@RShahzaddk Waisay bhai 20 times daikhnaaay wali to koi baaat nahin ki Neha bora naay ismain . She speaks good and is street leader but her other viral videos are better than this !
سپاہی حمزہ لیاقت شہید کی جسد خاکی دیکھ کر دوسرا بھائی جذبات میں ا کر رو پڑا
یہ وہ مجاھد ہیں جو اپنے وطن کے خاطر قربان ہو جاتے ہیں اور آج کل کچھ منافق انہی پر بھونک رہے ہیں
🫡🇵🇰🥹
بھارت میں اس وقت 990 طلبا گرفتار ہیں.
ان میں سے بتایا جا رہا ہے کہ 660 طلبا مسلمان ہیں.
یہ اعدادوشمار ان چغدوں کے لیے ہیں جو یہاں بھارت کی جمہوریت کے فضائل بیان کرتے کرتے باؤلے ہوئے جا رہے ہیں.
@FrehmanD You did marvellous work .I pray we are able to use this info to the maximum benefit of our country and find out all black sheep’s who are silently aiding this and playing without our country !
یہ کلپ ہزاروں تولہ سونے سے بھی قیمتی ہے
اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں
ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنےکا سبب بن جائیں گے
بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
خاکپائے صحابہ و اہلبیت
کیسا وجہہ اور خوبصورت جوان ہے
زید سلیم نام تھا اسکا
اسکے والد فوج میں تھے
شہید ہوگئے تھے
برگیڈیر محمد سلیم نام تھا اُنکا
یہ جوان بھی شہید ہوگیا
میجر تھا فوج میں
"یہ فوجی اپنے بچوں کو فوج میں نہیں بھیجتے"
"صرف سپاہی ہی شہید ہوتے ہیں "
"بڑی گیم ہے یہ اپنے بندے خود مرواتے ہیں"
دشمن کی گولی تکلیف نہیں دیتی
اصل تکلیف یہ طعنے دیتے ہیں
#OurShuhadaOurPride
😍 خوشنصیب 😍
جب کراچی کی کھڈی کا کاریگر خانہ کعبہ کا غلاف بنانے کےلئے چُنا گیا تو معاوضے میں اس نے جو مانگا سعودی بادشاہ کو حیران کردیا
بیاسی سالہ حاجی ایوب جب اپنی زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تو انہیں اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا کیونکہ وہ بیس سال کے نوجوان تھے جب کراچی سے انہیں بلواکر غلاف کعبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی اور معاوضے کے طور پر انہیں وہ اعزاز ملا جو بڑے بڑے بادشاہوں اور سربراہان مملکت کو بھی کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ کراچی کے علاقے بنارس ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے حاجی ایوب ان چند بنارسی کاریگروں میں شامل تھے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے اور اپنے ساتھ صدیوں پرانا بنارسی بُنائی کا فن بھی لے آئے۔ 1962 میں غلافِ کعبہ کراچی میں تیار کیا گیا، غلاف کی تیاری روایتی بنارسی کھڈیوں پر ہوتی تھی اور اس کام میں صرف چند ماہر کاریگر ہی شامل تھے۔‘ تیاری میں کوریا سے درآمد کیا گیا اعلیٰ معیار کا ریشم، جسے ’کتان‘ کہا جاتا تھا، استعمال کیا جاتا تھا۔ جدید مشینوں کا دور نہیں تھا، اس لیے پورا ڈیزائن ہاتھ سے بنایا جاتا اور پھر ایک ایک دھاگہ اٹھا کر انتہائی باریک بینی سے بُنائی کی جاتی تھی۔ صرف ایک نمونہ تیار کرنے میں آٹھ ماہ لگے۔ 1980 میں سعودی حکام نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کا نمونہ تیار کرنے کے لیے مختلف کاریگروں کو مدعو کیا، جس کے لیے پاکستان سے بھی بنارسی کاریگروں کو بلایا گیا۔تقریباً 40 کاریگروں کے درمیان ان کا ڈیزائن منتخب ہوا اور دو سال بعد، 1982 میں انہیں سعودی عرب میں اعلیٰ حکام کی جانب سے کاریگروں کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔سعودی حکام نے حاجی ایوب کو مالی معاوضے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے ایک مختلف درخواست کی۔
