Muhaajary Anzorgary: Art and the Afghan Female Migrant Experience,
This is a crucial litrary resource which examines how female Afghan artists utilize visual culture as a form of resistance, re-articulating identity and reconstructing narratives to navigate displacement.
خیبرپختونخوا میں نئے تعینات ہونیوالے صوبائ پولیس سربراہ زوالفقار حمید صوبے میں پہلے سے کام کرنیوالے کمانڈنٹ ایلیٹ پولیس فورس محمد وصال فخر سلطان سے جونیئر ہیں۔فخر سلطان چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان کے بھائ ہیں۔ @CMShehbaz@KP_Police1@AliAminKhanPTI
افغانستان کے ساتھ باجوڑ کے تجارتی راستوں ( ناواپاس وغیرہ کھولنے کےحوالے سے ANPکے زیر اہتمام خارپریس کلب باجوڑ میں قومی جرگہ منعقد ہوا۔
جرگہ میں تمام مشران نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ بیس سال سے بند تاریخی تجارتی راستوں کو فی الفور آمد و رفت و تجارت کیلئے کھول دیا جائیں !
خیبر پختونخوا کابینہ میں ریوڑیوں کے دام وزارتوں کی بندر بانٹ جاری
ایک اور معاون خصوصی کی شمولیت کے بعد خیبر پختونخوا کی مختصر ترین کابینہ ارکان کی تعداد 32 تک پہنچ گئی
وزیر اعلی سمیت وزرا کی تعداد 17 ہے
مشیروں کی تعداد 4 اور معاونین خصوصی کی تعداد 12 ہو گئی
کابینہ کے ان ارکان میں 4 غیر منتخب ہے۔
پی ٹی آئی والے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کو برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ اس نے عمران خان کو دھوکا دیا۔ گنڈاپور نے ایسا کوئی دھوکا نہیں دیا۔ اس نے وہی کچھ کیا جو اسے عمران خان نے پلان بنا کر دیا تھا۔ گنڈاپورا کا ٹاسک تھا کہ وہ خیبرپختون خواہ سے ہر قیمت پر بندے لا کر ڈی چوک چھوڑ کر خود غائب ہو جائے گا۔ گنڈاپور کو دی گئی حکمت عملی میں اس کا ڈی چوک رکنا شامل ہی نہیں تھا۔ پلاننگ کے تحت ہی گنڈاپور نے غائب ہونا تھا اور یہ افواہیں پھیلنی تھیں کہ اسے فورسز نے اٹھا لیا ہے۔ صوبے کے وزیراعلی کو غائب کر دیا گیا ہے۔ یوں اس کے غائب ہونے پر اس صوبے کے ہجوم نے مشتعل ہوکر ہنگامے کرنے تھے۔ لیکن ورکرز مشتعل ہونے کی بجائے پریشان زیادہ ہوئے کہ ان کا کوئی لیڈر نہیں آیا۔ ان کو لیڈ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ خان اور پارٹی لیڈروں کا خیال تھا ہجوم خود سے فیصلے کرے گا۔ خود کو لیڈر سمجھیں گیں اور حکومت مجبور ہوجائے گی کہ عمران خان سے رابطہ کر کے اس بے قابو اور پرتشدد ہجوم کے جن کو بوتل میں بند کریں اور خان اپنی شرائط منوائے گا۔
لیکن یہ ہجوم گنڈاپور کے اچانک غائب ہونے بعد پرتشدد ہونے کی بجائے گھبرا کر واپس لوٹنے لگا۔ یہیں پی ٹی آئی کی حکمت عملی ناکام ہوئی اور وہ اس ہجوم کی سائیکی کا اندازہ نہ لگا سکے۔ ان کا خیال تھا جب گنڈاپور کے غائب/اٹھائے جانے کی خبر پھیلے گی تو ہجوم تباہی بول دے گا۔ ہجوم سیانا نکلا اور پیھے ہٹ گیا۔ لہذا بے چارے گنڈاپور کو گالیاں نہ دیں۔ اس نے وہی کچھ کیا جو اسے اس کے عظیم لیڈر نے کرنے کو کہا تھا۔اگر دیکھا جائے تو گنڈاپور نے اپنے عظیم لیڈر کا دیا گیا ٹاسک تسلی سے پورا کیا۔اگر نتائج مرضی کے نہیں نکلے تو گنڈاپور کا قصور نہیں ہے۔ اس کے دو ہی ٹاسک تھے۔خیبرپختون خواہ سے بندے لا کر اسلام آباد انہیں کھلا چھوڑ کر خود غائب ہوجانا تھا اور اس نے پلان/سکرپٹ تحت دونوں کام کیے۔ ویل ڈن گنڈاپور جی😎👍
"11 اکتوبر کو پی ٹی ایم کے پرامن اجتماع پر خیبر پختونخوا حکومت کا ظالمانہ تشدد، آنسو گیس اور سیاسی کارکنوں پر حملہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حکام سے انصاف اور پرامن اجتماع کے آئینی حق کو یقینی بنانے کی اپیل ہے۔
خوشخبری ۔
پختونخوا کے قدرتی وسائل پر علمی سائنسی معلوماتی ریسرچ پرمیری کتاب ( شتمنه پښتونخوا) ھفتہ بعد منظر عام پر آئیگی ۔
11 اکتوبر کوخیبر میں پشتون قومی جرگہ میں کتاب کور کے سٹال پرملی گی جبکہ باجوڑ شھد اینڈ فوڈڑ کے اس وٹس ایپ نمبر 03469850225 پرآپ آن لائن بھی منگوا سکتے ہیں ۔
انقلاب کے لیے بنیادی چیز تنظیم نہیں نظریہ ہوتی ہے اچکزئی صاحب۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ تنظیم کا نہیں نظریے کا ہے۔ عوامیت پسند رہنما شور شرابا اچھا کر لیتے ہیں مگر ان کا شور نظریے سے خالی ہوتا ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کے کارکن کو شعور فہم و مطالعہ کی بجائے خان دیتا ہو، وہ انقلاب نہیں لاتی۔
زیادہ خوف ناک سوال یہ ہے کہ بغیر نظریے کے اگر انقلاب آ گیا تو انقلاب کے بعد کیا کریں گے؟