پختونخواہ میں سیکیورٹی فورسز کے 1709 اہلکار مرے جبکہ بلوچستان میں 2184 جان سے گئے۔ لیکن گورنر راج پختونخواہ میں لگایا ہے کیونکہ یہاں سے فوجی قبضے ، مینڈیٹ چوری اور عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھ رہی تھی۔ فوج کا مسئلہ دہشتگردی نہیں قبضہ برقرار رکھنا ہے۔
جنٹل مین ، سولہ فالورز کا ایک اکاونٹ تھا۔ اس نے جنرل سرفراز کے ہیلی کاپٹر حادثے پر یاد نہیں شکر ادا کیا یا اسے انسائیڈر جاب کہا۔ اس پر کہرام مچا دیا گیا۔ اسے اٹھایا گیا ، اسکے گھر والوں کو اٹھایا گیا۔ اسے تحریک انصاف سے نتھی کیا۔ تحریک انصاف کو ملک دشمن کہا۔ تحریک انصاف بیچاری صفائیاں دیتی پھرے۔
جنٹل مین ، دیکھیں آپ کتنی تیزی سے کہاں آ پہنچے ہیں۔ جنازوں پر یہ ٹھٹھے کسی مہم ، کسی اکاونٹ ، کسی یوٹیوبر یا کسی جماعت کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ یہ آپ کی حرکتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ آپ نے سڑکوں پر گولیاں ماریں۔ آپ نے گندے کام کیے۔ آپ نے مینڈیٹ چھینا۔ آپ نے چار سال طاقت اور وحشت دکھائی۔ لوگوں کو رسواء کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔
جنٹل مین، آپ کو جلسے جلوس پڑھنے نہیں آتے ، آپ کو الیکشن پڑھنا نہیں آتا آپ کو ووٹ پڑھنا نہیں آیا ، آپ کو لائکس ، ری پوسٹس ، ری ایکشنز اور امپریشنز کیا پڑھنے آئیں گے۔ آپ کو تو بس وہ سبق پڑھنا آتا ہے جو آپ کو بنگالیوں نے پڑھایا جو آپ کو بلوچ پڑھا رہے ہیں۔ جنٹل مین آج کوئی انتباہ نہیں ہے کوئی دلیل یا التجا نہیں ہے۔ جنٹل مین آج اطلاع ہے کہ آپ برباد ہوچکے ہیں۔
سہیل آفریدی درست یا غلط
سہیل آفریدی کو حکومت ملی تو جو کام سہیل آفریدی کو کرنا چاہیے تھا وہ اس نے نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے اندر سے باہر سے اور صحافیوں نے اور دیگر کچھ لوگوں نے اسے امیدیں دلائیں کہ جلد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ فلاں مہینے تک سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ان جھوٹے وعدوں اور لاروں پر یقین کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان طویل مدت تک قید تنہائی میں رکھا گیا ، بیماری کی خبریں آئیں تو اسے علاج تک کی سہولت نہ ملی۔
پھر ایک وقت آیا کہ حالات بہتر ہونے کی امیدیں مرنے لگیں ، سہیل آفریدی پر دباؤ بڑھنے لگا ، اور بالآخر اس نے تمام تر کشتیاں جلا دیں۔ اگر سہیل آفریدی نہ ہوتا تو یقیننا تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی ان دستاویزات پر دستخط کردیتی جہاں تحریک انصاف اور پختونخواہ حکومت کو دہشتگرد اور انکا ہمدرد ٹھہرایا جارہا تھا۔ سہیل آفریدی نے پورے صوبے میں عوام کو موبلائز کیا۔ ہفتوں تک پریشر بنائے رکھا۔ میڈیا پر ہائپ بنائی۔ انٹرنیشنل میڈیا انگیج کیا۔ دو سال کے سقوط کو توڑا اور لانگ مارچ کیا۔
