد وزیر اعظم نوازشریف امیر المومنین بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ خود کو اتنا مضبوط سمجھ بیٹھا کہ آرمی چیف کو رات��ں رات تبدیل کردیا۔ پھر اسی سے معافی کی بھیک مانگ کر دس سالہ معائدہ کرکے ملک بدر ہوگیا۔ بارہ مئی 2007 بپا کرکے مکا لہرانے والے مشرف کوچند ماہ بعد مجبور ہوکر قصر صدارت سے رخصت ہونا پڑا۔
جنرل فیض اور باجوہ نے سادہ عمران خان کو دس سالہ پلان بنا کر اپنے فریب میں پھنسایا۔ آج باجوہ کہاں ہے اور فیض کہاں ہے ؟
لہذا یاد رکھیں
آگاہ اپنے انجام سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل بھر کی خبر نہیں۔
عمران خان جیل میں ناحق قید ہے۔ لیکن اس سزا میں شاید جرنلوں پر اندھا اعتبار کرنے کی لغزش کا کفارہ بھی شامل ہے۔
آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں وہ رہا ہوگا۔ اور اس کی رہائی سے کچھ دیر قبل یا بعد تک خود کو ملک کا قادر مطلق سمجھنے والوں کو تمام تر استثناوں کے باوجود وطن میں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
یہ نوشتہ دیوار مجھے اتنا ہی واضح نظر آرہا ہے جیسے مجھے 27 ویں ترمیم کے آئین بننے کی اخباری شہ سرخیاں ��ظر ارہی ہیں۔
@Khalidusmani100@MoeedNj Ousted by parliament -- haha
Economy is back on track- hahaha
Stock market tripled- hahahaha
Inflation is historically low- hahahahaha
Accounts are flooding - hahahahahaha
مراد سعید @MuradSaeedPTI کا پیغام قوم کے نام:
- 10 فروری 2025
“مد مقابل کا المیہ یہ ہے کہ وہ اب تک عمران خان کی جدوجہد کو سمجھ نہیں سکے۔ وہ سمجھتے ہیں ۷۳ سال کی عمر میں دنیا کا ہر عروج ہر کامیا��ی سمیٹنے کے بعد بھی اس کے لیے ایک برائے نام حکومت سنبھالنا کوئی معنی رکھتا ہوگا کہ جس کے لیے وہ جھکنے پر آمادہ ہوجائیگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تیس سال قبل سیاست میں نو آموز ہوتے ہوئے اپنے مقصد کو اپنی شاد آباد زندگی پر فوقیت دینے والے کو آج قید و بند، رقیق ذاتی حملے، اہل و عیال پر جبر سے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ مد مقابل کا المیہ یہ ہے کہ وہ سمجھ نہیں پارہا کہ اس کی لگائی پود سے متضاد کہ جنہیں بوقت ضرورت سٹیج پر سجا دیا جاتا اور کردار پورا ہونے پر اتار دیا جاتا، وہ ان کے اس پتلی تماشے کی تاریں کاٹ رہا ہے۔
۷۸ سال سے پاکستان میں ریاست کی ایک ہی ڈیفینیشن رہی ہے؛ مافیہ طرز کا گٹ جوڑ جو اپنے مفادات کو ریاست نام کی آڑ لے کر بچاتا رہا ہے۔ جو اپنے آپ کو ایک مقدس گائے قرار دے کر اپنی جانب اٹھنے والی انگلی توڑنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ جو اپنے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کو کبھی ایک کردار کو ٹاکی شاکی مار کر پائیدان پر سجاتا ہے تو کبھی دوسرے کو۔
عمران خان اس وقت یہ ڈیفینیشن تبدیل کررہا ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ یہ ڈیفینیشن تبدیل کیے بغیر اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ عمران خان یہ حقیقت جان چکا ہے کہ یہ افراد کی لڑائی نہیں وہ کسی فرد کو اپنا مقابل گردان کر اس کی شکست اور اس کے انجام کو ذہن میں رکھ کر نہیں لڑ رہا۔ وہ اس نظام کی جڑیں کھود رہا ہے جس کی بنیاد استحصال پر ہے۔ جس کی بقا خون بہانے، خون چوسنے، تقسیم کرنے، زباں بند رکھنے، آنکھوں کے پردوں کو روشنی اور پیروں کی بیڑیوں کو گھنگرو باور کرنے میں ہے۔ وہ نام تاریخ کے کسی سیاہ باب کے کردار کا لے رہا ہو اس کا مخاطب اس کا جانشین نہیں کہ وہ محض اسے موردِ الزام نہیں گردانتا بلکہ اس اختیار کو مانتا ہے جس کی رعونت میں آپ کروڑوں کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ دیں چاہے اس کی قیمت ملک دولخت ہونا ہو۔ وہ آج اگر کسی کا نام لے لے کر للکار رہا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کا مسئلہ کوئی ایک شخص ہے کہ جسے نیچا دک��ا کر اس کے انا کی تسکین ہو۔ یہ اس کی انا کی تو جنگ ہی نہیں۔ یہ جنگ تو اس قوم کی ہے جس کے بیٹے اغوا ہوتے ہیں تو سالوں بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کہ جس کی ریزگاری پر پلنے والا محافظ اس کے سر کا سودا کرتا ہے۔ کہ جو آدھی دہائی میں ایک مرتبہ اس غرور کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے کہ اس کی رائے کی بھی کوئی وقعت ہے تو اس کے فیصلے کو روند کر اس کو اس کی اوقات بتائی جاتی ہے۔ کہ جس کو آواز اٹھانے پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور جس کے اپنے ملک کی عدالتیں اس کو انصاف دینے سے کتراتی ہیں، کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کر ٹیکس بھرتا ہے، اس کے وسائل سے سبزازاروں میں پرائیوٹ اسٹیٹس بنتی ہیں اوروں کی اولادوں کے حال و مستقبل سنورتے ہیں مگر اس کے خود کے نصیبوں میں ایسی وحشتیں آتی ہیں کہ وہ اپنے گلی کوچے چھوڑ کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر کے بے رحم حلق میں اترنے کو ترجیح دیتا ہے۔ سوال عمران خان کی حکومت کا نہیں ہے سوال اس ڈائن سے ماں کا ٹائٹل چھیننے کا ہے جو اس بےکس قوم کی گردن میں اپنے خون آشام پنجے گاڑے خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہے۔”
#UndeclaredMartialLaw
#حق_کی_جیت_ہو_گی
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
جرنیل چاہتا ہے آج سارا دن میڈیا و سوشل میڈیا پر یہ کیس اسکی سزا اور جرنیل کی طاقت پر بات ہو۔
ہم آج کے دن بھی جرنیل کو اذیت دیں گے۔ آج سوشل میڈیا پر ہر طرف نور پور ، عسکری بنک ، اٹک پٹرولیم ، سونا یوریا کے بائیکاٹ کی مہم نظر آئے۔
آجاؤ یوتھیو بسم اللہ کریں۔
نہ یہ ملاقات خوش آئند تھی۔ نہ یہ ٹھنڈی ہوائیں تھی۔ نہ یہ کسی برف کا پگھلنا تھا۔ نہ ہم ایسی خوش آئند ملاقاتیں چاہتے ہیں نہ ایسی ٹھنڈی ہوائیں نہ ایسی پگھلی ہوئی برف۔
عاصم منیر کا بیرسٹر گوہر سے ملاقات کرنا فوج اور عاصم منیر کی پسپائی کی نشانی ہے۔ فوج سے کسی قسم کی “ صلح “ یا “ معاملات طے “ کرنا ہمارا مطالبہ ہی نہیں۔
عاصم منیر کو استعفی دینا ہے۔ سینکڑوں شہیدوں کے خون کا ��ساب ہونا ہے۔ جن ہزاروں لوگوں نے اذیتیں برداشت کیں اس کا حساب ہونا ہے۔ فوج نے سیاست سے بے دخل ہونا ہے۔ اعلان ختم۔
ہیپی نیو ائیر
ہم لوگ تو ابھی تک یہ بھی طے نہیں کرپائے کہ ہیپی نیو ائیر کہنا شرعی بھی ہے یا نہیں۔ خیر ہمارے مسئلے الگ ہیں۔ کیونکہ ہماری دنیا ہی جو الگ ہے۔ تیسری دنیا۔ تھرڈ ورل��۔ شاید تھرڈ کلاس بھی ۔ جیسے انگریز نے ریل میں ہمارے لیے تھرڈ کلاس ڈبے بنا دیے تھے۔ اسی طرح ہم آج بھی ذہنی اور شعوری لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر تھرڈ کلاس کے ڈبوں کے مسافر ہیں۔
آج دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے منڈپ لگ رہے ہیں۔ ایسے رنگین ایونٹس ادارہ ہذا کو بہت پسند ہیں کہ ہمارے جیسے سادہ لوگ بھی چند گھنٹے زندگی کی رنگینیاں دیکھ لیتے ہیں۔ تادم تحریر آسٹریلیا میں نیو ائیر تقریبات شروع ہوچکی تھیں۔ سڈنی کے اوپرا ہاوس کے اوپر اڑتی ہوئی آتش بازی اور نیچے تھرکتے ہوئے انسان دیکھنا اپنی وش لسٹ میں شامل ہے۔ کبھی دیکھیں گے۔ باقی دنیا میں گھڑیاں بارہ بجاتی جائیں گی اور سال بدلتے جائیں گی۔
