Allah will literally sit you down and break you to humble you, then will isolate you to build you.
Then will give you back everything ten fold to prove to you He's real and everything happens for a reason.
Breakups hurt, yeah. But you know what hurts even more? Staying. Staying and trying to “make it work” with someone who has shown you over and over that they don’t value you, don’t prioritize you, and don’t care about your feelings. Begging for bare minimum. Hoping they’ll change. Ignoring the proof right in front of you. That kind of pain drags out way longer than a breakup ever could. Sometimes the real heartbreak isn’t losing them it’s realizing you stayed too long trying to convince someone to love you the right way. THAT’S what really hurts.
جگہ جگہ رپورٹ ہورہا ہے کہ کوٹلی میں راولا کوٹ میں فوج نے ہسپتال پہنچنے والی لاشیں تحویل میں لینے کی کوشش کی۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرنا چاہتے تھے۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرتے رہے ہیں۔ یعنی یہ وہی ہیں۔ مریدکے سے لاشیں غائب کرنے والے۔ ڈی چوک سے لاشیں غائب کرنے والے۔ یہ وہی ہیں۔
پستی کی حد تک چاپلوس بن کر پاکستانی میڈیا کے صرف دو ہی کام رہ گئے ہیں، ایک تو خون کے دھبے دھونا اور دوسرا ہائبرڈ نظام کے جرائم کو صحافتی واردات کے ذریعے چُھپانا، ہمارے ٹی وی چینلز بتا رہے ہیں کہ راولا کوٹ میں 3 کشمیری اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ سیکیورتی اہلکار مظاہرین کی فائرنگ سے شہید ہوئے، سارا میڈیا صرف اور صرف اوپر سے بھیجی گئیں خبریں چلا رہا ہے، جن میں کشمیری احتجاجی قیادت کو قصوروار اور ریاست کو بے قصور ثابت کرنا ہے، اگر آپ راولاکوٹ کی صورتحال پر دونوں طرف کی حقیقت نہیں بتا سکتے تو کم از کم آپ کو خون کے دھبے صاف کرنے کیلئے اپنی آستین تو پیش نہیں کرنی چاہیے۔ انسان سچ نہ بول سکے تو عافیت خاموش رہنے میں ہے نہ کہ وہ فسطائیت کا ٹاوٹ اور وکیل صفائی بن جائے
عمران خان کو 24 گھنٹوں میں صرف 30 منٹ سیل سے باہر جانے کی اجازت!
سیل سے اٸیر کولر ہٹا دیا گیا!
ٹی وی بند اور کتابیں محدود!
باہر کی ملاقاتیں تو بند ہی ہیں لیکن بشری بی بی سے بھی جیل میں ملاقاتیں بند!
پچھلے ہفتے طبعیت حرابی پر جیل میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر نے 2 دفعہ چیک اپ کیا!
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو GB میں اپنے مینڈیٹ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئیے۔
کے پی حکومت اور لیڈرشپ کو کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جیتی ہو نئی نشستیں چپ چاپ بیٹھ کر کھو دینا عوام اور عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
عوام نے ووٹ دیا۔ اب لیڈرشپ کا کام ہے توانا آواز اٹھائے
کل ایک جاننے والے نے فون کیا کہ فرہاد صاحب اگر راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال میں کوئی جاننے والا ہے تو پلیز مدد کریں ہمارے 8 سالہ بچے کو وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے۔میرے ایک مہربان وہاں تھے ان سے گزارش کی تو انہوں نے بتایا کہ وینٹی لیٹر سرکاری ہسپتالوں میں اتنے تھوڑے ہیں کہ ایک مریض وینٹ پر ہوتا ہے تو بیسیوں انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ مرے تو دوسرے کو جگہ ملے۔یوں وینٹی لیٹر نہیں ملا اور وہ بچہ دم توڑ گیا۔خیر کوئی بات نہیں۔بس جنرل مریم کے گیارہ ارب کے جہاز اور سہیلیوں سمیت سیرسپاٹوں کا بندوبست ہو جائے تو کافی ہے۔غریبوں کا کیا ہے غریب تو مرتے رہتے ہیں۔
بیرسٹر حسان نیازی کو عید کے تیسرے دن اپنی والدہ سے ملاقات سے محروم رکھنا ریاستی بے حسی ،کم ظرفی ،اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ چھوٹے لوگ جب اقتدار کے مالک بن جائیں تو ریاستی جبر شتر بے مہار ہو جاتا ہے۔آئین قانون غیر منتخب قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔ میری طویل عمر کا نچوڑ یہی کہ جب اقتدار ظلم اور استبداد کے قبضے میں ہو تو وہ ایسے لوگ ظلم کی مقدار بڑھا کر لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہر اقتدار کا انجام عبرتناک ہوا ہے،ہمیشہ جبر کرنے والوں کا سخت محاسبہ ناگزیررہتا ہے۔
