سچی بات یہ ہے کہ تکلیف اور بےبسی بڑھتی جا رہی ہے۔
دل میں مسلسل درد رہنے لگا ہے۔ اور اس درد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے 1051 دنوں سے ایک بےگناہ انسان ہمارے لئے ایک سیل میں قید ہے۔
اس گرمی میں ایک تنگ و تاریک تندور نما کوٹھڑی میں قید کا تصور کریں۔ وہ کیا سوچتا ہو گا۔ اپنے بارے میں ہمارے وارے میں!
مجھے خدشہ یہ ہے کہ اس بےگناہ اور مخلص انسان کہ وجہ ہم سب پر اللہ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے جیسے قوم ثمود پر نازل ہوا تھا جب چند اوباشوں نے حضرت صالح (ع) کی اونٹی کی ٹانگیں کاٹ دی تھیں اور قوم خاموش رہی تھی۔
اب ہمیں ایران سے بات کرنے کے لیے کسی ثالث کی ضرورت نہں ہے۔ ہم براہراست بات کررہیں ہیں کہ کیا سچ بولا جاتا ہے کیا جھوٹ۔ ہم خود بات کررہیں ہیں۔۔۔۔۔لو جی کر لو ثالثیاں پالشیاں
ایران امریکہ معاہدے پر چمچوں سے واہ واہ کروانے کی بجائے اس سارے معاملے میں ایران سے یہ سیکھ لیتے کہ سائفر پر کیسے react کرنا چاہیئے تھا تو پورا پاکستان سکھ کا سانس لیتا
شہباز گل وہ ہے جسکو بد ترین تشدد کیا گیا بلکہ اسکے ڈرائیور کی بیوی اور بیٹی کو بھی بھی حوالات میں بند کیا گیا تھا ۔۔۔
مزمل اسلم کون ہے اسکی کیا کریڈبلٹی ہے ؟؟؟
آسٹریلیا کا وزیراعظم پاگل تو نہیں ایک بچی کے مرنے پر واویلا کر رہا ہے،یہاں تو ہزار کے قریب ایسے ہی مار دئے گئے پچھلے ایک سال میں، یہاں تو تقریبا روز کا ہے۔
پاگل کہیں کا 😒😒
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
ڈاکٹر عظمٰی کا خدشہ 🚨
کیا یہ عمران خان کو زہر کا انجیکشن تو نہیں لگا رہے ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت ہے کہ لوگوں کو زہر دے کر مار دیا جائے۔ ہمیں اس وقت کچھ بھی نہیں پتہ، ہم نے انہیں انجیکشن سے منع کیا تھا
میں عمران خان کے لئے بہت پریشان ہوں۔
تقریباً 6 مہینے اور 12 دن پہلے 2 دسمبر 2025 کو ڈاکٹر عظمی خان کی ان سے بیس منٹ کے لئے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سخت تکلیف میں ہیں۔ ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد سے خان صاحب کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ کتنی تکلیف میں ہیں۔ کس عذاب میں ہیں۔ ان کی آنکھیں بچ گئیں یا چلی گئیں۔
خان صاحب کو اغواء کر کے قید میں رکھنے والے اپنے کارنامے پر خوش ہیں۔ اپنی کامیابی پر حیران ہیں کہ انہوں نے قوم کے مقبول ترین اور محبوب ترین لیڈر کو مسنگ پرسن بنا دیا ہے اور قوم اس ظلم کو سہہ گئی ہے۔
ایسا نہیں ہے۔ تم لوگوں نے اس عمل سے نفرت کے بیج بوئے ہیں جس کی فصل تمہیں کاٹنا پڑے گی۔ جیسے ڈکٹیٹر ایوب خان نے نفرت کے بیج بوئے تھے اور فصل یحیٰی خان کو کاٹنا پڑی تھی۔
نفرت کے بیج بو کر تم محبت کی فصل نہیں کاٹ سکتے۔ یہ نفرت تمہیں جلا کر بھسم کر دے گی کیونکہ تم نے اس نسل کے لیڈر کو اغواء کرکے نمرود کی طرح اس پر ظلم کیا ہے جو جواب دینا جانتی ہے۔ اس کا تمہیں اور تمہاری نسلوں کو جواب دینا ہو گا۔
مزمل اسلم جس کی اپنی کوئی کریڈیبلٹی نہیں وہ ان ڈاکٹر شہباز گل پر حملہ آور ہے جو نہ صرف اپنے مخصوص سٹائل میں باجی پائن اور چھوٹے چھوٹے بھگوانوں سب کی بینڈ بجاتے ہیں بلکہ PTI کے وہ پہلے فرد ہیں جن پر وحشیانہ تشدد ہوا۔ انہوں نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی بلکہ شروع سے آخر تک ڈٹے رہے
ان پر مزمل اسلم جیسے چبڑھ ٹاوں ٹاؤں کر کے صرف اپنی اصلیت ظاہر کر رہے ہیں
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
7 ماہ سے جس طرح عمران خان کو چھپایا جا رہا ہے یہ بہت سے خدشات ہیں سنجیدہ نوعیت کے لگتا ہے انہوں نے کچھ کردیا ہے ورنہ ایسا ہونہیں سکتا کہ ایک آدھ بندے سے ملوا ہی دیتے چھپ چھپا کر ہی۔۔۔