چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کی جانب سے چابہار پورٹ میں تاجروں کو سہولیات فراہم
کابل ( الامارہ ) چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کا کہنا ہے کہ؛ چابہار بندرگاہ کے ذریعے قومی تاجروں کو تجارتی لین دین کے حوالے سے ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ سرمایہ کاروں کے لیے بروقت اور معاشی طور پر کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
@Khurram_zakir بھاٸی اگر آپ کا نام چھپکلی کے ساتھ لکھا جاۓ تو یقینا آپ کو برا لگے گا لیکن آپ نے چھپکلی کی تصویر کے ساتھ اس کے پاٶں کے نیچے نبی پاک کا نام آرہا ہے اب یہ گستاخی نہیں ہے کیونکہ یہ مسلمان کر رہا اس لیے یہ اب گستاخی نہیں ہو گی؟ ایسا مت کرو۔
مشہور امریکی جج “Frank Caprio” ریٹائر ہوئے تو ان کو الوداع کہنے سارا شہر روڈ پر نکل پڑا۔ ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دینے والے کی عزت کیا ہوتی ہے ویڈیو دیکھ کے اندازہ ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ، “کیا ہمارا کوئی بھی ایک جج ریٹائرمنٹ کے بعد ایسے عوام میں نکل سکتا ہے” ؟؟؟
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگا��۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ می�� اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ ��سٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)