یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن
#نوکر_ہی_رہو
#چوکیدار_راج_نامنظور
#نو_ھارڈر_سٹیٹ
#فاٹامیں_نقوی_تسلط
#بلوچستان_کس_نے_لوٹا
Repeated propaganda cannot replace credible evidence. Those claiming that Maulana Fazlur Rehman has apologised should substantiate their assertions. In a democratic society, political narratives must withstand scrutiny rather than depend on sensational claims.
#نوکر_ہی_رہو #چوکیدار_راج_نامنظور #نو_ھارڈر_سٹیٹ #فاٹامیں_نقوی_تسلط #بلوچستان_کس_نے_لوٹا
یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردا�� تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن
#نوکر_ہی_رہو
#چوکیدار_راج_نامنظور
#نو_ھارڈر_سٹیٹ
#فاٹامیں_نقوی_تسلط
#بلوچستان_کس_نے_لوٹا
فیک اور اے آئی ویڈیوز چلانا، بازاروں میں اپنی ہی گاڑی کے ڈرائیور اور کیمرہ مین سے من پسند مؤقف ریکارڈ کروانا، یہ آپ کا پرانا طریقۂ واردات ہے۔
لیکن یاد رکھیں، ان ہتھکنڈوں سے آپ عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے!
کرائے کے باکو! حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے پہلے تاریخ کا ایک دو حرف بھی پڑھ لیں۔ یہ 10 اپریل 1973ء کا دن ہے جب دستورِ پاکستان متفقہ طور پر منظور ہوا تھا اور مفکرِ اسلام مفتی محمود صاحب دعا کر رہے ہیں۔
اس آئین کی ایک ایک شق پر اس وقت مفتی محمود، خان عبدالولی خان، علامہ شاہ احمد نورانی، مولانا مصطفیٰ الازہری، مولانا غلام غوث ہزاروی اور پروفیسر غفور احمد وغیرہ نے کیسی عالمانہ گفتگو کی اور کیا کیا ترامیم لائے؛ ذرا اسمبلی کا ریکارڈ نکالیں اور پڑھ لیں!
آجکل مولانا فضل الرحمان کو گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں گیارہ مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ بارہویں گرفتاری کیلئے بھی تیار ہیں۔ مولانا اور عمران خان خان کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے لیکن اس دفعہ مولانا دوبارہ انکے جال میں نہ پھنسیں گے۔
https://t.co/oY0N4VijSi
مشرق وسطی عفریت کی ہتھیلی پر ہے
امریکہ نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں تعینات اپنے سفارت کار وں کو نکال جانے کی ہدایت کردی ہے ۔
صحافی علی ہلال کے وال سے
پاکستان کی کابینہ کا وہ کون سا وزیر ھے جو باتیں اتنی بڑی بڑی کرتا ھے لیکن جیسے اس کا چہرہ تصّور میں آتا ھے تو اردو کی ایک ضرب المثل ذہن میں آتی ھے اور لگتا ھے کہ یہ بنی ھی اسی کے لیے ھے
“یہ منہ اور مسور کی دال”؟؟ 🤔🤔
😊😊
#اسی_فیصدبجٹ_کہاں#رہزن_چوکیدار#پالشی_حکومتی_ٹولہ
#بوٹ_کو_عزت_دو
#رہبرامت_مولانا
افتخار صاحب! اے آر وائی نیوز پر پروگرام کی مبارک باد قبول کریں۔صحافتی اصولوں اور غیر جانب دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ اگر آپ اپنے پروگرام میں کسی مہمان کو کسی سیاسی رہنما پر تنقید کے لیے مدعو کرتے ہیں تو اسی پروگرام میں متعلقہ رہنما یا ان کی جماعت کے کسی ذمہ دار نمائندے کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیں۔ یک طرفہ گفتگو کو صحافت نہیں کہا جا سکتا؛ صحافت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ تنقید کے ساتھ جواب اور الزام کے ساتھ مؤقف بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔ یہی پیشہ ورانہ صحافت، انصاف اور غیر جانب داری کا بنیادی اصول ہے۔
@IftikharFirdous
تنخواہ بریگیڈ کی نیندیں پھر حرام، کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود بیانیہ بنانے میں ناکام ۔۔۔ ایک بار پھر مفت کے رضاکاروں کے ذریعے چھترول جاری ۔۔۔ یہ دیکھ لیں ۔۔۔
کہا تھا کہ مولوی اگر ایک بار بپھر گیا تو سرخی پاؤڈ�� بریگیڈ کا ٹھہرنا محال ہو جائے گا ۔۔۔ لیں پھر مزہ لیں ۔۔۔۔
نجانے سامنے والے اپنی ساکھ اور وسائل کیوں داؤ پر لگانے کے لیے بضد ہیں
#ہم_مولانا_کے_سنگ
#حکومت_یا_ربڑسٹمپ
#وسائل_چور_مافیا
#ضمیر_فروش_چوکیدار
#معدنی_راج_نامنظور
