“ سنا آصف غفور کا اصلی والاکتا مر گیا؟ بہت کیوٹ تھا۔”
ہم یوتھیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، نہ ہمیں ان سے کسی قسم کی ویلیڈیشن چاہیے۔ یہ ڈاکٹر ماہرنگ کو بھی اصولی بنیاد پر سپورٹ نہیں کرتے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا پہہلا عسکری باپ ریٹائر ہوچکا ہے اور اب یہ دوسرے سوتیلے عسکری باپ کے عتاب میں ہیں۔
اللہ بخشے، اگر ان کے اصل عسکری باپ آج زندہ اور اقتدار میں ہوتے تو ڈاکٹر ماہرنگ اور ان کی تحریک کے خلاف موجودہ رجیم جس سطح کی کردار کشی کر رہی ہے، یہ لوگ اس سے بھی کئی قدم آگے ہوتے۔ یہ تب بھی ہمارے خلاف تھے جب خان صاحب اقتدار میں تھے، اور یہ آج بھی ہمارے خلاف ہیں جب خان صاحب جیل میں ہیں۔
میں نے ان لوگوں کا سوشل میڈیا بیک لیش خود برداشت کیا ہے۔ ان کے حملوں نے میری ذہنی صحت کو اس حد تک متاثر کیا کہ میں خود پر شک کرنے لگی کہ آیا جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف بولنا درست ہے یا نہیں۔ میں نے طے کیا کہ ان معاملات سے دستبرادر ہوجاو ۔ اب یہ مجھے بے غیرت کہیں یا ڈرپوک یا لچھ بھی مجھے اس فرق نہیں پڑتا۔ میں کسی بھی سیاسی دائین بائیں سے تعلق نہیں رکھتی اور اب پکا وکیل ہوں بس جو میرا شناخت ہے۔
ان کے پرورٹ وزیراعظم اورلیڈروں کو فیمنسٹوں سے صرف اس لیے نفرت تھی کیونکہ پاکستانی فیمنسٹ ان کے عورت دشمن اور موقع پرست لیڈر کو “دینے کے لئے تیار نہیں تھیں۔جس دن تم لوگوں کے پرورٹ لیڈرز کاچیٹ اسکرین پبلک کرونگی “می ٹو” بھول جائے گے۔
اور ہاں، تم سب سے زیادہ میں ڈاکٹر ماہرنگ اور ان کے خاندان کو جانتی ہوں۔ جو نقصان پی ٹی آئی کے بعض وکلاء نے ان کے کیس کو خراب کرکے پہنچایا، اور جس طرح وہ ہماری بہن اور ان کے ساتھیوں کو انتہائی سخت سزاؤں تک پہنچانے کا راستہ ہموار کر رہے تھے، اسے ہم ان شاء اللہ سامنے لائیں گے۔ دوران جرح جب یہ کہا گیا کہ یہ سوال صرف فارمیلٹی کے لیے پوچھ رہا ہوں، تو وہ سب کچھ بار کا کا ہر وکیل جانتا ہے۔
ہماری بہن کی جدوجہد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ویوز اور مونیٹائزیشن کا سامان نہیں بنے گی۔ نہ ڈاکٹر ماہرنگ کا اسرائیل سے کوئی تعلق ہے، نہ بھارت سے۔ آپ لوگ جان بوجھ کر مخصوص خبروں میں ان کا نام ڈال کر انہیں متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ایک تیر سے دو شکار کیے جا سکیں۔ ایک طرف فی الحال اپنے نئے سوتیلے عسکری ابا پر دباؤ ڈالنا، اور دوسری طرف جب خان صاحب کی دوبارہ ابو سے دوستی ہوجائے تو انہی خبروں کو استعمال کرکے یہ کہنا کہ یہ موساد اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔کیونکہ جب تمھارےسابقہ ابو کےلوگ آکر کہتےہزارہ پربات کرو یہ بلوچ کو چھوڑ دو حالانکہ میں کوئی ایک آدھ ٹویٹ کرتی یا کھبی ماما قدیر کے کیمپ جاتی تو آپ لوگوں کو تکلیف ہوتی۔ میں اب بھی آپکے دور کے پانچ ایف آئی آرز کے ضمانت پر ہوں اورایک موجودہ رجیم کے۔
کیونکہ جب تمھارا ابا سے صلح ہوگی تو دوبارہ سےجو بھی بلوچستان میں ماورائے عدالت اقدامات، جبری گمشدگیوں، اور ریاستی جبر کے خلاف بات کرے گا، آپ لوگ اپنے نئے عسکری ابا کو خوش کرنے کے لیے اس کی کردار کشی کریں گے پھر چاہے وہ ماہرنگ بلوچ ہی کیوں نہ ہوں جسکی مثال ہم نے کریمہ بلوچ کے وقت دیکھا تھا۔
دیکھ لو پھر نئے ابا کے آتے ہے آپ اچھے بچے بن کر اپنے پرانے اقوال زرین پر آکر بولو گے “پاک فوج سے محبت کے لئے ماں کانیک باپ کا ایک ہونا ضروری ہے۔”
شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے ان کی معصوم ماں نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر اور استقامت کے ساتھ انتظار کیا بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا عدالت نے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو سزا ہوئی یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور۔
@SabihUlHussnain@AbsarAlamHaider@Khalidkhushk5 ❤️❤️So true i was brought up with Kazmi Syeds what a gem they are,no arrogance no pride just humanity I always thanks to Almighty Allah that Kazmi Syeds had given a real color to Punjab since they are living in Punjab since 1100 years
To the Pakistan Civil-Military leadership..