ٹرین چند منٹوں بعد ایسے ہی ایک بڑے شہر میں داخل ہوجائے گی۔ جہاں اس ملک کا نیوائیر کا سب سے بڑا منڈپ سجا ہے۔ ادارے نے اور کچھ کبھی دیکھا ہو نہ دیکھا ہو نیوائیر پر حاتم طائی کی قبر کو کھینچ کر لات رسید کرکے کسی تقریب کے لیے ��ار آنے خرچ لیے جاتے ہیں۔ امسال بھی روایت ٹوٹنے نہیں دی۔ ٹرین میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو میری طرح یہاں اس تقریب کا حصہ بننے آرہے ہیں۔
ہمیں سفید چمڑی والے تو سبھی “گورے” ہی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان “گوروں” کی بھی بہت سی حد بندیاں ہیں۔ بلکہ گوروں کو ماریں گولا گوریوں کے خوائص پر مختصر سی روشنی ڈالنا زیادہ مزیدار ہے۔ تو لمبی لمبی گردنوں والی چھ چھ فٹ قد اور نیلی سبز آنکھوں والی روسی گوریاں۔ جس کسی نے کوہ قاف کو پریوں کا دیس بتایا تھا اس نے یقیننا روس دیکھ رکھا تھا۔ میانہ قد اور گالوں پر پھٹتی ہوئی لالی والی برطانوی گوریاں ، سرخی سے عاری ، پھیکے رنگوں والی لیکن خوبصورت بالوں والی ایسٹرن یورپین گوریاں ، کچھ کچھ کالے بالوں والی آئرش ، سکاٹش ، یا پھر سپینش اور اٹالین گوریاں جو انہی کالے بالوں کے سب ہمیں دل کے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہیں۔ خیر آگے چلیں۔
یہ گورے اور گوریاں دنیا کے مختلف ممالک سے اکٹھے ہورہے ہیں۔ مختلف زبانیں بول رہے ہیں۔ خوشی سے چہک رہے ہیں۔ جیسے جیسے سوئی بارہ کی طرف بڑھے گی ان گوریوں کے لباس مختصر ہوتے جائیں گے جام زیادہ ہوتے جائیں گے اور رات لمبی ہوتی جائے گی۔ ان لوگوں کو دیکھ کر اپنا دکھ یاد آجاتا ہے۔ ہمارے شہروں میں ایسے دنیا بھر سے لوگ گھومنے یا نیو ائیر منانے کیوں نہیں آتے؟ یہاں کانوں میں دنیا بھر کی زبانوں کی آوازیں کیوں نہیں آتیں؟ ہمارے ملک میں اربوں کا کاروبار صرف سیاحت کی بدولت کیوں ممکن نہیں ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ہم سب کو معلوم ہے۔ کیا کریں؟ روئیں پیٹیں ؟ چیخیں ماریں ؟ آگے چلیں ۔
جب آتش جوان تھا ، جوان تو خیر اب بھی ہے لیکن دشمنوں نے مشہور کررکھا ہے کہ آتش ادھ کانجن عمر یعنی ادھیڑ عمری کا شکار ہے۔ تو جب آتش جوان تھا تو آتش نیوائیر ایسی تقریبات کسی بڑے منڈپ سے دیکھنے کا شوقین نہیں تھا۔ بلکہ ادارہ کلبوں میں جایا کرتا۔ گوروں اور گوریوں کے بارہ بجے ہوتے اور روایتاً وہ ہر سامنے آنے والے کو گلے ملتے گال چومتے اور ہیپی نیو ائیر کہتے۔ آتش گوروں کو اگنور کرتا جاتا گوریوں کی حسرت پوری کرتا جاتا۔ یوں جپھیاں ہی جپھیاں اور پپیاں ہی پپیاں ۔ خیر آگے چلیں۔
ذکر ہمارے دکھ کا تھا۔ ہماری سڑکیں ، ہمارے بڑے بڑے شہر ، سیاحتی مراکز اجنبی آوازوں سے اجنبی شکلوں سے نا آشنا ہی رہتے ہیں۔ دنیا ان تہواروں سے اربوں ڈالر کماتی ہے۔ سکون اور امن سے انہیں مناتی ہے۔ لوگوں کی یادیں بنتی ہیں۔ یہاں ایک جاپانی پورن سٹار آجکل لاہور آئی ہوئی ہے۔ بس ٹھرکیوں کی انڈر ورلڈ میں اس پر بے باک تبصرے جاری ہیں۔ ہمارے نصیبوں میں شاید یہی بم دھماکے ہیں ، کٹی پھٹی لاشیں ہیں ، لاپتہ نوجوان ہیں اور آمریتیں ہیں۔ دنیا ہیپی نیو ائیر کہتی رہے گی۔ ہم اپنے گلے کاٹتے رہیں گے۔ اگر صرف کہنے سے آپ کا سال اچھا ہوجانا ہے ت�� اللہ کرے آپ کا اگلا سال اچھا گزرے۔ لیکن سال کرنے سے بھی اچھے ہوتے ہیں۔ نئے سال میں کچھ اچھا کریں۔ شاید اس دفعہ کچھ کر گزرنے سے آپ کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کوئی بہتری آجائے۔
ہیپی نیو ائیر