آج عمران خان کے ساتھ کون سی ملاقات ہوئی؟ لیکن پھر بھی خیبر پختونخوا کے اربوں روپے کا سودا کر دیا گیا۔ یہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔ بجٹ پاس ہوگا، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ لایا کون ہے۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ہمت ہے تو بجٹ پاس نہ کریں۔ صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جو لوگ آج طاقت کے نشے میں ہیں، وقت انہیں جواب دے گا۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan | #AwamiNationalParty
🟥حکومتی غیر سنجیدگی مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، انجینئر احسان اللہ خان
🟥سیکیورٹی بحران، صوبائی بدانتظامی اور وفاقی معاشی پالیسیوں نے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے
🟥پختونخوا میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال اور دیگر مسائل 13 سالہ صوبائی حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے
🟥لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں تو ضم کر لیا گیا، لیکن ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کوئی مؤثر نظام قائم نہیں کیا گیا
🟥فورس کو جدید ہتھیاروں سے لیس شدت پسند عناصر کے مقابلے میں غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا
🟥پارلیمان کو اِن کیمرہ بریفنگ دے کر واضح کیا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی کیا ہے
🟥اس کی ذمہ داری باقاعدہ ریاستی فورسز ادا کریں گی یا امن کمیٹیوں اور نجی مسلح گروہوں پر انحصار کیا جائے گا
🟥ایف سی آر کا خاتمہ تو ہوچکا ہے مگر ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور جیسے سخت قوانین آج بھی نافذالعمل ہیں
🟥اگر قبائلی اضلاع کو حقیقی اختیارات اور آئینی حقوق فراہم نہیں کرنے تھے تو پھر انضمام کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
🟥ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز اور حقوق پر پی ٹی آئی حکومت نے مسلسل سیاسی مصلحتوں کا مظاہرہ کیا
🟥صوبائی حکومت کی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا خمیازہ آج وہاں کے عوام بھگت رہے ہیں
🟥ریاست کی سختی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف نظر آنی چاہیے
🟥موجودہ صورتحال میں قانون کا زور کمزور اور غریب طبقے پر جبکہ مجرموں کے سامنے بے بسی دکھائی دیتی ہے
🟥بڑھتے ہوئے جرائم، تیزاب گردی اور جنسی تشدد کے حالیہ واقعات قانون کی کمزور حکمرانی واضح کرتے ہیں
🟥وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاسی تماشوں اور وقتی بیانیوں سے مزید گریز کریں
🟥ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے عوامی مسائل، سیکیورٹی، روزگار اور معاشی بحالی پر توجہ دی جائے
انجینئر احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی
@ANPSpox
#ANP | #AwamiNationalParty
Aijaz Ahmad, described him:
“A man of very large silence and …. a nationalist leader about whom relatively little is known and whose life of 98 years- one third of which was spent in jail- is steeped on myth & legend.”
#BachaKhanOurHero
ہماری تحریک 110 سالہ تاریخ کی حامل ہے۔ ہمیں روکنے کے لیے ہمارے راستے میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں، مگر ہم نے آج تک اپنا راستہ نہیں بدلا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بیٹھ کر غور کریں کہ آخر کسی فردِ واحد کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کے ایمان اور عقائد پر سوال اٹھائے۔ یہاں لوگوں نے دوسروں کے عقائد پر سوال اٹھانے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس اختیار کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان، عوامی نیشنل پارٹی
پچھلے دنوں جو معاملہ زیرِ گردش تھا، اس میں ہمارے قائدین اور کارکنان کو بلاجواز گھسیٹا گیا اور انہیں بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سید معصوم شاہ کی معافی کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو یہیں ختم کیا جائے اور آگے بڑھ کر اپنے اصل مقصد پر پوری توجہ دی جائے۔ اس موقع پر میں تمام کارکنان اور سوشل میڈیا ورکرز کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا۔
احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان، عوامی نیشنل پارٹی
مونږ نه پرون یوې سختدریځې(شدت پسندې) ډلې ته سر ټیټ کړے و، نه نن سر ټیټو، او نه به کله په راتلونکي کښې سر ټیټ کړو۔ که مونږ د ټوپک د شپېلۍ او د ځانمرګو واسکټونو مخې ته په ټینګه ولاړ پاتې شوي یو، نو دا څه اتفاق نه و، بلکې زمونږ یو څرګند او کلک نظریاتي تړون و۔ زمونږ په استقامت او عزم کښې د ذرې برابر کمزوري نه ده راغلې۔
دا ځل حمله د بهره نه، بلکې له دننه شوے ده نو ځکه دا په شا تګ نه، بلکې د ځان د جوړولو او برابرولو لپاره وقفه ده۔ مونږ به ډېر ژر د ملګرو سره په وضاحت خبرې شریکوو۔ مرکزي صدر صېب په خپل فکر او نظریه کښې واضح، ثابت قدمه او پُرعزمه دے۔
عوامي نېشنل ګوند د ټولو مذهبي عقایدو درناوی ضروري ګڼي او تل یې د امن او صلحې وکالت کړې دے۔ مونږ خو تل رياست په مذهبي معاملو کښې د مداخلت د خطرناکو نتاېجو په حواله خبردار کړې او زمونږ دا اصولي موقف به همداسې ټینګ او برقرار پاتې وي۔
یاد ولرئ، د سفر د دوام او مخکښې تګ لپاره اوس ځان سمول او صفایي کول یو ضرورت ګرځېدلی دے۔
احسان الله خان
Necause the structural legacy of colonialism remains virtually untouched; the very families that once pledged fealty to the East India Company have simply transferred their allegiance to the modern 'Khaki Company.' For Pakhtunkhwa and Balochistan, this means the colonial paradigm never truly ended—only the rulers changed."
