مبینہ اغوا کار درندوں نے چھوٹے معصوم بچے کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ کر منہ پر ٹیپ لگا دی اور بعدازاں اسے ایک بوری کے اندر باندھ کر بند کر دیا، تاکہ بچے کی آواز باہر نہ نکل سکے!
منظر سامنے آنے پر دل دہل گئے، سوال یہ ہے کہ ایک معصوم بچے کے ساتھ ایسی درندگی کرنے والے شخص میں آخر کتنی سفاکیت ہوگی؟ ایسے جرائم پیشہ افراد پھانسی کے حقدار ہے۔
والدین سے گزارش ہیکہ بچوں کو اکیلا باہر نہ جانے دیں، کیونکہ باہر انسانوں کی شکل میں چھپے درندے موجود ہیں،قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں، تاکہ کسی اور معصوم کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔
@GBTourism_ میں اس چیز میں گلگت کے لوگوں کے ساتھ ہوں وہ بالکل صحیح کرتے ہیں کہ جب کوئی ان کے پاس سیا کچرا پھینکتا ہے تو وہ اس کو منع کرتے ہیں یہ بہت اچھا طریقہ کار ہے