داتا دربار کے تہہ خانے میں دو قبریں ہیں
ایک کے کتبے پر عنایت اللہ خان (آئی سی ایس) لکھا ہے۔ ان کی تاریخ وفات1979ءتحریر کی گئی ہے۔ ان کو اس جگہ کیوں دفن کیا گیا اس بارے میں کچھ نہیں لکھا
دوسری قبر فاروق احمد لینارڈ انگریز انگلینڈ کے ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اسکی قبر کے کتبے پر فاروق احمد لینارڈ انگلستانی لکھا ہوا ہے
(تبلغی جماعت) کی دعوت پر مسلمان ہو گیا اس کا نام لینارڈ تھا۔مسلمان ہونے پر اس کا اسلامی نام فاروق احمد رکھا گیا
اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا۔اس میں حضرت سلمانؑ کا ��اقعہ ہےجس کا مفہوم یوں ہے
'بلقیس'' کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا، یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔
: اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں۔
ایک بڑاجن بول�� "میں وہ تخت حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔"
جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ''آصف بن برخیا" جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: میں آپکے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل جھپکنے سے پہلے۔چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں حاضر کردیا اور
وہ ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے
اب آجائیں فاروق احمد لینارڈ کی طرف اس نے یہ واقعہ پڑھا تو حیران ہوا کہ کیسے ایک شخص اتنی کم مدت میں سیکڑوں میل دور سے تخت لا سکتا ہے۔
یہ سوال اس نے مبلغوں سے کیا جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا
اس انگریز فاروق احمد لینارڈ انگلستانی کو قرآن پاک کی سچائی پر پورا یقین حاصل ہو چکا تھا یہ تو بس ایسی تصدیق چاہتا تھا جو اسے روحانی طور پر مطمئن کر سکے
اسے تبلیغی جماعت کے علمی افراد نے مختلف دلائل سے مطمئن
کرنے کی کوشش کی کہ انبیاء کرام معجزات اور اولیاء کرام کرامات پر قدرت رکھتے ہیں مگر یہ روحانی تصدیق کے جواب کا طلبگار تھا اس لیے علمی جوابات سے مطمئن نہ ہوا
اس نے اپنے ساتھیوں سے لاہور کے مقامات دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اسے مختلف مشہور مقامات کا دورہ
کرواتے ہوئے جب داتا دربار کے سامنے سے گزرے تو اسے ایک روحانی کشش کی حامل خوشبو نے اپنی طرف کھینچا - یہ مزار کی جانب روانہ ہوا تو اس کے ساتھیوں نے عقیدے کے اعتبار سے اختلافی نظریات کے پیش نظر اسے روک کر واپس لے جانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا اور خوشبو کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
مزار کے احاطے میں داخل ہوتے ہی داتا دربار کے گیٹ پر ایک بز��گ نے آپ کا استقبال کیا اور انکو چائے پانی پوچھا فاروق احمد نے گرم چاۓ کی طلب ظاھر کی بزرگ آدمی نے اپنا ھاتھ مغرب کی جانب بڑھایا اور آنکھ جھپکنے سے پہلے ھی ایک ساعت میں گرم چاۓ کا کپ فاروق احمد کے سامنے پیش کر دیا
فاروق احمد یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے حواس کھو گیا حواس بحال ھونے پر بزرگ وھاں پر موجود نہ تھے اور کافی تلاش بسار پر بھی نہ ملے آپ نے مبلغین کو بتایا کہ اسے مزارِ داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ سے اپنے سوال کا جواب مل گیا یہ کپ لاھور ملتان یا برصغیر کے کسی شہر قصبے دیہات کا کپ نہیں بلکہ یہ لندن میرے گھر کا کپ ھے جو پلک جھپکنے سے پہلے اس بزرگ نے لندن سے میرے سامنے پیش کیا ھے آپ نے کہا کہ اسلام کے اصل ترجمان تو یہ اولیا اللہ صاحب مزار حضرت داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دیگر اولیاء ھیں اس واقعہ نے جناب فاروق احمد لینارڈ صاحب کے دل کی دنیا ھی بدل ڈالی اور لندن شہر کا باشندہ ھمیشہ کے لئے لاھور داتا دربار کی دربانی پر مامور ھوگیا اور وھاں پر ھی 13 فروری 1945 س�� عیسوی میں وفات پائی آپ کا مزار بیسمنٹ داتا دربار لاہور میں واقع ھے۔.
