Put Down the phone 📱 , Pick Up the Mushaf, and Read the Quran
Your phone connects you to this world 🌎 : its endless problems, temptations, and distractions.
But the Qur’an connects you to Allah, your Creator, as it is His Speech: a guide, a cure and mercy for the believers.
BREAKING NEWS: Ramadan 1447/2026 Crescent has been SIGHTED
Subsequently, tomorrow i.e Wednesday, 18 February 2026 will be the first day of Ramadan 1447 at Saudi Arabia.
Deeply saddened to hear about the demise of our respected former IGP Kashmir and our former Principal of Jammu and Kashmir Sainik School Manasbal. He was a man of discipline, integrity, and vision who served society with dedication and honor.
As an administrator and as an educationist, he left a lasting impact on countless lives. His leadership, guidance, and commitment to excellence will always be remembered by all of us who had the privilege to learn under his mentorship.
May Almighty Allah grant him the highest place in Jannat-ul-Firdous and give strength and patience to his family and loved ones during this difficult time.
Inna lillahi wa inna ilayhi raji’un.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا :
"اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا :
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔
(اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)
۔۔ رہے—کچھ جہالت کی بنا پر، اور کچھ مکر وتلبیس اور دھوکے کے ساتھ۔
میں نے اس میں واضح کیا کہ ان دھماکوں کا اصل سرچشمہ درحقیقت سید قطب کی کتابیں ہیں، جنہیں انہوں نے تکفیر سے بھر دیا ہے، اور خاص طور پر اپنی کتاب "لماذا اعدمونی" میں قتل و غارت، بم سازی، اور سرکاری محکموں، اداروں و عمارتوں کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تعلیم دی ہے۔
اور آج، جب مسلسل دھماکے ہو رہے ہیں اور غلط طرزِ عمل سامنے آ رہے ہیں، تو میں قارئین کے سامنے اپنی کتاب
"أضواء إسلامية على عقيدة سيد قطب وفكره (سید قطب کے عقیدہ اور فکر کا شرعی جائزہ)" کا ایک باب پیش کر رہا ہوں، جس میں میں نے سید قطب کے وہ واضح اقوال نقل کیے ہیں جن میں وہ اسلامی معاشروں کی تکفیر کرتے ہیں۔
یہ اقوال لا إله إلا الله کے مفہوم میں تحریف، اور قرآن کی بہت سی آیات کی غلط تشریح پر بھی مبنی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تحریر سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے،
سید قطب هو مصدر تكفير المجتمعات الإسلامية، ص ٥
تابناک ماضی سے کربناک حاضر تک اور قطبی تکفیری منہج کا کردار!!
شیخ ربیع بن ہادی مدخلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یقیناً امتِ مسلمہ اس وقت مصیبتوں، آفتوں اور ذلت ورسوائی کے ایک بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی اکثریت اُس اسلام کی تعلیمات سے دُور ہو چکی ہے جس کے ساتھ خاتمُ الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے۔ یہ دُوری صرف عقائد تک محدود نہیں بلکہ عبادات، اخلاق، سیاست اور معیشت—ہر میدان میں نمایاں ہے۔ ان کے مہلک امراض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ باطل پر اصرار کرتے ہیں اور اسی پر ڈٹے رہتے ہیں، اور ان میں سے اکثر میں یہ آمادگی باقی نہیں رہی کہ عقائدی، منہجی اور سیاسی اختلافات کے مواقع پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں۔
یہ صورتِ حال علمی اداروں، افراد اور معاشروں کی سطح پر بھی پائی جاتی ہے، اور اُن تحریکوں اور جماعتوں کی سطح پر بھی جو اصلاح کا دعویٰ کرتی ہیں۔
اور ان میں سب سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ وہ سیاسی تحریکیں ہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ امت کے غم میں مبتلا ہیں اور اسے ذلت و رسوائی سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر افسوس کہ انہوں نے اسکے لئے درست مناہج اور شرعی وسائل اختیار نہیں کیے۔ انہوں نے ان اصلاحی راستوں کو نہیں اپنایا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسولوں کے لیے مقرر فرمائے تھے— اللہ کے نبی نوح علیہ السلام سے لے کر خاتمُ الرسل محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک—اور وہ راستہ یہ تھا کہ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت، صرف اسی کی عبادت، دین میں اخلاص اور اللہ ہی کے لیے ولاء (وفاداری) کی دعوت دی جائے۔
