فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ نے جو سیٹیں پی ٹی آئی سے چھین کر فارم 47 کے ذریعے دی تھی وہ ابھی تک واپس نہیں کی
فضل الرحمن کو عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلیے لانچ کیا گیا ہے
عوام انکو انقلابی تب مانے گی جب انکے بیٹے نااہل ہونگے ان کے 25 ہزار ورکرز گرفتار ہونگے اور ان پر FiR ہوں گی
عمران ریاض خان
آجکل ٹاؤٹوں نے مقبولیت کا بڑا رولاڈالا ہوا ہے۔چلیں پاکستانیوں سے سروے کروا لیتے ہیں۔
آپکو ان دونوں میں سے کون پسند ہے؟
عمران خان کے لیے (1)
عاصم منیر کے لیے (2)
ٹائپ کریں۔
24 گھنٹے بعد رزلٹ جاری کیا جائے گا۔
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
This is a clear conspiracy on the part of the government. We do not want Imran Khan to be treated at Al Shifa Rawalpindi. We have repeatedly and unequivocally stated that Imran Khan must be treated at Shifa International Hospital Islamabad, the facility where the identified specialists are based. The decision has been made by his personal doctors, and any examination or treatment must take place there, under the direct supervision of his personal medical team and Dr. Uzma Khan.
There are serious concerns that he may be forcefully moved in the middle of the night to Al Shifa Eye Hospital, Rawalpindi without informing his family or his personal doctors. Afterwards, it may be falsely claimed that Imran Khan himself requested to be taken there. The reality is that he may not even be aware of this hospital’s existence. This is not acceptable as we have zero trust in those who are responsible for intentionally allowing his eye to deteriorate.
اب یہ مزید تشویشناک بات ہے جو عمران خان کے ذاتی معالج کر رہے ہیں۔
" اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "
اصل حقائق یہ ہیں۔ اس لحاظ سے تو افغانستان بھی 109 سے 101 پر آگیا مگر ہے پھر بھی آخری نمبر پر ہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات کئی ممالک ایک ہی رینکنگ پر آجاتے ہیں جیسا کہ یمن اور پاکستان دونوں 98 پر ہیں۔ اس لیے یہ نمبرز اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں مگر پاکستان آج ماضی سے کم ملکوں میں انٹر ہو سکتا ہے اور صرف 3 ملک دنیا میں ایسے بچے ہیں جنکا پاسپورٹ ہم سے زیادہ کمزور ہے۔
ابھی کل سعیدغنی صاحب کےسہیل آفریدی صاحب کےاستقبال کرنےپر پیپلزپارٹی کا اس کی سیاسی کشادہ دلی پر شکریہ ادا کیا اور آج پیپلز پارٹی کا PTI اور سہیل آفریدی صاحب سےافسوسناک سلوک دیکھ کر شکریہ واپس لینا پڑ رہا،کیا وقت آگیا ہم پر،بڑےعہدےچھوٹےلوگ اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی سیاست
شرمناک۔۔
So if #FaizHameed is convicted and General Bajwa is not, does it mean that Army doesn’t have any discipline?
ISI chief executed crimes without Army Chief’s approval or knowledge?
Shouldn’t there be a trial of General Bajwa to understand what he approved and what he didn’t?
And does it open doors for Asim Munir’s trial if constitution amendments are reversed?
جنرل آصف غفور کے اثاثے منجمند اور سفری پابندی عائد ! 🚨
نیوز نائین کا آرٹیکل 👇
جنرل آصف غفور نے بطور ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے مؤثر بیانات، میڈیا حکمتِ عملی، اور عوامی رابطے کے ذریعے بے حد مقبولیت حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق، اپنے عہد کے دوران انہوں نے عمران خان اور تحریکِ انصاف (PTI) کے لیے میڈیا مہمات میں بھی کردار ادا کیا، جس سے وہ فوجی و سیاسی حلقوں میں نمایاں ہو گئے۔
تاہم، ان کی بڑھتی ہوئی شہرت نے بالآخر جنرل قمر جاوید باجوہ کو محتاط کر دیا، جس کے بعد عاصف غفور کو ڈی جی آئی ایس پی آر سے ہٹا کر اوکاڑہ ڈویژن میں تعینات کیا گیا۔ اسی دوران ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا، جسے بعض مبصرین نے جان سے مارنے کی کوشش قرار دیا۔ بعد میں وہ انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی (IG C&IT) اور پھر کمانڈر 12 کور، کوئٹہ بنائے گئے، جہاں انہوں نے بلوچ شورش کے خلاف سخت مگر عوام دوست حکمتِ عملی اپنائی۔
جب جنرل عاصم منیر نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا، تو مبینہ طور پر انہوں نے عاصف غفور پر مکمل اعتماد نہیں کیا۔ نومبر 2023 میں انھیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) کا صدر مقرر کیا گیا، جسے ایک غیر مؤثر یا “پارکنگ پوسٹنگ” سمجھا گیا۔ دسمبر 2024 میں وہ فوج سے ریٹائر ہو گئے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق، ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے اثاثے عارضی طور پر منجمد کیے گئے اور بین الاقوامی سفر پر پابندی لگائی گئی، کیونکہ ان پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ روابط رکھنے کا شبہ ظاہر کیا گیا—جو اس وقت کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں 👇
https://t.co/tbmBjPTYc3
ارشد صاحب۔ آنٹی آپکے پاس چلی گئیں، مقدمہ بھی ساتھ لائیں ہیں۔۔ آپکی ماں انصاف کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلی گئیں، انکا سانس نکل گیا مگر چیف جسٹس نے کیس تک نہیں لگایا۔۔ اب انصاف اللہ کی بارگاہ میں۔۔ ماں جی کا ہاتھ اور قاتلوں کا گریبان! معلوم نہیں کتنی زندگی بچی میری مگر کوشش ہوگی کہ آپکا نام زندہ رہے ہمیشہ!
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
صوبائی صدر جنید اکبر خان کی شہید ارشد شریف کی محترمہ والدہ کے قضائے الٰہی سے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار۔
مرحومہ کی مغفرت، بلند درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعاگو ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید ارشد شریف کی والدہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا کرے۔