**عوامی نیشنل پارٹی پر دہشت کا نیا وار ۔
یہ کوئی معمول کا سیکیورٹی الرٹ نہیں ہے۔ یہ ہماری قیادت کے خلاف کھلی دھمکی ہے، یہ ہمارے خون سے لکھی گئی تاریخ پر وار ہے، اور یہ پختونخوا کی روشن خیال سیاست کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔
**میاں افتخار حسین** — وہ عظیم لیڈر جنہوں نے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کی قربانی دے کر سرخ جھنڈے کو سربلند رکھا، جن کی بے مثال جدوجہد اور لہو سے لتھڑی ہوئی استقامت ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے — انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ الرٹ صرف ایک شخص کا نہیں، بلکہ پورے پختونخوا میں ہر اس شخص کے لیے موت کی دھمکی ہے جو **سرخ جھنڈے** کے نیچے کھڑا ہے، جو سیکولر سیاست کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، اور جو دہشت گردی کی تاریکی کے خلاف روشنی کی لڑائی لڑ رہا ہے۔
جنوبی اضلاع میں ہمارے کارکن آج بھی روزِ محشر گزار رہے ہیں۔ ہر گھر میں خوف، ہر سڑک پر خطرہ، ہر صبح نئی دھمکی۔ خون بہہ رہا ہے، مگر پشاور کی خوشحال وادیوں تک ان مظلوم کارکنوں کی چیخیں نہیں پہنچ رہیں۔ کچھ لوگوں کے کان تو سننے سے معذور ہو چکے ہیں، ان کے ضمیر Resonance کا شکار ہو چکے ہیں — وہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں، نہ شرماتے ہیں۔
سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اس خونریزی پر **مکمل خاموشی** اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کی آنکھیں بند ہیں، ان کے کان بند ہیں، اور ان کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔ وہ صرف تماشائی بن کر بیٹھے ہیں جبکہ ہمارے لوگ نشانے پر ہیں۔ یہ خاموشی غفلت نہیں، بلکہ **سازش** کا حصہ لگتی ہے۔
**ہمارا
په تیارو کې چې د لمر په لورې درومي
دا مزل دے د ریښتینو لارویانو
لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري
دا سفر دے د ازل د عاشقانو
مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد
دا مسلک دے له پخوا د مینانو
ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې
دلته راج دے د وحشت د سالارانو
دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے
شمعه بله دے په لار د ملنګانو
دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره
دا کاروان د باچا خان د پلویانو
احسان
اے این پی تمام پختون قبائل کو اپنے سروں کا تاج سمجھتی ہے، قبائلی عوام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، احسان اللہ خان
#ANP | #AwamiNationalParty | #IhsanUllahKhan
اسمروجہ اصول، فیشن اور روایات تو لباس، رہن سہن اور ظاہری چیزوں کے لیے ہوتے ہیں؛ شاعری ان تمام مادی اور سطحی حدود سے بہت بالاتر اور ماورا ہے۔ شاعری کو کسی مروجہ قانون یا شرائط کے ترازو میں تولنا ہی اصولی طور پر غلط ہے۔ نہ تو گائیکی اور ترنم اس کا حقیقی معیار ہیں اور نہ ہی محض تکنیکی مہارتیں کسی کو بڑا شاعر بنا سکتی ہیں، کیونکہ یہ چیزیں تو کوئی بھی مشق سے سیکھ سکتا ہے۔ سچی اور بڑی شاعری کسی موروثی ورثے کی مرہونِ منت بھی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا سارا مدار صرف اور صرف 'نادر اور بلند خیالات' پر ہوتا ہے۔ یہی اچھوتی، آزاد اور ماورا فکر کلام کو لازوال بناتی ہے۔
@ShireenKhanUtk خوشحال خان خٹک ایک منفرد اور اچھوتے خیالات کے مالک شاعر تھے۔ انہوں نے کئی ایسے موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے جن کی نظیر فارسی ادب میں بھی نہیں ملتی۔ اور قطعیت کے ساتھ تو درجہ کرنی ہی نہیں چاہیے ۔ کئی علما کے نزدیک میر انیس ، میرے تقی میر دے بڑے شاعر ہے ۔
