پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا کی حکومت نے ایشو کیے ہیں جی ایچ کیو یا فیڈرل حکومت نے ایشو نہیں کیے
کتنے پختونوں کتنے قبائلیوں کتنے افغانیوں کے نام ہیں سامنے لائیں ہمت کریں
کوٹلی شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا: دہشتگردوں کا ناپاک منصوبہ ناکام
‼️آزاد کشمیر کے محافظوں کو 04 اکتوبر کو مصدقہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا ایک گروہ (جس کی قیادت دہشتگرد ایاز بٹ کر رہا تھا) 05 اکتوبر کو کوٹلی شہر میں کسی بڑی تباہی اور دہشتگردی کی کارروائی کی تاک میں ہے
‼️سیکیورٹی اداروں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے برق رفتار کارروائی کی، گھیرا تنگ کیا اور ماسٹر مائنڈ سمیت تمام 08 دہشتگردوں کو حراست میں لے کر شہر کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا
ان کی نشاندہی کر کے ان کو گرفتار کریں ان کے شناختی کارڈ پاسپورٹ بلاک کریں اور ان سے اس نقصان کا مکمل خرچہ وصول کریں
اس کو پھیلائیں تاکہ ادارے ان کے خلاف نوٹس لیں
مرحلہ وار گائیڈ (سوشل میڈیا یا پمفلٹ کے لیے موزوں):
1. رجسٹریشن کا طریقہ (میسج 9771 پر بھیجیں):
[13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر] (اسپیس)
[گاڑی کا نمبر] (اسپیس)
[صوبے کا پہلا حرف، مثلاً P / I / A] (اسپیس)
[رجسٹریشن کی تاریخ]
2. رعایت کا ٹوکن کیسے حاصل کریں؟
رجسٹریشن کے بعد 9771 پر TOK لکھ کر بھیجیں۔
موٹر سائیکل اور رکشہ: ہفتے میں 1 بار
چھوٹی گاڑیاں: ہر 10 دن میں 1 بار
3. فیڈ بیک:
شہری کسی بھی سوال یا رائے کے لیے 9771 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں ایکسیویٹر دیکھ کر آپ نے سمجھا ہو گا یہ کوئی بہت بڑا پروجیکٹ چل رہا ہے تو آپ نے غلط سمجھا ہے۔
یہ کوہاٹ ہے جہاں خیبرپختونخواہ کے صوبائی وزراء نے اپنے خاص لوگوں کو سونے کی غیر قانونی مائیننگ پر لگا رکھا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کہتی ہے کہ خیبرپختونخواہ میں آپریشن اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں سے معدنیات نکالی جا سکیں لیکن اصل کہانی یہ تھی۔
سوشل میڈیا و الیکٹرانک میڈیا پر سب کو دہشتگردی کیخلاف ہونیوالے آپریشن اور معدنیات کی بتی کے پیچھے لگا کر خود انہی معدنیات کو نکالنا مقصود تھا کیونکہ انہی کے ذریعے دہشتگردوں کو بھتہ بھی دیا جاتا ہے۔
لاہور: حکومتِ پنجاب جنوری 2027ء سے صوبے کی 91 تحصیلوں میں 1,500 الیکٹرک بسیں چلائے گی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہر تحصیل کے لیے مخصوص الیکٹرک بس ڈپو کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جبکہ بسوں کی پہلی کھیپ جنوری میں لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف جون 2027ء تک پنجاب بھر میں 3,000 الیکٹرک بسیں فعال کرنا ہے۔
خیبرپختونخواہ کرپشن میں سندھ سے بجی آگے نکل گیا ہے بس سندھ کی طرح کھنڈر بننا باقی رہ گیا ہے۔ خیبرپختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں 39 پیرامیڈیکل کی سیٹوں پر 81 افراد بھرتی کر دئیے گئے۔
صرف اتنا ہی نہیں انکی تعیناتی ستمبر میں ہوئی اور تنخواہیں تین ماہ پہلے مئی میں دینا شروع کر دی گئیں۔
آگے سنئے جی یہیں نہیں بھرا بلکہ جنہیں تعینات کیا گیا ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو E Testing میں فیل ہو گئے اور وہ بھی شامل ہیں جن کے کاغذات جعلی تھے۔
لیکن چونکہ یہ نیا پاکستان ہے۔
یہاں صاف چلی شفاف چلی حکومت ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے صحت اور تعلیم کے نظام کو درست کرنے کا ایک انوکھا حل پیش کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سرکاری اداروں کی حالت سدھارنی ہے تو قانون کے ذریعے تمام سرکاری ملازمین اور حکام پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ:
ان کے بچوں کی تعلیم صرف سرکاری اسکولوں میں ہو۔
ان کے خاندان کا علاج معالجہ لازماً سرکاری اسپتالوں میں ہو۔
ان کے مطابق جب اختیارات رکھنے والا طبقہ خود سرکاری سہولیات پر انحصار کرے گا، تو وہ ان کے مسائل فوری حل کرنے پر مجبور ہوگا، جس سے معیار خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ انہوں نے عسکری طبی اداروں کی مثال دی کہ وہاں کے ڈاکٹر نجی پریکٹس نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اسپتالوں کا معیار شاندار ہے اور لوگوں کو شکایت کا موقع کم ملتا ہے۔
پاکستان دنیا کو کئی بار بتا چُکا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں گڑبڑ کرواتا ہے بھارت کے لیے پہلے سے زیادہ خطرہ ھے پاکستان فوج لازمی لڑے گی وہ پیچھے نہیں ہٹے گی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کو بھی مکہ معاہدے میں شامل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے کشمیری ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ھوں گے کیونکہ انڈیا نے اُن کو کئی بار دھوکہ دیا ہے. پروین ساہنی
بھارت نے سرحد پر ایسے سائن بورڈز لگا دیے ہیں جن پر درج ہے: "آپ چینی نگرانی میں ہیں۔"
اروناچل پردیش میں مبینہ طور پر 43,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر چین کے قبضے کی رپورٹس کے بعد، پورے خطے میں خوف اور تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ بارش کے پانی کو کارآمد بنانے کے لیے زیرِ زمین ذخیرہ اندوزی کے ٹینک اور جدید ترین نکاسی آب کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ پانی کی فوری نکاسی اور صفائی کے لیے سکشن اور جیٹنگ مشینری کا بھرپور استعمال جاری ہے۔
پائیدار اور مضبوط پائپوں سے لیس سیوریج کا نیا نظام لایا جا رہا ہے جس میں محفوظ مین ہول کورز اور ڈسپوزل سٹیشنز، پختہ سڑکوں، روشن چراغوں اور سرسبز پارکس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پورے انفراسٹرکچر کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات ایک ایسے روشن، محفوظ اور خودکفیل صوبے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور پائیدار ترقی کی ضمانت بنے گا انشاءاللّٰہ !
بلوچستان کے بااثر سردار اور نواب بزنس کا نام لے کر ہم سے ڈیزل اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے کے پرمٹ مانگتے ہیں۔ ان کی دھمکی یہ ہوتی ہے کہ اگر ہم نے ان کی اسمگلنگ روکی تو وہ دہشت گردی کروائیں گے۔ لیکن اب انہیں ایک روپیہ بھی نہیں ملے گا؛ تمام تر وسائل اور پیسہ صرف بلوچستان کے عام لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی پر خرچ ہو گا۔"