بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان کی بینائی شدید متاثر ہوئی تھی جو علاج کے بعد صرف 15 فیصد تک بحال ہو سکی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ میری رپورٹ بالکل درست تھی اور ان کی نظر میں مزید کوئی بہتری نہیں آئی ہے
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان کی بینائی شدید متاثر ہوئی تھی جو علاج کے بعد صرف 15 فیصد تک بحال ہو سکی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ میری رپورٹ بالکل درست تھی اور ان کی نظر میں مزید کوئی بہتری نہیں آئی ہے
نواز شریف پر الزام ہے کہ اس کی نواسی کی شادی پر مودی اور اجیت دوول بغیر ویزے کے پاکستان آ گئے تھے
مگر اصل سوال کوئی نہیں پوچھتا
کہ انہیں یہاں لینڈ کرنے کی سیکیورٹی کلیئرنس کس نے دی؟
کیا انکی مرضی کے بغیر یہ غیر سرکاری دورہ ممکن ہوتا
اگر ان دو شخصیات میں سے کسی ایک کو ووٹ دے کر منتخب کرنا پڑے تو آپ ووٹ کسے دیں گے ؟
آج پتا چل جائے گا عوام میں مقبولیت کس بیانیے کی ہے '-
#بزدل_لیڈرشپ_بہادر_علیمہ_خان
🚨علیمہ خان کا دیر تیمرگرہ میں دھواں دھار خطاب
عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ میرے لیے بھیک مانگو عمران خان نے ہمیشہ یہ ہی کہا ہے میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا عمران خان کے لیے دباؤ بڑھانا ہو گا تحریک کا مقصد دباؤ بڑھانا ہے
"عمران خان سر جھکانے والے نہیں، ان کا فوری علاج یقینی بنایا جائے" — علیمہ خان کا اہم بیان
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران بگڑتی ہوئی طبی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کی گونج لوئر دیر اور تیمرگرہ کے سیاسی حلقوں میں بھی سنی جا رہی ہے۔
بیان کے اہم نکات:
طبی تشویش: عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ (خون کا لوتھڑا) بننا انتہائی تشویشناک ہے، حکومت فوری معائنہ کرائے۔
تحریک کا مقصد: تیمرگرہ سمیت ملک بھر میں جاری تحریک کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ قائد کا مناسب علاج ہو سکے۔
کپتان کا عزم: علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے واضح کیا تھا کہ وہ جیل میں جان دے دیں گے لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ وہ خود کبھی مطالبہ نہیں کریں گے، اس لیے لوئر دیر کے عوام اپنے قائد کے حقوق کے لیے میدان میں کھڑے ہیں
عظمی خان 🚨
"خان کے ووٹ پر جیتنے والو، اب پریشر ڈالنے کا وقت آ گیا ہے! جیسے کشمیری اپنے حق کے لیے کھڑے ہیں، ویسے ہی آپ بھی عمران خان کی غیر قانونی قید کے خلاف کھڑے ہوں اور انہیں جیل سے نکالنے کے لیے اپنا پورا زور لگائیں!"
حق مانگو، الزام پاؤ!
اس ملک میں اگر آپ روٹی، روزگار، انصاف، آئین یا ووٹ کی حرمت کی بات کریں تو مبارک ہو، آپ مشکوک قرار دیے جا چکے ہیں۔ اگر آپ نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو آپ کے لیے القابات کی ایک لمبی فہرست تیار ہے۔ پہلے آپ کو "انتہا پسند" کہا جائے گا، پھر "دہشتگرد" قرار دیا جائے گا، اس کے بعد "غدار" اور "ملک دشمن" کے تمغے بھی آپ کے نام کر دیے جائیں گے۔ اگر پھر بھی آپ خاموش نہ ہوئے تو آپ کا تعلق بھارت، اسرائیل، RAW، CIA یا کسی نہ کسی غیر ملکی ایجنسی سے جوڑ دیا جائے گا۔
یہ ایک پرانا نسخہ ہے۔ جب دلیل ختم ہو جائے تو الزام شروع کر دو۔ جب عوام سوال پوچھنے لگے تو ان کے کردار پر حملہ کر دو۔ جب جواب نہ ہو تو مخالف کو دشمن بنا کر پیش کر دو۔
اس مقصد کے لیے پورا ایک نظام حرکت میں آتا ہے۔ درباری ملا فتوے جاری کرتے ہیں، ٹی وی چینلوں پر خصوصی نشریات چلتی ہیں، نامعلوم ذرائع سے آڈیو لیکس برآمد ہو جاتی ہیں، تجزیہ نگار اچانک قومی سلامتی کے ماہر بن جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مہم شروع ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حق مانگنے والا شہری نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کا کمانڈر ہو۔
مگر وقت بدل چکا ہے۔ اب ہر خبر پر یقین کرنے والا دور گزر چکا ہے۔ عوام دیکھ رہی ہے کہ کل جو شخص غدار تھا، آج اقتدار کے ساتھ کھڑا ہو تو محب وطن بن جاتا ہے۔ جو کل ملک دشمن تھا، آج کسی مفاہمت کے بعد قومی ہیرو قرار پاتا ہے۔ اس تضاد نے پروپیگنڈے کے کئی چہرے بے نقاب کر دیے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ ہر احتجاج سازش نہیں ہوتا، ہر اختلاف بغاوت نہیں ہوتا اور ہر تنقید غداری نہیں ہوتی۔ لوگ جان گئے ہیں کہ اکثر اوقات "قومی سلامتی" کے نام پر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی لیے وہ تمام ہتھکنڈے جو کبھی عوام کو خوفزدہ کر دیتے تھے، آج اپنی تاثیر کھو رہے ہیں۔ الزاموں کی دکان ابھی بھی کھلی ہے، مگر خریدار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام اب سوال بھی پوچھ رہی ہے، جواب بھی مانگ رہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ الزامات کے شور میں حقائق تلاش کرنا بھی سیکھ چکی ہے۔
تاریخ کا اصول سادہ ہے: آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب ایک قوم سوال پوچھنا سیکھ جائے تو پھر پروپیگنڈے کے پرانے ہتھیار زیادہ دیر کارآمد نہیں رہتے۔
لکھاری: @IlyasKhan37635
عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق
علیمہ خان نے عمران خان کی صحت اور خوراک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ساتھ مصر کے سابق صدر محمد مرسی جیسا سلوک دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو زہر دیے جانے کے خدشات پر فوری شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