🇵🇰 Pakistan is making global headlines for all the right reasons stepping up as a mediator between Iran and the USA.
From Islamabad, a message of peace is reaching the world. 🌍✨
A proud moment for every Pakistani!
Long Live Pakistan 🇵🇰❤️
#Pakistan#Peace#ProudMoment#Islamabad
ارشاد بھٹی جب پہاڑہ شروع کرتے ہیں
تو پہاڑ کی طرح کچل کر رکھ دیتے ہیں
لیکن حقیقت یہ ہے کہ
یہ محض بیعزتی نہیں بلکہ یہ ن اور ppp سے پہلے اور بعد کے پاکستان کا وہ موازنہ ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
8 فروری 2024 کو پاکستانی قوم نے مینڈیٹ امت مسلمہ کے لیڈر عمران خان کو دیا۔ قوم نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار عمران خان کو دیا کیونکہ قوم کو یقین تھا اور ہے کہ وہ لیڈر پاکستان اور پاکستانیوں کا سودا نہیں کرے گا۔ پاکستان کی عزت، وقار، بقا،سلامتی، غیرت اور خودداری پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا لیکن 25 کروڑ غیرت مند پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کرکے ان کو مسلط کر دیا گیا جن کو پاکستانی قوم نے یکسر مسترد کردیا تھا۔
عمران خان کو جیل میں ناحق قید رکھ کر ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جو کہ کسی صورت پاکستان یا پاکستانیوں کے فائدے میں نہیں ہیں
اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب محب وطن پاکستانی بند کمروں میں بنائی گئی داخلہ یا خارجہ پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں تو کسی کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانستان چلے جاو اور کسی کو کہا جاتا ہے کہ اگر مظلوموں کا اتنا ہی تمہیں درد ہے تو ایران کیوں نہیں چلے جاتے؟ پاکستان کو صرف چاند تاروں ستاروں تک محدود کرنا ہے؟ یا بغیر اس کے بھی کوئی پاکستانی یہاں رہ سکتا ہے؟
نقصان پر نقصان ہورہا ہے لیکن انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنی ناکام پالیسیز پر نظرثانی نہیں کرنی۔ اختلاف رائے کی قدر نہیں کرنی۔ قومی یکجہتی کی طرف نہیں جانا۔ حقیقی جمہوریت کی طرف نہیں جانا۔ انصاف کا جنازہ نکالتے رہنا ہے۔ آئین و قانون کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے فیصلے وہ کررہے ہیں جن کے اثاثے، جائیدادیں، کاروبار اور مفاد ملک سے باہر ہیں۔انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف نہیں لے کر جانا۔ یہ چند لوگ خود کو عقل کل اور 25 کروڑ پاکستانیوں کو جاہل اور بیوقوف سمجھتے ہیں۔ عقلمندوں!!! جس طرف آپ ملک کو لے کر جا رہے ہو وہاں سے واپسی پھر نہیں ہوگی اور نا ہی کوئی آپشن باقی رہے گا۔ رُک جاؤ اور ہوش کے ناخُن لو۔
اگر غلط پالیسیز پر تنقید کرنے والوں کو ملک سے نکل جانے کا کہا جائے گا تو پھر 25 کروڑ میں سے صرف چند بوٹ پالیشیے ہی بچ جائیں گے، جن کو ملک چلانا نہیں ،صرف بوٹ چمکانا آتا ہے۔
پاکستان اس وقت جس کرائسز میں پھنس چکا ہے اس صورتحال سے ملک کو صرف عمران خان ہی نکال سکتے ہیں۔ ہوش اور عقل سے کام لو اور مینڈیٹ اس لیڈر کے حوالے کرو جس کو پاکستانیوں نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔
پاکستانی قوم تیاری کرے، اب عمران خان کا مزید جیل میں رہنا پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا، اب عمران خان صاحب کی رہائی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان، پاکستانیوں اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