ریاستی جبر کے شکنجہ میں جکڑا اایک قیدی، جو ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہوا ہے، اپنی ماں سے ملنے کی امید لیے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ گیا۔ دوسری طرف اس کی والدہ شدید گرمی، چلچلاتی دھوپ اور طویل سفر کی صعوبت برداشت کر کے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں تاکہ عید کے دن اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ سکیں۔ مگر طاقت کے نشے میں مبتلا چھوٹے لوگوں نے نہ ماں کو اندر جانے دیا اور نہ بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ جیل اہلکار قیدی کی طرح بے بس اور انکے افسران مہرہ ناچیز تھے، سب طاقتور حلقوں کے احکامات کے پابند تھے،جو آئین قانون سے بالاتر ،ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنےبیٹھے ہیں۔ بندر کے ہاتھ استرا آ جائے تو اذیت رسانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ہمیشہ سے مشاہدہ رہا ہے کہ غیر آئینی قوتیں ریاست پر قابض ضرورہو جاتی ہیں مگر اندر سے خوفزدہ، عدم تحفظ کا شکار اور اخلاقی طور پر کھوکھلی ہو جاتیں ہیں۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا وطیرہ بن جاتا ہے۔ آئین روندنا، قانون توڑنا،انسانی قدروں کو پامال کرنا اُنکا معمول رہتاہے۔
سیاق و سباق میں واقعہ بتانا ضروری ہے، 27مئی بروز بدھ عید الاضحیٰ کا اعلان ہو چکا تھا۔ حسب روایت مجھےبچوں کے ساتھ عید منانے میانوالی جانا تھا۔ 26 تاریخ کو روانہ ہونا تھا، اس لیے میں نےاپنے بیٹے حسان نیازی سے 25مئی کوملاقات کی درخواست کی جو کہ قبول کر لی گئی۔ جیل حکام نے پچیس تاریخ کو میری اور میرے بچوں کی ملاقات کا مجھے بتایا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ عید کے دن حسان نیازی کی ملاقات نہیں ہو گی۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ حسان نیازی کی والدہ دور دراز سے صرف ملاقات کے لیے آئیں گی، ایسی صورت میں میری ملاقات منسوخ کرنی پڑے توکر دیں مگر عید کے دن ماں اور بیٹے کی ملاقات ضرور کروا دی جائے۔ اس پر مجھے یقین دہانی کروائی گئی کہ عید کے موقع پر والدہ کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔
آج وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ جھوٹ بولنا ریاستی عادت ہے۔حسان نیازی کی والدہ شدید گرمی میں جیل کے اندر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب حسان نیازی بھی اپنے دیگر ساتھی قیدیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ چکے تھے۔ مگر عین آخری لمحے نہ ماں کو اندر جانے دیا گیا اور نہ ہی بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ عید کے دن ایک ماں کو اپنے اکلوتے بیٹے سے محروم رکھنا sadistذہنیت ہی نہیں، اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے۔
حالانکہ یہ حق نہ صرف جیل مینوئل میں موجود ہے بلکہ ایک بنیادی انسانی تقاضا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ملک میں طاقتور لوگوں کے اشاروں پر راتوں رات جیلوں کے دروازوں کے قفل کھل جاتے ہیں، قوانین معطل ہو جاتے ہیں اور ضابطے روند دیے جاتے ہیں۔ مگر ماں کو عید کے دن ملاقات کی اجازت نہ دینا ریاستی طاقت کے لئیے ہو گیا۔
مجھے بخوبی علم ہے کہ جیل انتظامیہ محض مہرہ ناچیز ، جیل حکام تو نچلے درجہ کی مخلوق ، پعرا ریاستی نظام طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر تگنی کاناچ ہے۔ اصل اختیار غیر منتخب طاقتوں کے پاس جو آئین اور قانون سےبالاتر ، ریاستی مظام کو دبوچ رکھا ہے۔ اپنی اس طویل زندگی میں میں نے کئی طاقتور حکمرانوں کو ہمیشہ منہ کے بل اوندھے گرتے دیکھا ہے، اقتدار کے زعم میں مبتلا، تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے بھی دیکھاہے۔ پاکستان میں اج تک کوئی اقتدار ایسا نہیں آیا جس کی expiry date نہ ہو۔ آج کے حکمرانوں کو بھی اپنے انجام کا انتظار کرنا ہو گا۔
میں بذات خود اسی کوٹ لکھپت جیل میں مختلف اوقات، حتیٰ کہ چھٹیوں اور راتوں کو بھی کئی ملاقاتیں کر چکا ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب جاوید ہاشمی کو 22سال قید مشقت کی سزا ہوئی تھی تواسی جیل میں ہم چند دوست تقریباً روزانہ اُن سے ملاقات کرنے پہنچ جاتےتھے ۔ اگرچہ مارشلاء کا زمانہ تھا پھر بھی گھنٹوں بیٹھتے، بلاناغہ جاوید ہاشمی کے ساتھ کھانا کھاتےتھے۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ تعطیلات اور ممنوع اوقات میں میں نے خود ملاقاتیں کی ہوئی ہیں
مگر آج ایک ماں کو اپنے بیٹے سے صرف اس لیے محروم رکھا گیا کیونکہ ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے آپ کو طاقتور سمجھتی ہے، درحقیقت اندر سے کمزور، بزدل اور شدید عدم تحفظ کا شکار