سیدنا ابراہیمؑ کی دعا
﴿میرے پروردگار مجھےحکمت عطا فرمااور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالےاور آنے والی نسلوں میں میرےلئے وہ زبانیں پیدا فرما دےجومیری سچائی کی گواہی دیں اورمجھے اُن لوگوں میں سے بنا دےجونعمتوں والی جنت کے وارث ہونگے﴾
(سورۃ الشعراء۔۸۳،۸۴،۸۵)
اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو الله نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے.
اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو الله نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے.
ترمذی 2516
سوال: ہم کس کی بات سنیں اور کس کی مانیں؟
جواب:
[سورۃ الزمر، 39:17:18] ترجمہ: آپ میرے بندوں کو بشارت سنا دیں جو بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر ان میں سے سب سے اچھی کی پیروی کرتے ہیں.
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی
اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی
وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکا��ں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی
پروین شاکر
مسلم سائنس دانوں کا جو حشر مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا وہ عوام کو نہیں بتایا جاتا۔ آج بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے مسلم سائنس دان تھے اگرچہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان میں سے چھ سائنسدانوں کا مختصر احوال پیش خدمت ہے
یعقوب الکندی
فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا اور فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے۔ ہر کوڑے پر الکندی تکلیف سے چیخ مارتا تھا اورتماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔
ابن رشد
یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اورنمازیوں نے اس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت اور گمنامی کی حالت میں بسر کیے۔
ابن سینا
جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اورمرتد قراردیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اورمغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔
ذکریا الرازی
عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب زکریا الرازی کوجھوٹا، ملحد اورکافر قرار دیا گیا۔ حاکم وقت نے ��کم سنایا کہ رازی کی کتاب اس وقت تک اس کے سر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر۔ اس طرح باربارکتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے رازی اندھا ہو گیا اوراس کے بعد موت تک کبھی نہ دیکھ سکا۔
جابر ابن حیان
جسے مغربی دنیا انہیں جدید کیمیاء کا فادر کہتے ہیں جس نے کیماء ، طب ، فلسفہ اور فلکیات پر کام کیا۔ جس کی کتاب الکینیاء اور کتاب السابعین صرف مظرب کی لائبریریوں میں ملتی ہے ۔ جابر بن حیان کا سے انتقامی سلوک : حکومت وقت کو جابر کی بڑھتی ہوئی شہرت کھٹکنے لگی۔ جابر کا خراسان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ اس کی والدہ کو کوڑے مار مار کر شہید کر دیا گیا۔ جابر اپنی کتابو�� اور لیبارٹری کا مختصر سامان سمیٹ کر عراق کے شہر بصرہ چلا گیا۔ بصرہ کے لوگ جابر کے علم کے گرویدہ ہو گئے۔ جابر جیسی کیمیا گری اور علمی گفتگو انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں سنی تھی۔
جابر نے انہیں زمین سے آسمان اور زمین سے اس کی تہوں تک کا س��ر کروا دیا۔ حاکم بصرہ کو بھی اس کی شہرت برداشت نہ ہوئی ۔ حاکم کے درباری جابر کی بڑھتی ہوئی علمی شہرت اور مسلکی اختلاف کو حکومت کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ ایک دن جابر کو الزامات کی زد میں لا کر قاضی بصرہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی نے حاکم کی ایما پر جابر کو سزائے موت سنا دی۔ اور یوں جس جابر بن حیان کو آج مغرب بابائے کیمیا ”Father of Chemistry“ کہتی ہے، اس کی کیمیا گری، علم اور سائنسی ایجادات کو اس کے اپنے ہم مذہبوں نے جادوگری، کذب اور کفر قرار دے دیا۔۔
#science #ScienceEducation
بھلا بتاؤ جس شخص نے اپناخدا اپنی نفسانی خواہش کو بنالیاہو، تو (اے پیغمبر!) کیا تم اس کی ذمہ داری لےسکتےہو؟ یا تمہارا خیال یہ ہےکہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یاسمجھتے ہیں؟ نہیں! ان کی مثال تو بس چار پاؤں کےجانوروں کی سی ہے،بلکہ یہ اُن سےزیادہ راہ سے بھٹکےہوئےہیں۔
﴿الفرقان، ۴۳-۴۴﴾
اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ سے پوچھا گیا:
کونسا عمل رسول الله ﷺ کو بہت زیادہ پسند تھا؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: "وہ عمل جو اگرچہ تھوڑا ہو، لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے."
ترمذی 2856
(بخاری 1132، 6461؛ مسلم 1730؛ نسائی 1617؛ مشکوٰۃ 1207)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ
بیشک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز کا ترک کر دینا ہے.
مسلم 246
(نسائی 465؛ ترمذی 2620؛ ابوداؤد 4678؛ ماجہ 1078؛ مسند احمد 1088؛ مشکوٰۃ 569)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ہر شخص نماز پڑھے جب تک ہشاش ��شاش (تازہ دم) رہے، جب سُست پڑ جائے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے.
مسلم 1831
(بخاری 1150؛ ابوداؤد 1312؛ نسائی 1644؛ ماجہ 1371؛ مسند احمد 8913، 8914)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متوجہ ہوں، اور جب تمہارے خیالات منتشر ہو جائیں تو پھر اسے پڑھنا چھوڑ دو.
مشکوٰۃ المصابيح 2190
(بخاری 5060، 7364، 7365؛ مسلم 6777، 6778)
مؤمنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اُس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول اُن کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہم نےحکم) سن لیا، اور مان لیا‘‘ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
﴿سورۃ النور،۵۱﴾