یہ ہیں وہ نامعلوم ذرائع جو کسبئی اور گشتیوں کے تحفظ کے لیئے جانیں قربان کرتے ہیں اور شہید کہلاتے ہیں، یقیناً یہ کال کسی میجر یا برگیڈئیر نے نہیں کی۔
تم سات لاکھ ہو یا سترہ لاکھ
تمہاری کل نسل، آل اولاد، تمہاری آئندہ نسل پر بھی 🖐️
مریم نواز نے اسحاق ڈار کے نواسے کو بچانے کیلئے پنجاب پولیس کے ذریعے اس روڈ سے سبھی CCTV فوٹیج غائب کروا دی تھی
مریم نواز اور ن لیگ کا بھیانک چہرہ سب کے سامنے آ چکا ھے
(صدیق جان)
آپ نے چھوٹی مریم کی رعونت اور اس کا تکبر تو دیکھا لیکن آپ نے سپیکر کی کرسی پر بیٹھے نمونے کی کمینی ہنسی نہیں دیکھی اور نہ ہی پیچھے ڈیسک بجاتی آنٹیاں۔۔ ان کو دیکھیں اور جانیں یہ سب مل کر آپ پاکستانیوں کا کیسے تمسخر اڑا رہے ہیں کیونکہ 11 ارب کا جہاز کسی کے جہیز میں نہیں آیا ، یہ ہم پاکستانیوں کی دیا سلائی سے لے کر گاڑی تک کے ٹیکسوں سے خریدا گیا ہے۔اسکی maintenance کا خرچہ ،اس تیل کا خرچہ اس کے پائلٹس تک کا خرچہ ہم پاکستانیوں کی کمائی سے جا رہا ہے جن پر درجہ چہام کی کنیز خاص اور ہم نوا مل کر ہنس رہے ہیں اور چیلنج کر رہے ہیں اکھاڑ لو جو الھاڑنا ہے ۔
💥امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟” 💔🥹
ابو نے الماری سے پرانی بنیان نکالی۔
کپڑا اتنا نرم ہو چکا تھا کہ جیسے وقت نے اسے گھس کر دھاگوں میں بدل دیا ہو۔ انہوں نے اسے پہن کر آئینے میں خود کو دیکھا، ہلکا سا مسکرائے… اور جیسے کسی غیر موجود شخص سے مخاطب ہوں، آہستہ سے بولے:
“ابھی نئی لینے کی ضرورت نہیں… یہ دو مہینے اور چل جائے گی۔”
یہ جملہ کسی اور کے لیے نہیں تھا…
یہ ایک عادت تھی… خود کو کم کرنے کی عادت۔
بیٹا دروازے کے پاس کھڑا سن رہا تھا۔
ابو کے جاتے ہی وہ تیز قدموں سے ماں کے پاس گیا، جیسے کوئی انصاف مانگنے آیا ہو۔
“امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟”
ماں نے پلٹ کر دیکھا۔ لہجے میں خفگی تھی، مگر کہیں نہ کہیں تھکن بھی۔
“تمہارے ابو کو خود ہی کچھ نہیں چاہیے۔ اور میری چیزوں کا حساب لینے لگے ہو؟ تمہارے کپڑے، تمہاری بہن کی چیزیں… سب اسی گھر کے پیسوں سے آتے ہیں۔ تم روز اپنی خوشی کے لیے پٹرول جلاتے ہو، کبھی پوچھا میں نے؟”
بیٹا چپ ہو گیا… مگر اس کے اندر کچھ اب بھی کھٹک رہا تھا۔
بیٹی نے موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں… ابو کو جو کرنا ہے کرنے دیں۔ ہمیں اپنی زندگی کیوں روکنی چاہیے؟”
یہ جملہ کمرے میں گونجا نہیں… بس کہیں اندر جا کر بیٹھ گیا۔
اور پھر سب اپنی اپنی دنیا میں لوٹ گئے۔
گھر میں سب کچھ ویسا ہی رہا۔
صرف ایک چیز بدلتی رہی…
ابو۔
وہ پہلے بھی کم بولتے تھے…
اب تو جیسے ان کی آواز بھی اپنے اندر سمٹنے لگی تھی۔