Be careful arrogance burns all the achievements. Be humble especially with the bruised neighbours. It's the most appropriate time to extend an olive branch to both the east and west neighbours.
جٹکی جھنگوچی پنجابی تے ہزارہ دی ہندکو پنجابی
اک چھوٹا جیہا ویڈیو اس گل نو صاف کر دیندا ہے کہ لہجہ زبان نو زبان ہی رہن دیندا ہے وکھرا نہیں کردا
افشا زیبی ہزارہ تو تعلق رکھدی اے تے گلفام جٹکی جھنگوچی پنجاب دے علاقے تو
ایک سوال پوچھنا تھا عادل باجہ، صابر شاکر، شہباز غل، محید انگوٹھا اور گیلا تیتر سے۔
مزاکرات قطر کر وا رہا ہے اور ایرانی صدر شکریہ ادا کرنے پاکستان ایا ہے۔۔اس پر روشنی ڈالیے؟
پاکستان کی ہمسائیگی
👇👇👇
۱- چائینہ 5000 سالہ تاریخ
۲- افغانستان 5000 سالہ تاریخ
۳- ایران 5000 سالہ تاریخ
۴- بھارت 5000 سالہ تاریخ
اور میرا پاکستان 78 سالہ تاریخ
😂😂😂
یعنی اپنے ایک ہمساۓ کی عمر کا
ابھی ہم نے محض 1 ٪ کراس کیا
یعنی بڈھے کھڑوساں چ ایک نومولد
اب ذرا ہمسائیوں
کیساتھ اپنے معاملات پر مختصر نظر ڈال لیتے ہیں
جب موجودہ چین کی بنیاد رکھی گئی
پاکستان نے چین کی بہت مدد کی
آج چین پاکستان کا بہترین دوست ہے❤️
جب پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے افغانستان پر روس چڑھ آیا
تو 78 سالہ پاکستان نے 40 سال افغانیوں کی نہ صرف جنگ لڑی
بلکہ افغان جنگ میں خود ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کا خون بہا
جانیں قربان کیں
پاکستان 46 سال سے افغانوں کو پناہ دئیے بیٹھا ہے
اور اسوقت افغانوں کی چوتھی نسل پال رہا ہے
مگر طالبان احسان فراموش نمک حرام بیغیرت اور محسن کُش نکلے
یہ لعنتی اُن ہاتھوں کو ہی پڑ گئے
جو انکے مُلک کی حفاظت کیلیے لڑے
جو آجتک اُنہیں پال رہے ہیں
دوسرے پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے ہم سے 6 گنا بڑے ہمساۓ بھارت کے ساتھ 5 جنگیں لڑ چُکا
اور ہمیشہ بھارت کا مُنہہ توڑا✌️
ایک جنگ میں بڑا نقصان اُٹھایا
مگر وہ جنگ نہیں تھی
ہمارے بڑوں کی کُچھ بڑی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے
تب دو بھائی اکٹھے رہنے کو تیار نہ تھے
اور ایک بھائی نے بھارت سے مدد مانگی
بھارت نے مدد کی
اور دونوں بھائی علیحدہ ہوگئے
بنگالی بھائی علیحدہ تو ہوا
مگر تمام زندگی بھارت سے چپیڑیں کھاتا رہا
آج تک بنگلہ دیش کی کوئی قابل ذکر فوج نہیں
مکتی باہنی بنانے سے لیکر آج تک
55 سال تک RAW ہی بنگلہ دیش کو ہر طرح سے کنٹرول کرتی آرہی ہے
آج بھی قانونی اور غیر قانونی تقریباً ڈیرھ کروڑ بنگالی بھارت میں رہتا ہے
جن میں سے 30 لاکھ لیگل ورک ویزہ تعلیم کاروبار بغرض علاج وغیرہ بھارت میں ہے
اور ایک کڑور 20 لاکھ بنگالی
بھارت میں لوئر کلاس نوکریاں
دیھاڑی دار مزدور
عورتیں گھروں میں صفائی پوچا
جسم فروشی
اور بھیک مانگنے کا کام کرتیں ہیں
میں👆یہ سب نہ لکھتا
لیکن کُچھ چوتئیے فوراً ڈالر کا حساب کتاب لیکر بیٹھ جاتے ہیں
وہاں ڈالر اتنے کا
یہاں ڈالر اتنے کا