ہم نفرت کی سٹیج ون پر ہیں !!
لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپتے ہیں میں کئی دنوں سے یہ لکھنے کا سوچ رہا ہوں۔ لیکن لکھتے لکھتے رہ جاتا ہوں۔ اگر فوج عمران خان کو جیل میں مار دے تو کیا ہماری فوج سے ہمدردی ختم ہوجائے گی؟ یا اسکے باوجود برقرار رہے گی؟ میرے جذبات کہتے ہیں کہ ختم ہوجائے گی۔ میری تاریخ کہتی ہے کہ بھٹو کا قتل اگر کچھ نہیں بگاڑ پایا تو عمران خان کا قتل کیا بگاڑ لے گا؟ اسی لیے ابھی ہم نفرت کی سٹیج ون پر ہیں۔
یہ سچ ہے کہ عمران خان کی آنکھ کو لیکر اس قدر کربناک انکشا�� کے باوجود اب بھی کچھ بھی نہیں ہونے والا ہے۔ دو چار دن کا شور شرابا ہوگا۔ کچھ ریلیاں ، کچھ جذباتی بیانات اور پھر کسی لیک ویڈیو ، کسی تہوار، سپریم کورٹ کی پیشی ، کسی ڈیل فروش کی مصدقہ خبر پر آپ ناچ رہے ہوں گے۔ آپ کو میری باتیں بری لگیں گی۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ شاید تھوڑا سا زیادہ ہنگامہ ہوجائے۔ کسی احتجاج یا دھرنے کے نتیجے میں دو چار لوگ مر جائیں ہلکا پھلکا ردعمل اور پھر خاموشی۔ کیونکہ ابھی ہم نفرت کی سٹیج ون پر ہیں۔
حالانکہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا، عمران خان کیساتھ روا رکھے جانا والا سلوک ہماری لیے کوئی بم شیل نہیں ہے ، ہم نے انہیں نہتے لوگوں کو براہ راست گولیاں مارتے ��یکھا ہے۔ ہم نے انہیں میاں بیوی کے مقدس رشتے کی ننگی ویڈیوز بناتے سنا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ انہوں نے باپ کے سامنے بیٹی کو برہنہ کیا لیکن اس کے باوجود ہم ابھی وہ نفرت نہیں کرپائے جو بنگالیوں نے کی ، جو بلوچ کررہے ہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ ابھی ہم نفرت کی سٹیج ون پر ہیں۔
ہم سب میں سے ایک ایک کو پتہ ہے کہ یہ سب کرنے والوں کے ذاتی ، سیاسی اور معاشی مفادات ہمارے مفادات کے الٹ ہیں۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ وہ اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے کوئی بھی مذہبی ، اخلاقی ، قانونی اور انسانی حد عبور کرسکتے ہیں لیکن ابھی بھی ہم انہی سے امید لگا بیٹھتے ہیں۔ ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ انکی حمایت کے جواز تراشتے ہیں اور جیسے ہی کہیں سے کوئی مثبت پیش رفت ، کوئی خوش آئند خبر کا شوشا چھوڑتا ہے ہم اسی کو چاٹنا شروع کردیتے ہیں۔کیوں؟ کیونکہ ابھی ہم نفرت کی سٹیج ون پر ہیں۔