بقول ان کے: ’میں نے کہا کہ مجھے پیسے نہیں چاہییں، اگر ممکن ہو تو مجھے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کے اندر غلاف نصب کرنے کی اجازت دی جائے۔‘
ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی اور وہ دیگر کاریگروں کی ٹیم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے پرانا اندرونی غلاف اتار کر نیا غلاف نصب کیا۔
وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آج بھی جذباتی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’اندر داخل ہوتے ہی میں دو دو رکعات نفل ادا کیے۔ اللہ کے جلال کا ایسا منظر تھا کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خوشی بھی تھی اور ایک عجیب سی ہیبت بھی۔
یوں کراچی کے حاجی ایوب کو وہ اعزاز ملا جو بڑے بڑے طاقت ور سربراہان مملکت کو بھی کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ سبحان اللہ۔ بیشک یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
اللہ ہم سب کو بھی مکہ اور مدینہ میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین
را کی خبر پر سوال ۔۔۔
جب بات آرٹیکلز کے content پر شروع ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آرٹیکلز کس بارے ہونگے۔
اس پر اس خاتون کے نام پر بنائے گئے اکاؤنٹ نے کہا کہ آرمی ، بلوچستان، افغانستان۔ اینٹی چائنہ، اینٹی گورنمنٹ وغیرہ وغیرہ
میں نے اس سے پوچھا افغانستان کیخلاف ؟ جس پر اس نے کہا کہ افغانستان کے پناہ گزینوں کے حق میں، بلوچستان میں ہونے والی atrocities کے بارے ۔
میں نے اس سے پوچھا آرمی کے خلاف کس طرح؟
ان دنوں سپریم کورٹ سے ملٹری کورٹ بارے کوئی فیصلہ آیا ہوا تھا تو اس نے کہا مثلا اس ججمنٹ کیخلاف آپ بات کرسکتے ہیں۔
کیونکہ یہ گفتگو 8 مہینوں پر محیط ہے ۔ وقت لگتا ہے یہ سب تفصیلات لکھنے میں اس لیے باقی کی تفصیلات پھر کسی اور ٹائم آج یا کل انشااللہ شئیر کروں گا۔
را کی خبر پر ایک اور سوال
۔۔ کہ یہ سب ڈرامہ ہے اور اب کیوں خبر چھاپی؟
مجھے اپروچ کیا گیا 19 نومبر کو ۔ ہیلو ہائی ۔ رسمی بات کے بعد
21 نومبر کو اس اکاؤنٹ نے کہا ہم ایک PR ایجنسی ہیں Matrix Consultancy کے نام پر دبئی میں۔ ہم آرٹیکلز چھپوانے کے لیے مختلف لوگوں کو engage کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ کلائنٹ ہیں جو کہ کچھ نیوز سٹوریز رن کروانا چاہتے ہیں PTI کے حق میں۔
میری یہ بطور صحافی روٹین ہے کہ اگر کسی سے ملنے جانا ہو یا بات کرنی ہو تو اسکے متعلق پہلے بنیادی معلومات انٹرنیٹ پر ضرور چیک کرتا ہوں کیونکہ اس سے آسانی ہو جاتی ہے اگر آپکے پاس اس سے متعلق کوئی تھوڑی بہت معلومات ہوں۔ میں نے گوگل کرکے matrix consultancy یا PR سرچ کیا تو اس سے پتہ چلا کہ اسکی ٹاپ مینجمنٹ میں کوئی گورے اور انڈینز تھے۔ (ثبوت: ویڈیو 1)
میں نے اسے انکار کیا اور جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا میں کوئی اور صحافیوں سے پوچھوں گا اگر وہ کرنا چاہیں گے تو آپکو بتا دوں گا۔ اس اکاؤنٹ سے بار بار رابطہ کیا گیا تو میں نے اپنی میجمنٹ کو بتایا کہ ایسے مجھ سے کوئی رابطہ کرکے آرٹیکلز چھپوانا چاہ رہے ہیں۔
جسکے بعد 13 دسمبر 2025 کویہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکو کہو ٹھیک ہے میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اس پورے پراسس کو ریکارڈ کریں کہ یہ کون لوگ ہیں اور انکا طریقہ کار کیا ہے۔ جب میں نے ہاں کہی تو اسکے بعد پیسوں اور content کی بات ہوئی۔ (ثبوت: ویڈیو 2)۔