@juipakofficial
سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء ��ے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔قائد جمعیت
جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ بطور ادارہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے، تو مجھے بتایا جائے کہ سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ یہ ملک کے ��یے دی ہیں، ملک کے امن کے لیے دی ہیں۔ اگر ہمارے امن کو کوئی بھی خراب کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔
ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی ہے۔ مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں جب یہاں کے مذہبی نوجوان کو اشتعال دلایا گیا اور اسے مجبور ہونا پڑا کہ وہ بندوق اٹھائے اور افغانستان میں جائے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں شریک ہو، یہاں پاکستان میں دینی مدارس کا ماحول، تمام مکاتبِ فکر کا مذہبی ماحول، جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اثر تمام علاقے، ان میں ہم نے پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے آئین اور پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔
لیکن پالیسیاں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ پالیسیاں جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں، وہ ہمیں ذرا اپنے نتائج سے تو آگاہ کریں کہ آج تک ان کی پالیسیوں کے نتائج میں پاکستان نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟
جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو، قومی تعمیرِ نو کے نام سے ایک ادارہ بنایا، نیا بلدیاتی نظام دیا، ناکام ہوا کہ نہیں؟ نیا انتظامی ڈھانچہ دیا، ناکام ہوا یا نہیں؟ مجسٹریسی نظام کا خاتمہ کیا، آج آنے والی حکومتوں کے لیے اس میں مشکلات ہیں یا نہیں؟ اور مجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یا نہیں؟ پولیس کو انتظامیہ سے لاتعلق کیا، جس کے نقصانات چاروں صوبوں میں ظاہر ہوئے، پھر ان کو اب واپس لینے کی باتیں ہوئیں یا نہیں؟ آج پھر پ��یس سال کے بعد اسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
2017ء میں فاٹا کا انضمام کیا گیا، اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں آئین میں ترمیم ہوئی، صرف آئین کی دو دفعات کو تبدیل کیا گیا اور پورے آئین کو بغیر ڈیبیٹ کے فاٹا کے علاقے پر تھوپ دیا گیا۔
آج کہا جا رہا ہے کہ وہ شاید فیصلہ غلط تھا اور ایمرجنسی انہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ فاٹا کا وہ علاقہ، جو وفاق کے کنٹرول میں ہوتا تھا، آج ایمرجنسی کے نام پر وفاق کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔
میری معلومات یہ ہیں کہ قبائلی عمائدین کو ب��ایا بھی گیا ہے اور ان سے مشاورت بھی لی گئی ہے کہ فاٹا کے نظام کا انضمام، جو تھا، وہ کامیاب ہے یا ناکام۔ اتفاق اس پر ہوا ہے کہ وہ ناکام ہو چکا ہے، پرانی حیثیت کو بحال کر دیا جائے۔ اس قسم کی چیزیں پسِ دیوار ہو رہی ہیں، ہماری معلومات میں ہیں اور یہ سب کچھ جو ایمرجنسی ہے، یہ اس طرف جانے کا عمل ہے۔
اب آپ فیصلے کرتے ہیں، ہم اس وقت بھی آپ ��ر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت اور حالات بتائیں کہ ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں یا آپ کے فیصلوں کی تائید کر رہے ہیں؟ تو پھر کیوں ہمیں ملامت کیا جاتا ہے؟ ہر بات پر کیوں اتنی باتیں اڑائی جاتی ہیں؟ کیوں کردارکشی کی جاتی ہے؟ کیوں الزام تراشیاں کی جاتی ہیں؟ یہ چیزیں، میرے خیال میں، پاکستان کے لیے صحت مند عمل نہیں ہیں۔