اس سے زیادہ وہ کیا کرسکتا تھا ؟ اپنی حکومت قربان کردی۔ اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگادیا بلکہ ایک دفعہ تو ختم کردیا۔ اب معلوم نہیں وہ کن حالات میں ہے اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ لیکن اب یہ کہنا کہ یہ سب سکرپٹڈ تھا اور اسے کسے بڑے پلان کے لیے تیار کیا جارہا ہے، اب جب وہ قید میں ہے اسے مشکوک بنانا سمجھ سے باہر ہے۔
اگر ایسی ہی ڈاٹ کنیکٹنگ کرنی ہے تو پھر کرتے ہیں شروع ۔ ادارہ ہذا یعنی میں فوج کا ایجنٹ ہوں۔ میرا کام فوج کے خلاف نفرت پھیلانا ہے تاکہ اسے دیکھ دیکھ کر فوج کے اندر تحریک انصاف کے لیے نفرت پیدا ہوجائے۔ مراد سعید کو فوج نے عمران خان کے قتل کے بعد ہیرو بنانے اور عمران خان کا جانشین بنانے کے لیے خود چھپایا ہوا ہے۔ اوورسیز یوٹیوبرز سارے پاک بھارت چند روزہ جنگ میں پاک فوج کے حمایتی اور ہمدرد بن گئے تھے ان سب کے پاس وہی ڈیل ہے جو جاوید ہاشمی کو دی گئی تھی کہ جب ہماری ضرورت ہو ہمارے ساتھ مل جاؤ باقی ہم پر جب چاہے جتنی چاہے تنقید کرو۔ کیسا؟
یعنی دیکھا آپ نے؟ کسی کے بارے میں شک پھیلانا کتنا آسان کام ہے؟ اور ان مشکل حالات میں جب کوئی تحریک نہیں اٹھ رہی تھی ، جب کوئی شخص سڑک پر نہیں آرہا تھا ہم ان حالات میں ہزاروں لوگوں کو سڑک پر لانے والے کو مشکوک بنا دیں؟ ہم سے یہ ظلم نہیں ہوگا۔ ہم یہ ظلم کرنے والوں کو روکیں گے۔ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر کل کو جو کوئی بھی احتجاج کرے گا ، جو کوئی بھی قید کیا جائے گا اسے ہم مشکوک بناتے چلے جائیں گے؟ چار سال سے شاہ محمود جیل میں ہے۔ سب سے زیادہ اسے مشکوک بنایا گیا۔ کیا چار سال میں اس سے متعلق کسی کا اندازہ درست ثابت ہوا؟ بس کردیں اور جانے دیں۔ جو لائن سے ہٹتا ہے وہ خود ہی مروت اور گنڈاپور ہوجاتا ہے۔ جو لائن پر آتا ہے اسے کوئی چاہ کر بھی گنڈاپور یا مروت نہیں بنا سکتا۔
نوٹ ؛ لانگ مارچ کے یوں اچانک خاتمے کے بعد ایسی لڑائی ہونا مایوس کن ہے۔ لیکن اگر ایسی لڑائی شروع ہوجائے تو اس میں کودنا ناگزیر۔
وما علینا الا البلاغ المبین
صوبیدار کے بیٹے کو اعزازی شمشیر دے کر وزیرستان یا خضدار بھیجیں گے آرمی چیف کا داماد بھتیجا فوج سے سول سروس میں لے آئے ہیں۔
ہمیں علم ہے یہ میرٹ والی کیسی فلم ہے۔
We are lucky to have experienced the eras of Imran Khan - as a sportsman, philanthropist, politician, humanist, and peacemaker.
Pakistan needs Imran Khan.
The world needs Imran Khan.