اب یہاں معاملہ الٹ ہے،جذبات کہتے ہیں کہ یہ قوم ہی بےغیرت ہے ، تاریخ کہتی ہے کہ جبر کے خلاف ردعمل جتنا دیر سے آتا ہے اتنا شدید آتا ہے جتنا چاہے دیر سےآئے آتا ضرور ہے۔ اب یہ ہمارے اجتماعی شعور نے فیصلہ کرنا ہےکہ ہم نے نفرت کی اگلی سٹیجز کن سانحات یا حادثات کے بعد پارکرنی ہیں۔ کیونکہ جبر نا ووٹ سے سمجھتا ہے نا دلیل سے سمجھتا ہے ۔ جبر صرف جبر کو سمجھتا ہے۔ بنگالی یہ بات پچاس سال پہلے سمجھ بھی گئے سمجھا بھی گئے۔ لیکن ہماری سمجھ سے یہ سب ابھی باہر ہے۔ کیونکہ ہم ابھی نفرت کی سٹیج ون پر ہیں۔

🔴 زمانۂ قدیم میں یمن کے بادشاہ ذو نواس نے ایمان لانے والے مسلمانوں پر سخت ظلم و ستم کیا۔ اس نے زمین میں بڑی خندقیں کھدوائیں، ان میں آگ بھڑکائی، اور جو لوگ ایمان سے نہیں پھرتے تھے۔ انہیں زندہ آگ میں پھینک دیتا۔ مگر آخرکار ��بشی فوج نے اس کا تختہ الٹ دیا اور وہ اپنے انجا�� کو جا پہنچا۔
اصحابِ الأخدود کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ ہر ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔
آج وہی ظلم سوڈان میں دوہرایا جا رہا ہے — الفاشر کو آگ کے گڑھے میں بدل دیا گیا۔
ایک شخص، دولت اور سونے کے نشے میں، انسانیت کو مٹا رہا ہے۔
مگر تاریخ کسی طاغوت کو نہیں بخشتی، اور ظلم آخرکار مٹ جاتا ہے۔
🟥 افریقن دوسرے درجے کے انسان نہیں ہیں!
وہ ہمارے بھائی ہیں اور اسلام کی شروعات سے ہی صفِ اوّل میں رہے۔
اسلام کی پہلی شہید ایک افریقی خاتون سمّیہ الخیّاط تھیں، جنہیں ابو جہل نے شہید کیا۔
اسلام کے پہلے موذ�� افریقی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ تھے۔
اسلام میں داخل ہونے والا پہلا بادشاہ افریقی اصحمہ النجاشی تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی پرورش کرنے والی عورت افریقی امِّ ایمن تھیں۔
اسلام پہلے حبشہ میں داخل ہوا — یعنی مدینہ کی ہجرت سے پہلے افریقہ میں ہجرت ہوئی تھی۔
جھوٹے نبی مسیلمة الکذاب کو قتل کرنے والا ایک افریقی تھا۔
افریقہ اور افریقی لوگ ہمیشہ آغازِ اسلام سے صفِ اوّل میں رہے۔
ہم سب برابر ہیں، افریقی ہمارے بہن بھائی ہیں اور ہمیں ان کے قتل و مصائب کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
قالَ النبیﷺ:
بیشک دو چہروں والا شخص بدترین لوگوں میں سے ہے، جو ایک چہرہ لے کر ایک گروہ کے پاس جاتا ہے اور دوسرا چہرہ لے کر دوسرے گروہ کے پاس.
مسلم 6630، 6631، 6632، 6454
(بخاری 3494، 6058، 7179؛ ترمذی 2025؛ ابوداؤد 4872؛ مسند احمد 7337، 8055، 9866؛ امام مالک 1825؛ مشکوٰۃ 4822)
Please
ہیلپ کریں اپنے پاکستانیوں کی
ان نمبرز پر پاکستانی اور اوورسیز پاکستانی کیش بھیج کر ۔
تصویر سے اپ کو اندازہ ہو گیا کہ یہ نہ دھوکے باز ہیں نہ فیک اکاؤنٹ ہے 🙏🏻🙏🏻