ہم سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم اپنے مخالفین کا احترام کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف میرے لیے پہلے بھی قابلِ احترام تھے، آج بھی قابلِ احترام ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب کل بھی ہمارے لیے قابلِ احترام تھے، آج بھی ہیں۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے، احترام بھی ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کمزور لفظ استعمال ہی نہیں کیا ہے۔ پورے احترام کے ساتھ ہم ان سے اختلافِ رائے کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں کو ملک کے خلاف سمجھتے ہیں، ملک کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان فیصلوں کے بارے میں ہمیں تشویش ہے کہ بیرونی مداخلت اس میں ہے۔
اور اس زمانے میں جب کولن پاول امریکی وزیرِ خارجہ تھا تو اس نے بھی وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز ہماری تھی۔ آج معدنی ذخائر کے حوالے سے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور باقاعدہ ایک پوڈ کاسٹ میں
کہہ رہی ہیں، معدنی ذخائر کے حوالے سے اپنے منصوبے اور اپنی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہیں۔
میں صاف صاف کہہ دوں کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں۔ یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟...........جاری
جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ بطور ادارہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے، تو مجھے بتایا جائے کہ سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ یہ ملک کے لیے دی ہیں، ملک کے امن کے لیے دی ہیں۔ اگر ہمارے امن کو کوئی بھی خراب کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہی�� دے سکتے۔
ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی ہے۔ مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں جب یہاں کے مذہبی نوجوان کو اشتعال دلایا گیا اور اسے مجبور ہونا پڑا کہ وہ بندوق اٹھائے اور افغانستان میں جائے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں شریک ہو، یہاں پاکستان میں دینی مدارس کا ماحول، تمام مکاتبِ فکر کا مذہبی ماحول، جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اثر تمام علاقے، ان میں ہم نے پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے آئین اور پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔
لیکن پالیسیاں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ پالیسیاں جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں، وہ ہمیں ذرا اپنے نتائج سے تو آگاہ کریں کہ آج تک ان کی پالیسیوں کے نتائج میں پاکستان نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟
جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو، قومی تعمیرِ نو کے نام سے ایک ادارہ بنایا، نیا بلدیاتی نظام دیا، ناکام ہوا کہ نہیں؟ نیا انتظامی ڈھانچہ دیا، ناکام ہوا یا نہیں؟ مجسٹریسی نظام کا خاتمہ کیا، آج آنے والی حکومتوں کے لیے اس میں مشکلات ہیں یا نہیں؟ اور مجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یا نہیں؟ پولیس کو انتظامیہ سے لاتعلق کیا، جس کے نقصانات چاروں صوبوں میں ظاہر ہوئے، پھر ان کو اب واپس لینے کی باتیں ہوئیں یا نہیں؟ آج پھر پچیس سال کے بعد اسی نظام کو دوبا��ہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
2017ء میں فاٹا کا انضمام کیا گیا، اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں آئین میں ترمیم ہوئی، صرف آئین کی دو دفعات کو تبدیل کیا گیا اور پورے آئین کو بغیر ڈیبیٹ کے فاٹا کے علاقے پر تھوپ دیا گیا۔
آج کہا جا رہا ہے کہ وہ شاید فیصلہ غلط تھا اور ایمرجنسی انہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ فاٹا کا وہ علاقہ، جو وفاق کے کنٹرول میں ہوتا تھا، آج ایمرجنسی کے نام پر وفاق کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔
میری معلومات یہ ہیں کہ قبائلی عمائدین کو بلایا بھی گیا ہے اور ان سے مشاور�� بھی لی گئی ہے کہ فاٹا کے نظام کا انضمام، جو تھا، وہ کامیاب ہے یا ناکام۔ اتفاق اس پر ہوا ہے کہ وہ ناکام ہو چکا ہے، پرانی حیثیت کو بحال کر دیا جائے۔ اس قسم کی چیزیں پسِ دیوار ہو رہی ہیں، ہماری معلومات میں ہیں اور یہ سب کچھ جو ایمرجنسی ہے، یہ اس طرف جانے کا عمل ہے۔