👆اینا ڈالر نال اپنی پین ویاہی😝
ابھی ایک ٹویٹری دوست ڈھاکہ سے ہوکر آۓ ہیں
مجھے اُنکے تھریڈ کا انتظار ہے
دیکھتے ہیں کہ وہ کیا بتاتے ہیں
ورنہ
ان شاء اللہ
میرا بھی ڈھاکہ کی سیر کا پروگرام ہے
اگر گیا
تو پھر میں خود واپس آکر آپکو بتاؤں گا
ویسے نہ بھی جاؤں
تو یوٹیوب بہت کُچھ بتا رہی ہے
کوئی بھی دیکھ سکتا ہے
اور بہت آسانی سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں
کہ پاکستانیوں اور بنگالیوں کے living standards میں کتنا فرق ہے
جانی
پاکستانیوں کا living standerd بنگالیوں سے
اُس سے کہیں زیادہ بہتر ہے
جتنا پاکستانی کرنسی اور بنگالی کرنسی میں ڈالر کا فرق ہے
🤣🤣🤣
اب ہم آجاتے ہیں پانچ ہزار سالہ رکھنے والے بھائی ایران پر
مائی ڈیئر ایران
جب سے آپکے مُلک میں خمینی رجیم آیا
آپکے اور ہمارے تعلقات اتنے اچھے نہیں رہے
جتنا کہ ہونا چاہیے تھے
اسکی واحد وجہ تھی
کہ خمینی صاحب نے شیعت والی اُنگلی
جو دنیا بھر میں صرف مسلمان ممالک میں دینا شروع کی
یہی حرکات آپ نے پاکستان میں بھی شروع کیں
جس سے پاکستان میں فرقہ بازی خونریزی میں تبدیل ہوئی
اور ہزاروں پاکستانیوں کا معصوم خون بہا
کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی ایجینٹس آپکا پاسپورٹ لیکر بلوچستان میں دہشت گردی کرنے آتے رہے
دیجیے پاکستان کی کوئی ایسی میثال؟
کہ پاکستان ایران میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہو؟
خمینی رجیم سے پہلے پاکستان کے سُنی اور شیعہ مذھبی اختلافات کے باوجود پُرامن زندگی گذار رہے تھے
کیونکہ تب شاہ ایران کی طرف سے ایسی کوئی سپورٹ پاکستانی شیعوں کو میسر نہیں تھی
مگر خمینی ازم کے بعد 50 سال سے یہ معاملات بہت بگڑے
ایران بھائی آپ 👈 قصور وار ہیں
پاکستان کی نسبت آپ بھارت کے بہت زیادہ قریب رہے
آپنے اپنی حالیہ جنگ میں
اپنا دوست بھارت بھی دیکھ لیا
بھارتی آپکے مُلک میں اسرائیلی ایجینٹس کا کردار ادا کرتے ہوۓ
آپ نے خود پکڑے
افغانی شیعہ بھی پکڑے
جس دن اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنا تھا
مودی اسرائیل سے میڈل لے رہا تھا
اور اسرائیل کو اپنا باپ کہہ رہا تھا
خامنہ ای کی تعزیت تک نہ کی
امریکہ نے بھارت گیا ہوا
ایرانی بحری جہاز ٹھوک دیا
بھارت ایک لفظ نہیں بولا
اور آپ نے پاکستان بھی دیکھ لیا
جسطرح آپکی اس جنگ میں
اس کڑے وقت میں
صرف پاکستان آپکے ساتھ کھڑا ہوا
جسطرح پاکستانی سویلین اور فوجی قیادت نے ایران کے لئیے دن رات ایک کئیے
انتھک محنت
جسطرح ہمارا آرمی چیف آپکے مُلک آتا جاتا رہا
جسطرح آپکی ایرانی قیادت کو فول پروف سیکیورٹی پاکستان نے دی+
مائ مینڈک کا پوتا اور عثمان ڈار کا بیٹا امریکہ میں انجوائے کر رہا
اور پاکستان میں اسکی دادی اور باپ عوام کے بچوں کو اجتجاج ، انتشار اور لاٹھیاں کھانے کیلئے باہر نکلنے کیلئے کہتے 🤷♂️
یہ 30 سال کا نوجوان شبیر بلوچ ہے، جس کا تعلق سبی سے تھا، وہ خود بلوچ تھا۔
دو سال پہلے ماہرنگ لانگو کی BYC نے اس جوان پر پتھراو کرکے اسے شہید کیا۔