انہوں نے یہ کام نہیں کیا، بلکہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اُن لوگوں کے سخت مخالف بنے ہوئے ہیں جو لوگوں کو اسی عظیم منہج کی طرف بلاتے ہیں، اس منہج کی طرف جسے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اصلاح کے لیے منتخب فرمایا اور جو پورے اسلامی تاریخ میں جاری رہا ہے۔
اور ان مناہج میں سے جو عقیدہ، عبادت اور سیاست میں اصلاح کے حوالے سے انبیاء کے منہج سے دور ہیں، سید قطب کا منہج بھی ہے، جس نے لوگوں کو فائدہ دینے کے بجائے صرف آزمائش، تباہی اور بربادی میں اضافہ کیا ہے۔
یہ منہج یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حاکمیتِ الٰہی کی طرف بلاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں اس کے اندر عقائد، عبادات اور قرآنی و نبوی نصوص کو سمجھنے کے طریقے میں حاکمیتِ الٰہی کا انکار پایا جاتا ہے۔
اسی طرح یہ منہج اختلافی مسائل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کو بھی رد کرتا ہے، اور عبادت میں شرک اور عقائد کی ہر قسم کی گمراہی جیسے سنگین مسائل کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے۔
اس قطبی منہج کے لیے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈے اور مضبوط میڈیا کا استعمال کیا گیا، جس نے خصوصاً نوجوانوں، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقے کے اذہان کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور انہیں سید قطب اور ان کی کتابوں کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا۔ حالانکہ ان کتابوں میں عقیدے، منہج اور سیاست کے اعتبار سے سخت آفات، ہلاکتیں اور تباہیاں پوشیدہ ہیں، اور یہی افکار تکفیر، تخریب، دھماکہ خیزی، مہلک نفرتوں، خود کش حملوں، امت پر برتری جتانے، امت کو حقیر سمجھنے اور اس کے علماء کی توہین کا سبب بنتے ہیں۔
اور میں نے، اور مجھ سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے، ایک طویل عرصہ پہلے ہی سید قطب کے منہج کی خطرناکی کو بھانپ لیا تھا؛ چنانچہ اللہ کے فضل سے میں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں میں نے سید قطب کے عقیدہ، منہج اور فکر کے فساد کو واضح کیا، اور یہ بھی بیان کیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے کس قدر خطرناک ہیں۔ ان کتابوں میں یہ شامل ہیں:
1- أضواء إسلامية على عقيدة سيد قطب وفكره . (سید قطب کے عقیدہ اور فکر کا شرعی جائزہ)۔
2- مطاعن سيد قطب في أصحاب رسول الله (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر سید قطب کے اعتراضات اور انکی کرم فرمائیاں)۔
3- العواصم مما في كتب سيد قطب من القواصم (سید قطب کی کتابوں میں موجود ہلاکت خیز افکار سے حفاظتی ذرائع)۔
4- الحد الفاصل بين الحق والباطل (حق اور باطل کے درمیان فاصلہ کن حد بندی)۔
5- نظرات في كتاب التصوير الفني في القرآن (التصوير الفنی نامی کتاب پر کا پوسٹ مارٹم)۔
6- (أطوار سيد قطب في وحدة الوجود) وحدت الوجود کے مسئلے میں سید قطب کے فکری ادوار کی وضاحت پر یہ ایک طویل مقالہ ہے، جس میں اس سنگین کفریہ مسئلے کے اندر میں نے ان کے مختلف مراحل کو ان کی منظوم ومنثور دونوں طرح کی کتابوں سے واضح کیا۔
7- ينبوع الفتن والأحداث الذي ينبغي للأمة معرفته وردمه۔ (فتنوں اور حادثوں کا وہ سرچشمہ جسے امت کے لیے جاننا اور انہیں دور کرنا ضروری ہے)۔
یہ کتاب میں نے معاصر بم دھماکوں کے اس سانحے کے پس منظر میں شائع کی، جن کے تجزیے اور اسباب پر بعض لوگ دائیں بائیں باتیں کرتے
Downward trend in temperature continues. Has turned favorable for direct snowfall. I hope we don't get a last surprise by winds.
Current Temperature at 6:50 p.m.
Aloosa Bandipora = 2.7°C (partially snow favorable)
Garoora Bandipora = 0.7°C (snow favorable)
Nishat Srinagar = 1.5°C (snow favorable)
Sopore = 1.3°C (snow favorable)
Beerwah Budgam = -0.2°C (highly snow favorable)
Zethan Rafiabad = -0.4°C (highly snow favorable)
Kishtwar = 5.8°C (not favorable for snow)
Noorabad Kulgam = 1.3°C (snow favorable)
Shared by @Kashmir_Weather