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
وزیرستان میں قبائلی لیڈر کو قتل کردیا گیا ہے ٹانک میں ایک ایس ایچ او کو ۔ بلوچستان میں کمشنر کو اغواء کرلیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک ڈپٹی کمشنر اغواء ہوچکا ہے۔ یہ ہارڈ سٹیٹ ہے اور فوج یہاں پارٹی کررہی ہے۔
تحریک انصاف سے منسلک تین لوگ یوٹیوب پر تواتر سے ولاگ کرتے ہیں۔ شہباز گل نے دسمبر 2023 ، شہزاد اکبر نے جولائی 2023 اور قاسم سوری نے جنوری 2026 میں ولاگز شروع کیے۔ ان تینوں کے یوٹیوب شروع کرنے سے پہلے رجیم چینج ہوا۔ پنجاب حکومت ناجائز گرائی گئی۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ارشد شریف کی شہادت ہوئی۔ ریٹائر ہوجانے والے جرنیل کو آرمی چیف لگا دیا گیا۔ الیکشن ملتوی کردیے گئے۔ آرمی چیف کا سالا وزیر اعلی پنجاب لگا گیا۔
زمان پارک پر حملے ہوئے۔ ظل شاہ کی شہادت ہوئی۔ عمران خان پر گندے غلیظ کیسز بنا کر ان کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ عمران خان کو احاطہ عدالت سے اغواء کیا گیا ، تحریک انصاف پر ریڈ لائن لگا دی گئی۔ گھروں میں گھس گھس کر بیڈرومز میں جا جا کر رہنماؤں سے پارٹی چھڑوائی گئی۔ انکی ننگی ویڈیوز لیک کی گئیں۔ ہزاروں لوگوں پر مقدمات بنائے گئے۔ یعنی تحریک انصاف کے لوگوں کے ولاگز شروع کرنے سے پہلے فوج یہ کرچکی تھی ۔
تحریک انصاف کو غدار تو فوج نے قرار دیا۔ تحریک انصاف کو توڑے کی کوشش تو فوج نے کی۔ تحریک انصاف پر گند تو چالیس نیوز چینلز اور دو سو صحافی پھینکتے رہے۔ یعنی آپ فوج کو کلین چٹ دے کر سارا ملبہ تحریک انصاف پر ڈال رہے ہیں؟ شہباز گل پر تشدد ہوا۔ شہزاد اکبر پر برطانیہ میں دو حملے ہوئے۔ قاسم سوری دربدر اوبر چلاتا رہا۔ آپ انہی کو ظالم قرار دے رہے ہیں؟
شہباز گل پر سب سے زیادہ تنقید کس نے؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے۔ عادل راجہ پر سب سے زیادہ تنقید کس نے کی؟ تحریک انصاف نے۔ تھوڑی سی گنجائش ملی نہیں اور شروع ہوگئے کہ عمران خان کو اور تحریک انصاف کو سارا نقصان پہنچایا ہی باہر بیٹھے یوٹیوبرز نے ہے۔ حیا کو ہاتھ ماریں۔
اس نام نہاد ریاست نے ابوبکر کے خاندان کے بہت سے قرضے واپس واپس کرنے ہیں۔ ابوبکر کے بھائی ، بہنوئی اور رشتہ دار کشمیر میں شہید ہوئے۔ اب اسی ابوبکر کا خاندان اذیت میں ہے۔
میں ابوبکر کو خراج تحسین بھی پیش نہیں کرسکتا کہ میں اسکی جگہ ہوتا تو خاموش ہوجاتا۔ابوبکر کا یہ عزم ظالم کو لے ڈوبے گا۔
سوئی سے گیس نکلی وہ مفت لیکر فوجی فرٹیلائزر کمپنی چل رہی ہے۔ لائم سٹون نکلا اس سے عسکری سیمنٹ اور فوجی سیمنٹ چل رہا ہے۔ سیاحتی مقامات فوج نے ہتھیا لیے ہیں۔ زرعی زمینیں فوج کے پاس ہیں۔
اگر معدنیات نکل آئے اور اس سے کچھ آمدن ہوئی تو جرنیلوں کو کروز شپ اور پرائیویٹ جیٹ دینے کا قانون منظور ہوجائے گا۔ آپ کو کچھ نہیں ملنے والا۔