ماہرنگ کو اس وجہ سے سزا ہوئی
لیکن آپ دیکھیں گے کہ میڈیا ماہرنگ لانگو کو مظلوم ثابت کرے گا اور اس سپاہی کا کوئی ذکر نہیں کرے گا
کل رات علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا خطاب سن رہا تھا جس میں انہوں نے نام لیے بغیر ایک حکمران کا ذکر کیا کہ اس نے زناکاری عام کی، معاشرے میں بداخلاقیوں کو عام کیا، اخلاقی کرپشن کی انتہاء کردی، لونڈے لپاڑوں کو عہدے دیے، مسجد نبوی کی بے حرمتی کروائی۔ میں سمجھا عمران خان کی بات کررہے ہیں لیکن کچھ دیر بعد علامہ صاحب نے کہا کہ یہ سب یزید نے کیا تھا اور ایسے یزیدی نظام رائج کیا تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں جھوٹ باندھنا بند کرو!
شیخ مجیب نے اگر تلہ میں پاکستان کو توڑنے کے لئے 1965 کی جنگ کے دوران کیپٹن شوکت علی کو بھیجا، جو اس وقت حاضر سروس پاکستانی فوجی افسر تھا، بعد میں ڈپٹی سپیکر بنگلہ دیش اسمبلی بنا اور 2010 میں اعتراف کیا کہ اگرتلہ کوئی سازش نہیں، سچ تھا
ہاشمی صاحب کچھ خدا کا خوف کریں کیوں آخری عمر میں اپنی عزت خراب کر رہے ہیں اب تو انڈین را کے آفیسرز تسلیم کر چکے کتابیں لکھ چکے کہ انڈیا کے وزیراعظم کے پاس شیخ مجیب پاکستان توڑنے کا منصوبہ لے کر آئے یہ الزام نہی انڈیا میں چھپی بہت سی کتابیں جس میں انڈین سفارتکار اور را آفیسر تفصیل سے بتا چکے کہ 1962 میں نہرو سے شیخ مجیب نے پاکستان توڑنے کے لئے مدد مانگی یہ ایک ریفرنس میں لکھ رہا ہوں Sashanka S. Banerjee (ہندوستانی سفارتکار اور انٹیلی جنس سے منسلک مصنف ) کی یادداشتوں کی کتاب ہے۔ اسنے اپنی کتاب “India, Mujibur Rahman, Bangladesh Liberation & Pakistan” اور بلاگ/مضامین میں تفصیل سے لکھا ہے:
• دسمبر 1962 میں شیخ مجیب الرحمن نے لندن سے واپسی پر ایک ہندوستانی افسر (Banerjee) کے ذریعے پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خفیہ خط دیااس خط میں مجیب نے مشرقی پاکستان کو الگ کر کے “بنگلہ دیش” بنانے کے لیے ہندوستان کی مسلح مدد مانگی تھی (armed insurgency کے لیے سپورٹ مانگی
یہ الزام نہی انڈیا میں کتاب میں چھپا انڈین کا اعتراف ہے جانے کیوں آپ مجیب کو ہمیشہ محب وطن بنا کر پیش کرتے ہیں
کشمیر کے نام پر سب سے زیادہ گند کشمیر کے نام نہاد صحافیوں نے پھیلایا ہے
خود اسلام آباد کی لگژری لائف گزار رہے ہیں مگر لاشوں کی خواہش میں کتوں کی طرح زبانیں نکالے پھر رہے ہیں
بلھے نوں سمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں
من لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلّا رائیاں
آل نبی اولادِ علی نوں، توں کیوں لیکاں لائیاں
چیہڑا سانوں سیّد سدّے، دوزخ ملن سزائیاں
جو کوئی سانوں رائیں آکھے، بہشتیں پینگھاں پائیاں
رائیں سائیں سبھنیں تھائیں، رب دیاں بے پروائیاں
سوہنیاں پرے ہٹائیاں نیں تے، کوجھیاں لے گل لائیاں
جے توں لوڑیں باغ بہاراں، چاکر ہوجا رائیاں
بلھے شوہ دی ذات کہہ پچھنایں، شاکر ہو رضائیاں