@ImranRiazKhan Asalamoaleikum Imran
Kiya AAP is par ek program Kar sakte hen?
Ye similarity AAP KO mein gift karta hoon.
So you do one program in this topic . About these three historical women.
ہ کاروبار، سرمای�� کاری اور تعمیر کے لیے بے تاب ہیں۔
ہماری طرف سے… میری صرف یہ درخواست ہے کہ سب کچھ 100٪ باہمی ہو… پلیز۔”
یہ غلبہ نہیں۔
یہ ایک صدر ہے جو چین سے “ہاں” کی بھیک مانگ رہا ہے۔ 💼🇨🇳
کیا آپ نے یہ دیکھا؟
“The Art of the Deal” ایک لائیو التجا میں بدل گی
…
میں ہر سلطنت کا نمبر ون لایا ہوں: جینسن ہوانگ، ٹِم کُک، ایلون مسک… دنیا کے بہترین لوگ آج یہاں آپ کے سامنے موجود ہیں…”
پھر تقریباً کانپتی ہوئی آواز اور زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے بات ختم کی:
“آج یہ سب آپ اور چین کو احترام پیش کرنے آئے ہیں…
🚨 چونکا دینے والی خبر جو دل کو تکلیف دے! 😳
ٹرمپ نے شی جن پنگ کی طرف تقریباً التجا بھری نظروں سے دیکھا اور ایسی بات کہہ دی کہ پورا کمرہ خاموش ہو گیا… جیسے وہ منت کر رہا ہو:
“میں اپنے ساتھ دنیا کے 30 سب سے طاقتور کاروباری رہنما لایا ہوں… اور سب نے آنے پر رضامندی ظاہر کی۔
اسلام آباد: 27 اپریل 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم، وزیرِ اعظم نے ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی.
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے. یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے. وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.
اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے.
اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں.
اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا ک�� مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے.
وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت.
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
اسلام آباد: 27 اپریل 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم، وزیرِ اعظم نے ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی.
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے. یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے. وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.
اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے.
اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں.
اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا ک�� مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے.
وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت.
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
پاکستان کو پیغام رسانی نہیں، قیادت کرنی ہوگی۔
امریکہ سے امریکن انداز میں، ایران سے ایرانی انداز میں—مگر اصول ایک:
سچ، دیانت داری اور توازن۔
نہ مکھن، نہ جانبداری، نہ بات چھپانا۔
صرف سنجیدہ اور خودمختار سفارتکاری ہی پاکستان کو کامیاب بنا سکتی ہے۔