انڈیا سے تجارت بند ہے۔ افغانستان سے تجارت بند ہے۔ سی پیک کو تقریبا ختم کردیا ہے ایران سے بھی تجارت بند کردی ہے۔ ہمسائے میں ایک بحیرہ عرب بچا ہے اس میں جرنیل شرم سے ڈوب کر مر جائیں۔
اٹھارہ مزدور اغواء ہوئے بیس اہلکار اغواء ہوئے۔ میجر سمیت سات اہلکار جان سے جانے کی خبر ہے ، باجوڑ میں تین بھائی قتل ہوگئے ، وزیرستان میں قبائلی لیڈر۔ سات پولیس اہلکار الگ سے مرے ہیں۔ یہ ملک برباد ہوچکا ہے اور کس نے کیا ہے یہ دو چیزیں سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی اربوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
شہباز شریف صاحب، کہاں ہے غزہ پیس بورڈ۔۔۔
ناقابل برداشت منظر۔۔معصوم فلسطینی بچے دہشتگرد اسرائیل کے ہاتھوں امریکی ،یورپی سپورٹ سے بھوک اور گولیوں سے دن دھاڑے دنیا کے آنکھوں کے سامنے شہید ہورہے ہیں۔۔۔۔
یہ سب کچھ عالم اسلام کے حکمرانوں اور جرنیلو کی خاموش سہولت کاری سے ہورہا ہے۔۔۔
ان معصوموں کے خون کی قیمت تاریخ کا قرض ہے۔۔
فوجی اور خیبر کی معدنیات :
شہباز گل صاحب نے آج ایک سپر سکینڈل کا قصّہ سنایا جو تانبے کو صوبہ خیبر سے نکانے کے ٹھیکوں کے بارے میں ہے اور اس سکینڈل کی ساری تفصیل عوامی نیشنل پارٹی کے ایک صوبائی اسمبلی کے ممبر نے بتایی - ہوش ربا کہانی ہے اور یہ صرف ایک بڑی ہی عام دھات یعنی تانبے کو نکالنے کی ہے - یہ کوئی وہ والی دھات نہیں جسکی کہانی امریکی سفیر نے سنائی تھی کے یہ خاص دھاتیں 7 کھرب ڈالر سے زیادہ کی ہیں -
تو تانبے نکالنے والی ایک فوجی کمپنی 4 کھرب کا تانبا نکال رہی ہے اور 2024 تک صوبے کو صرف 160 کروڑ دیے گئے باقی سب فوجی ہڑپ کر گئے اور کہتے ہیں ہم نے تو صرف ایک پرمٹ لیا ہوا ہے - ویسے یہ پرمٹ پچاس پرمٹوں سے بڑا ہے -
اب سوچیں صرف تانبا کھربوں کا فائدہ دے رہا ہے اور ISPR کے شریف صاحب کہ رہے تھے یہ کوئی صوبائی حکومت کو جہیز میں ملا ہے، ہمارا پورا حق ہے - تو ابھی تو 7 کھرب ڈالر کے خاص اور نایاب معدنیات نکالنی ہیں -
ذرا اندازہ لگایئں کتنے بڑے ہاتھ یہ لوگ مار رہے ہیں اور ماریں گے اور بدنام چھوٹے چور اچکے سیاست دانوں کو کریں گے ، جو خود بھی کوئی فرشتے تو نہیں مگر ان کے مقابلے میں فرشتے ہی نظر آ رہے ہیں -
کیسے یہ فوجی صوبہ خیبر یا پورے پاکستان سے اپنا قبضہ ختم کریں گے، جان کی ، مال کی، عزت کی، غیرت کی , پاکستان کی, ہر چیز کی بازی لگا دیں گے، مریں گے اور ماریں گے , چھوڑیں گے نہیں - سب سوچ لیں اور تیار رہیں -
ہم جب اسلام آباد کیلئے نکلے تھے ہمیں پتہ تھا سپریم کورٹ عدلیہ آزاد نہیں ہے
مگر ہم نے ججز سے کہا شرم سے ڈوب جاو اگر آزاد فیصلہ نہیں کرسکتے ہو،،،،،
یہ جرنیل جمہوریت کے دشمن ہیں جنہوں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ،،،،
مہرنگ بلوچ