وہ پہلے بھی کم مانگتے تھے…
اب تو جیسے مانگنے کا حق ہی بھول گئے تھے۔
وہ پہلے بھی سادہ تھے…
اب سادگی اور محرومی میں فرق مٹ گیا تھا۔
کوئی نہیں دیکھتا تھا کہ وہ صبح سویرے کیوں نکل جاتے ہیں…
اور شام کو تھکے قدموں سے کیوں لوٹتے ہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ وہ رکشہ کیوں نہیں لیتے…
کیوں بیس روپے بچانے کے لیے لمبا راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔
کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ان کے پاس “چاہتیں” اب بھی ہیں…
بس انہوں نے انہیں بولنے سے منع کر دیا ہے۔
وہ آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔
جیسے کوئی شخص اپنے ہی گھر میں جگہ گھیرنے سے شرمندہ ہو جائے…
اور خود کو سمیٹنا شروع کر دے۔
ایک دن بیٹے نے اچانک غور کیا…
ابو پہلے جیسے نظر نہیں آتے تھے۔
نہ قد کم ہوا تھا… نہ جسم…
مگر وہ چھوٹے لگنے لگے تھے۔
جیسے کوئی آدمی اپنی موجودگی خود مٹا رہا ہو۔
اسے یاد آیا…
وہ بنیان۔
وہ جملہ۔
“یہ دو مہینے اور چل جائے گی…”
اچانک اسے احساس ہوا…
وہ بنیان صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ ایک حد تھی…
جہاں ایک آدمی نے اپنی خواہش کو روکا تھا۔
پھر ایک اور حد آئی ہو گی…
جہاں اس نے اپنی ضرورت روکی ہو گی۔
پھر ایک اور…
جہاں اس نے خود کو۔
اور اب…
وہ آدمی مکمل نہیں رہا تھا۔
وہ ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا…
اور ہر ٹکڑا اس گھر کے کسی نہ کسی فرد کے پاس تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی…
کسی کے پاس بھی پورا ابو نہیں تھا۔
اور شاید…
کسی کو اس کی کمی بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
افسانہ: بنیان
لگتا ہے پاکستانیوں کی قسمت میں ٹووا وزیراعظم لکھ دیا گیا ہے
میری سیاسی بصیرت کے مطابق اور پاکستانیوں کی گندی قسمت کو دیکھتے ہوئے آنے والی حکومت میں ٹووا وزیراعظم اور جناب سید حافظ صدر پاکستان
ننگی لیگ حسب روائیت پنجاب کی عوام کی بنڈ مارتی رہے گی
لاہور ائیرپورٹ تو بہانہ تھا
دراصل عسکری 10 بنانا تھا
لاہور ائیرپورٹ کے لئے جو سب سے زیادہ نرم اور مہذب لفظ لغت میں موجود ہے اسے Pathetic کہتے ہیں۔ تین یا چار انٹرنیشنل فلائٹس کی روانگی اگر تھوڑے تھوڑے وقفے سے آ جائے تو ائیرپورٹ لاؤنج کے اندر وڑنے کے لئے کم از کم بھی پونا گھنٹہ درکار ہوتا ہے۔ ائیرپورٹ کے باہر ہی لمبی قطاریں لگ جاتی ہے اور اندر جانے والا بہشتی دروازہ ٹاپنے سے پہلے وہاں پر موجود داروغہ مسافروں کا ائیرٹکٹ اور پاسپورٹ مختلف زاویوں سے چیک کرتا ہے اور اکثر اوقات بحث شروع کر دیتا ہے۔ جیسے تیسے کر کے لاؤنج کے اندر جانے کے بعد وہاں پر موجود سکینرز کے پیچھے مسافروں کی لمبی قطریں لگنی شروع ہو جاتی ہے۔ سکینرز سے گزرنے کے بعد واک تھرو گیٹ کا مرحلہ آتا ہے جہاں پر موجود سنتری مردوں کی جامہ تلاشی کچھ اسطرح سے لینی شروع کر دیتا ہے جس پر بعض اوقات یہ گمان گزرتا ہے جیسے وہ کوئی گندا شوق پورا کر رہا ہو۔ جامہ تلاشی اور سکینر سے سامان اتارنے کے بعد MF یعنی منشیات فروشوں کو پکڑنے والا ادارہ آن ٹپکتا ہے جو شلوار قمیض پہننے والے اکثر مسافروں کا سارا سامان کھلوا کر تلاشی لے رہے ہوتے ہیں۔ اسکے بعد چیک ان اور امیگریشن کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسرا سیکیورٹی چیک ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سعودی ائیر لائن کی فلائٹ کے داخلی دروازے پر جہاز کا عملہ ہر مسافر کا بیگ کھلواتا اور جامہ تلاشی لیتا ہے۔ سادہ لفظوں میں انہیں ہماری سیکیورٹی اور MF یعنی منشیات فروشی کو روکنے والے ادارے پر اعتبار نہیں ہے۔ اسی لئے میں اکثر سوچتا ہوں کہ بندے کے پاس ایک عدد اپنا ذاتی گلف سٹریم جہاز ✈️ ہونا چاہیئے۔
ان جیسے اپنے تئیں دانشور لیکن نامعلوم تخم سے پیدا ہوئے لوگوں سے بحث کی بجائے بس اتنا کہہ کر آگے بڑھ جائیں
لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔
شوکت خانم ہسپتال اپیل 🚨
اس رمضان میں عمران خان جیل میں ہیں جبکہ شوکت خانم ہسپتال کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہسپتال کے خلاف مخالفین اس وقت ایک بہت گھٹیا کمپین چلا رہے ہیں۔
جتنا بھی ممکن ہو شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دیں کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے
امتیابھ اس قوم کو ایک ڈائیلاگ دے گیا
نو مطلب نو عورت نو کہہ دے تو رک جانا چائیے
مرد کی نو پر رنڈی رونا کیوں مچتا ہے ؟ مرد کیا لکڑ کا باندر ہے جو اس کے جذبات یا نو نہیں ہو سکتا ؟
سچ تو یہ ہے عورتیں ٹریپ کرتی ہیں خود پہلے چسکے لے کر پھر NO اور قانونی کاروائیاں شروع
جناب ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب باقی سب بکواس وغیرہ اپنی جگہ
عمران خان کو رہا کرو
قوم کا مینڈیٹ واپس کرو
چھاونیوں میں واپس جاؤ
کرپشن و سمگلنگ ختم کرو
غیر ضروری مراعات لینا بند کرو
کاروباری اثاثے بنانا بند کرو
آئین شکن عناصر کو سزا کے لیے پیش کرو
یہ حرامزادے آج بھی تاج برطانیہ کے وفادار ہیں۔ ان حرامزادے کالے انگریزوں کی عیاشیاں دیکھیں؛ یہ عام پاکستانی کو انسان کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ یہ انہیں اپنا باج گزار سمجھتے ہیں، غلام، جیسے تاج برطانیہ سمجھا کرتا تھا۔
بریکنگ نیوز 🚨امریکی غلام بری طرح سے ناکام 🔥🔥