@JUIAnswersBack صوفی ہونے سے خیالات روحانی ضرور ہوجاتے ہیں مگر نادر نہیں ، آپکی پہلی بات سے اتفاق ہے ۔ غالب کے ہاں آپکو "حافظ" ملے گا۔
ہمارے استاد @UsmanQazi1 نادرالخیال شعرا کے بارے کافی علم رکھتے ہیں ۔
"زیست مشکل ہے، اسے اور بھی مشکل نہ بنا "
زندگی اپنی جبلت میں مشکل سہی، مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وجود کے کرب کو جہنم بنانے میں بیرونی حوادث سے زیادہ ہماری اپنی خود ساختہ زنجیروں کا ہاتھ رہا ہے۔ ہر خطے اور سماج کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، بلکہ دنیا کے کئی گوشوں میں تو ہم سے کہیں بڑھ کر مصائب کی دھوپ تپ رہی ہے، لیکن خود کو فکری و نفسیاتی بیڑیوں میں جکڑ کر اپنے ہی زخموں میں اضافہ کرنے کے ہنر میں ہمارا معاشرہ منفرد و یکتا ہے۔
اب تو گھٹن ایک عمومی چلن بن گیا ہے، خیالِ تازہ کے لیے کوئی در، کوئی روزن دستیاب نہیں، اور دھیمک زدہ فکر و خیال نے انسانوں کو آسیب بنا دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آئینے کا استعمال کم ہو گیا ہے؛ ورنہ پہلے پہل کب ایسا تھا؟ لڑکپن کے زینے پر پہنچتے ہی جیب میں ایک چھوٹا سا آئینہ ضرور ہوتا تھا، کیونکہ تب شاید لوگ خود سے ڈرتے نہیں تھے ۔
ہم نے ایک ایسے معاشرے کو تخلیق کیاہے، جو خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے؛ اور یقیناً یہ وہ زندگی نہیں جس کے ہم مستحق تھے۔ المیوں اور حوادث سے غموں کے سائے گہرے ضرور ہوتے ہیں، مگر یہ محض ایک ادھورا سچ ہے، کیونکہ انسانی خمیر کا یہ ایک غیر اختیاری اور مابعد الطبیعیاتی پہلو ہے کہ وہ شدید ترین تاریکی میں بھی روشنی کی کرن اور غموں کے سائے میں بھی مسرت کا کوئی نہ کوئی اشارہ پا لیتا ہے، مگر ہم نے اس فطری ورثے کو خود اپنے ہاتھوں سے مسخ کر دیا ہے۔
آج ہماری فکری تقسیم اس وحشت ناک نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں اخلاقیات کے تمام پیمانے الٹ گئے ہیں اور اب مظلوموں و محکوموں کے بطن سے انھی کے اپنے ظالموں نے جنم لے لیا ہے۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو ایک دور وہ تھا جب ہر قبیلے کا اپنا ایک الگ دیوتا ہوتا تھا، مگر ان کے مقابل کھڑی شیطانی قوت سب کے لیے یکساں تصور کی جاتی تھی؛ ماضی میں دیوتاؤں پر ملکیت کا دعویٰ ہوا کرتا تھا، مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مقابلہ اور مسابقت اپنی اپنی مظلومیت کو لے کر ہو رہا ہے۔ معاشرے میں ایک ایسا تاریک کھیل شروع ہو چکا ہے جہاں ہر گروہ یہ ثابت کرنے کی دوڑ میں ہے کہ اس کا دکھ دوسرے سے بڑا اور اس کا زخم دوسرے سے گہرا ہے۔
اسی فکری پستی اور اندھی دشنام طرازی کا ایک دلدوز باب آج پختون سیاسی بیانیے کے صفحات پر رقم ہو رہا ہے، جہاں تحرک اور نظریے کی جگہ متبذل عداوت نے لے لی ہے۔ سیاسی آویزش جب تہذیبی رشتوں سے کٹ جائے، تو تاریخ کے مآخذ اور اسلاف کی روایات پامال ہونے لگتی ہیں۔ مروجہ کشمکش میں پشتونولی کے وضع کردہ تمام اخلاقی ضابطے اس شرمناک نہج پر روند دیے گئے ہیں جہاں فخرِ افغان باچا خان اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان جیسی عبقری اور تاریخ ساز قامتوں کو لایعنی اور نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ زوال محض کسی جذباتی کج روی کا نےیجہ نہیں ، بلکہ اس فکری بانجھ پن کا نوحہ ہے جو کسی بھی زندہ تہذیب کے تخلیقی جوہر کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ عمرانیات اور سیاسی شعور کے کسی بھی قاری کے لیے اس سے بڑا فکری المیہ کیا ہوگا کہ اس ہرزہ سرائی پر دوسری طرف کے صفوں میں چھائی مجرمانہ خاموشی اور درپردہ پزیرائی کو مصلحت کا نام دے دیا گیا ہے۔ کسی ایک صاحبِ قلم یا ذمہ دار فرد نے بھی ان اخلاق سوز رویوں کی فکری ناکہ بندی نہیں کی۔ یہ تغافل گواہ ہے کہ پندارِ حق کے سراب نے ہم سب سے اسلاف کے احترام اور اخلاقی جرات کی وہ آخری تہذیبی جڑ بھی کاٹ دی ہے جو کسی قوم کو تاریخ کے حافظے میں زندہ رکھتی ہے۔
اگر ہم پچھلی 35 برس سے زائد، فکری، سیاسی اور سماجی سفر کا بے لاگ اور بے رحم احتساب کریں، تو یہ تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہم نے ایک پائیدار فکری مقدمہ قائم کرنے کے بجائے، اپنے معاشرے کی عمارت کو ہمیشہ فرضی خدشات اور جذباتی سیاسی خواہشات کے ریتلے ستونوں پر استوار کیا۔ اسی فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے کہ آج استدلال اور شائستگی کا میدان تو ویران ہے، مگر دشنام طرازی کے نئے نئے اسالیب کی ایجاد میں ہر گروہ کمالِ فن کا دعویٰ دار ہے، جہاں کان کسی ایک بھلی، متوازن اور تعمیری بات کو سننے کے لیے ترس گئے ہیں۔
اس ہمہ گیر انحطاط کا نقطۂ عروج وہ فکری جمود ہے جہاں ہر دھڑا اپنے پندارِ حق کے اس زعمِ باطل میں مبتلا ہے کہ گویا وہ "مقامِ محمود" پر فائز ہو چکا ہے۔ تاریخ اور فلسفے کی رو سے، جب کوئی گروہ خود کو مبرّا عن الخطا اور سچائی کا واحد اجارہ دار فرض کر لے، تو وہاں علم کی نمو رک جاتی ہے، بحث دم توڑ دیتی ہے اور مکالمے کا جنازہ نکل جاتا ہے؛ کیونکہ مکالمہ تو نام ہی پندارِ حق کے بت کو توڑنے، اپنی غلطی کے اعتراف اور تفہیمِ باہمی کی گنجائش پیدا کرنے کا ہے۔ چلتے چلتے حمایت علی شاعر کا شعر ضرور پڑھیے گا۔
اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
احسان اللہ خان
په تیارو کې چې د لمر په لورې درومي
دا مزل دے د ریښتینو لارویانو
لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري
دا سفر دے د ازل د عاشقانو
مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد
دا مسلک دے له پخوا د مینانو
ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې
دلته راج دے د وحشت د سالارانو
دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے
شمعه بله دے په لار د ملنګانو
دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره
دا کاروان د باچا خان د پلویانو
احسانپه تیارو کې چې د لمر په لورې درومي
دا مزل دے د ریښتینو لارویانو
لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري
دا سفر دے د ازل د عاشقانو
مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد
دا مسلک دے له پخوا د مینانو
ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې
دلته راج دے د وحشت د سالارانو
دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے
شمعه بله دے په لار د ملنګانو
دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره
دا کاروان د باچا خان د پلویانو
احسانپه تیارو کې چې د لمر په لورې درومي
دا مزل دے د ریښتینو لارویانو
لار د مینې که هر څو اغزنه ښکاري
دا سفر دے د ازل د عاشقانو
مونږ ته سولې او د مینې سبق ياد
دا مسلک دے له پخوا د مینانو
ته د خِرد خبرې مه کړه په محفل کې
دلته راج دے د وحشت د سالارانو
دا احسان چې په رڼا باندې شېدا دے
شمعه بله دے په لار د ملنګانو
دا چې دار ته په خندا روان دي ګوره
دا کاروان د باچا خان د پلویانو
احسان