اب آپ فیصلے کرتے ہیں، ہم اس وقت بھی آپ پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت اور حالات بتائیں کہ ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں یا آپ کے فیصلوں کی تائید کر رہے ہیں؟ تو پھر کیوں ہمیں ملامت کیا جاتا ہے؟ ہر بات پر کیوں اتنی باتیں اڑائی جاتی ہیں؟ کیوں کردارکشی کی جاتی ہے؟ کیوں الزام تراشیاں کی جاتی ہیں؟ یہ چیزیں، میرے خیا�� میں، پاکستان کے لیے صحت مند عمل نہیں ہیں۔
ہم سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم اپنے مخالفین کا احترام کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف میرے لیے پہلے بھی قابلِ احترام تھے، آج بھی قابلِ احترام ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب کل بھی ہمارے لیے قابلِ احترام تھے، آج بھی ہیں۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے، احترام بھی ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کمزور لفظ استعمال ہی نہیں کیا ہے۔ پورے احترام کے ساتھ ہم ان سے اختلافِ رائے کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں کو ملک کے خلاف سمجھتے ہیں، ملک کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان فیصلوں کے بارے میں ہمیں تشویش ہے کہ بیرونی مداخلت اس میں ہے۔
اور اس زمانے میں جب کولن پاول امریکی وزیرِ خارجہ تھا تو اس نے بھی وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز ہماری تھی۔ آج معدنی ذخائر کے حوالے سے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور باقاعدہ ایک پوڈ کاسٹ میں
کہہ رہی ہیں، معدنی ذخائر کے حوالے سے اپنے منصوبے اور اپنی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہیں۔
میں صاف صاف کہہ دوں کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں۔ یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟...........جاری
یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔
اگر پاکستان نے ایران ��ور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔ قائد جمعیت
جمعیۃ علماء اسلام کا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے،اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے،اگرچہ اسلامی تنظیم کانفرنس ایک پلیٹ فارم ہے لیکن غیر مؤثر ہے۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ ایک مضبوط اتحاد، جو سیاسی،معاشی اور دفاعی اعتبار سے متحد ہو جائے، یہ سلسلہ جب چلا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہوا، بعد میں ترکیہ اس میں شامل ہوا،پاکستان میں ایک کانفرنس ہوئی، ہرچند کہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہے، لیکن ان اقدامات سے ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا، تو ہم نے اس کو بلا جھجک سپورٹ کیا۔
ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملے اسلامی دنیا کے اتحاد کی طرف پیش رفت کا راستہ روکنا ہیں، جو بظاہر اب رک بھی چکا ہے۔ ہم ایران سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ اسلامی اتحاد کا عمل آگے بڑھے،سعودی عرب اور ایران کے درمیان تحفظات یا بدگمانیاں دور ہونی چاہئے۔
ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آج جب دنیا بدل رہی ہے،ہرچند کہ ہمارے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہے، لیکن وہ غیر مؤثر ہے،ہم ایک مستقل ایشیائی فیڈریشن چاہتے ہیں جو باہمی اقتصادی تعاون کی طرف سنجیدگی سے اور مؤثر انداز کے ساتھ آگے بڑھے۔ ہم تو اپنی جمعیت کی تاریخ میں اس نظریے کے تسلسل کو پا رہے ہیں اور آج بھی اس کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت ��ی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔
اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