بہرحال یہ معاملہ نومبر 2025 سے چلتا رہا۔ اس دوران انہوں نے تین آرٹیکلز بھیجے ہم نے چھاپا ایک بھی نہیں۔ اور نہ ہی یہ مقصد تھا۔ اصل مقصد ان سب چیزوں کو بطور ثبوت ڈاکیومنٹ کرنا اور اپنی خبر کے لیے استعمال کرنا ہے۔ 8 مہینے کے بعد اب اس لیے چھاپی کیونکہ ہمارے پاس خبر کرنے کے لیے اب تمام ثبوت پورے ہوگئے مالی ٹرانزکشن، انکے تین آرٹیکلز، 8 مہینوں کی بات چیت کا ریکارڈ، انکے آڈیو کالز کی ریکارڈنگز اور آخر پر ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ را ہیں تاکہ انکا موقف بھی ساتھ ہو۔
صحافی فخر درانی نے را کی ایجنٹ لڑکی کی تمام کالز ریکارڈ کر لیں تھیں مکمل ثبوتوں ساتھ سٹوری بریک کی ھے را کی ایجنٹ لڑکی ساتھ ھونے والی گفتگو کی سنیں اور سوچیں قاسم سوری ،عمران ریاض اور صابر شاکر کیسے پاکستان سے باہر گئے
میں ایک عرصے سے اسلام آباد کی پراپرٹی/کنسٹرکشن مارکیٹ میں ان ہوں،
شوق ہے، تجسس ہے، چل ہے تو پوچھتا پاچھتا رہتا ہوں،
اب ایک دلچسپ لیکن "مجرمانہ" سچائی،
اسلام آباد جو پورے پاکستان کی پراپرٹی کا حب سمجھا جاتا ہے، کے یہاں کے سودوں میں کروڑ روپے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہاں ہزاروں پراپرٹیز ہیں جنکی مالیت ارب روپے سے بھی زیادہ ہے،
اسلام آباد میں 20-30 کروڑ روپے کا فقط گھر تو ایک عام سی بات ہے،
اسی طرح 20-30 کروڑ کی ایک دکان بھی عام آئٹم سمجھا جاتا ہے،
اور یہاں کا سب سے بڑا انویسٹر،
بلوچستان، خیبر پختونخوا کے وڈیرے/سردار/خان وغیرہ ہیں،
اس سے بڑا ننگا اور "ذلیل" سچ یہ ہے،۔
کے دوسرے نمبر پر جو گروپ بڑا انویسٹر ہے وہ ہے دیوبندی مدارس کے مہتمم، اہل تشیعوں کی امام بارگاہوں کے کرتا دھرتا، اور پاکستان بالخصوص پنجاب کے جنوبی اضلاع اور سندھ میں موجود درباروں کے پیر صاحبان۔
سمجھ سے بالاتر ہے کے انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں کے بڑوں کے پاس اتنا مال اور اتنا ہی مال آخر کہاں سے آتا ہے...!!
#نجم_نامہ
🚨مُلکی دفاع سادات کے نہیں، پاک فوج کے کنٹرول میں ہے!!
چیمہ صاحب! آپ کی سادات سے عقیدت کی میں قدر کرتا ہوں لیکن آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ میرے مشاہدے کیمطابق پاک فوج میں تعصب کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اِس معاملے میں معمولی غیرذمہ داری بھی برداشت نہیں کی جاتی۔
پاک فوج کی مضبوط تنظیم کسی مخصوص قبیلہ یا ذات پر منحصر نہیں بلکہ قومی یکجہتی کے تصور پر مبنی ہے۔
پاک فوج کا قبیلہ پاکستان ہے اور ذات پاکستانی ہے۔
آئی ایس آئی صبح و شام پاکستان کا خاموشی سے دفاع کرتی ہے جس کی قیادت سید نہیں لیفٹینینٹ جنرل عاصم ملِک کر رہے ہیں۔
پوری دنیا میں پاکستان مخالف بیانیئے کا مقابلہ کرنے والے سید نہیں لیفٹینینٹ جنرل چوہدری احمد شریف ہیں۔
پاک فوج کی تمام کورز میں سے غالباً صرف تین کورز کی قیادت سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے لیفٹینینٹ جنرلرز کر رہے ہیں۔
المختصر، پاک فوج کی اصل طاقت ایک فوجی کی بندوق یا اُس کا حسب و نسب نہیں بلکہ ادارے کا ناقابلِ تسخیر اتحاد، مضبوط تنظیم اور یقینِ محکم ہے جس کا عملی نمونہ ہم روز دیکھتے ہیں۔
براہِ مہربانی آپ سادات کی شان میں کوئی اور قصیدہ کہہ دیجیئے لیکن دفاعی اداروں کے لیئے عصبیت پر مبنی ٹویٹس سے گریز کیجئے۔ 🙏🏻