45 منٹ کی اس کال کے بعد سب کچھ بدلا شہباز شریف نے بہت منت سماجت کی لیکن ایران کے صدر نے کوئی بھی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یار رہے عوام کو پُھدو لگانے کیلئے میڈیا پر بتایا گیا تھا فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک دن کے لیے ایران گئے تھے دورہ کامیاب ہوگیا پھر عسکری ٹاؤٹس نے خوشیاں منائیں لیکن اصل حقیقت اب سامنے آگئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عاصم منیر تین دن تک ایرانی قیادت کو مناتے رہے لیکن ناکامی ہوئی۔ ایرانیوں نے صاف الفاظ میں کہے دیا ہے تم غلامی کرسکتے ہو ہم اپنی عزت و غیرت امریکیوں کے ہاتھوں نے بیچیں گے۔
چیئرمین ماو کا قول ہے انقلاب میں نفاست ڈھونڈنے والے احمق لوگ ہوتے ہیں۔
خان صاحب کبھی فیصلہ نہیں کر پائے وہ مصلح ہیں مبلغ ہیں انقلابی ہیں سیاستدان ہیں کیا ہیں؟
جس تبدیلی کے وہ خواب دیکھتے ہیں وہ پنجابی فوج کو لہو میں نہلائے بغیر نہیں آ سکتی۔ وہ اشرافیہ کو ان کے دودھ پیتے بچوں سمیت نسلا ختم کئے بغیر نہیں آ سکتی۔ وہ اس پاکستان کو جلا کر راکھ کئے بغیر نہیں آسکتی۔ وہ ایک ایک عبادت گاہ کو ایک ایک مزار مندر مسجد کلیسا کو صفحہ ء ہستی سے مٹائے بغیر نہیں آ سکتی۔
فوج مذہبی طبقہ اور اشرافیہ کنویں کے وہ کتے ہیں جو کنویں سے نکالے بغیر کنواں پاک نہیں ہوگا۔
وہ اس راستے پر چل سکتے تھے سارے لوازمات موجود تھے مگر خان صاحب بزدل رہنما ہیں۔ جس بہادری سے انکا دشمن مظالم لوٹ کھسوٹ کرتا ہے اگر کم از کم اتنی بہادری سے ان کی گرنیں نہیں کاٹ سکتے تو صلح کریں اور بچوں کے پاس برطانیہ نکل جائیں ان کے بس کا کام نہیں۔
باقی پاکی ء داماں کی حکایت ہم ساہیوال کیس میں دیکھ چکے ہیں۔
بلکل ٹھیک کہا یہ ہماری ثقافت نہیں ہے ہماری ثقافت تو منافقت ، لونڈے بازی ، دو نمبر ملے اور دو نمبر لبرل ہیں ہماری تہذیب اور ثقافت تو کسی غیر محرم عورت کی فوٹو لگانا اور بھاشن چودنا ہے
ویسے سلیم ساب اسلام میں غیر محرم عورت کی تصویر لگا کر تبلیغی ایجنڈا پھیلانا کہاں لکھا ہے ؟؟
کچھ دن پہلے ہی کہا تھا کہ مملکت خداداد جو کہ بقول لوگوں کے الؔلہ کے رازوں میں سے اک راز ہے اور الؔلہ کی فوج کے ملک میں سب کاروباری اور دکاندار حرام خور اور چور ہیں ، ایک فیصد بھی آپ کو ایماندار کاروباری بندہ نہیں ملے گا
قوم ۱۰ اپریل کو نکلی مہاتما فلمیں دیکھ رہے تھے
قوم ۲۵ مئی کو نکلی پوری رات شیلنگ کھا کر بھی ڈی چوک کا قبضہ نہ چھوڑا مہاتما راستے سے واپس ہوگئے
قوم ۲۶ نومبر کو نکلی مہاتما نور خان ایئر بیس پر فوجیوں کو دھرنا فروخت کر آئے۔ اخے اسمبلیاں توڑوں گا۔
قوم کا نام خان نے بھی لیا تو اس کا منہہ بھی توڑ دیں گے۔
لیڈروں کی بے غیرتیاں قوم پر نہ ڈالیں۔