🚨سوال : میں جانتی ہوں کہ علیمہ خان عمران خان سے ملاقات کا راستہ نکالنے کے لیے عوامی موبلائزیشن کر رہی ہیں اور شائید شہر اقتدار کی طرف مارچ بھی کرنا چاہتی ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی اثر ہو گا ؟
قاسم خان : پاکستان میں اس وقت ملٹری ڈکٹیٹر شپ قائم ہے پاکستان میں جو بھی احتجاج کے لیے نکلتا ہے اسے کچل دیا جاتا ہے پچھلے کچھ سالوں سے ہم یہ ہی دیکھتے آ رہے ہیں پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے یہ لوگ بیت ظالم ہیں یہ لوگوں کو مسرت ہیں ہر قسم کا ظلم کرتے ہیں تاکہ ان کے اقتدار کو دوام بخشا جاسکے اس کے لیے ان کو کوئی فکر نہیں میرے خیال میں ان لوگوں کو احتجاج سے فرق تو نہیں پڑتا لیکن مجھے امید ہے کہ علیمہ خان پوری کوشش کریں گی کہ اثر ہو لیکن اس وقت یہ رجیم مکمل طاقت رکھتی ہے انہیں نے میرے والد عمران خان سمیت تمام جمہوری لوگوں کو قید کر رکھا ہے ہم نے بین الاقوامی سطح پر جس بھی فورم پر بات کی ہمیں مثبت ردعمل ملا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پر خاموشی چھا جاتی ہے
3 سال مکمل: ایک طرف عمران خان نے بہادری سے جیل کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
دوسری طرف عاصم منیر اور انکے ساتھیوں نے خان کو توڑنے کے چکر میں عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، اداروں، آئین، معیشت، امن و مان، قومی یکجہتی اور انسانی حقوق سمیت سب کچھ تباہ کر دیا مگر بات نہیں بنی۔
تابش ہاشمی کی ایک دن کی زندگی جرنیلوں، شریفوں، زرداریوں، انصار عباسیوں، سہیل وڑائچوں، ایم ایفوں، ابصار عالموں، راویوں اور عسکری راتب خوروں کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!
“عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔”
- عمران خان، اکتوبر 2025
#PakistanUnderAsimLaw
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی آج کل مل کر پورے اتفاق سے اقتدار کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ زبانی کلامی نورا کشتی دیکھ کر عمران خان کی بات یاد آ گئی۔
عمران خان نے کہا کہ، زرداری نے کہا کہ شریف خاندان چور ہے۔ شریف خاندان نے کہا کہ زرداری چور ہے۔
میں نے کہا کہ تم دونوں کی بات ٹھیک ہے۔