"اس سب میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ عمران خان کا کوئی بھی پیغام باہر آئے ان لوگوں کو ڈر صرف اتنا ہے اگر عمران خان کا کوئی پیغام باہر آگیا تو انکی آواز پر پوری عوام آٹھ کھڑی ہو گی"۔
ندیم شاہ ایڈوکیٹ
#ReleaseImranKhan
سیل آفریدی، قدم بڑھاو، سب آپ کے ساتھ ہیں۔ یاد رکھیں کوئی آپ کی حکومت نہیں گرا سکتا کیونکہ یہ خان کا۔مینڈہٹ ہے۔ مختلف لوگوں کی سوچ مختلف ہو سکتی ہے لیکن ایک بات پہ سب یکجا ہیں اور وہ ہے خان صاحب کی رہائی۔ صوبے کا ہر ورکر آپ کا دست و بازو بنے گا۔ بس تاخیر نہ کریں۔ ہمت مرداں، مدد خدا
اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کا حکم ہے کہ عمران خان صاحب سے ہفتے میں اٹھارہ ملاقاتیں کروائی جائیں لیکن انتظامیہ نے اس حکم کو ٹھکراتے ہوئے ڈھٹائی سے ملاقاتیں روکی ہوئی ہیں۔ کسی عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہو رہا۔ واحد راستہ اب مزاحمت ہے۔ مزاحمت ہوگی تو کچھ ہوگا ورنہ نہیں۔
فتح اللہ برکی ایڈووکیٹ
ہمارے جنرلز تو سیدھی سروں میں گولیاں مارتے ہیں۔ تھپڑ کھانے والا تو یا کھانے والی زندہ بچ کر پھر اپنے حقوق کی جدوجہد کر لے گی۔ اسی پولیس والے سے بدلہ بھی لے سکتی ہے۔ جس کے سر میں گولی اتار دی جاتی ہے وہ واپس نہیں آ سکتا۔ تھپڑ ڈنڈا دھکا امریکہ یورپ ہر جگہ دونوں طرف سے ہو جاتا ہے جو غلط ہے لیکن ہوتا ہے سروں میں گولیاں صرف کم ظرف اور گھٹیا لوگ کر سکتے ہیں۔ کم از کم ہم انڈیا پر بات کرنے کے قابل تو ہم نہیں رہے۔ ہم تو ان سے کئی ہاتھ آگے جا چکے۔
پاکستان میں مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے لیکن میڈیا پر اس پر بات چیت کم ہوگئی ہے۔
پاکستان میں مہنگائی بھارت، بنگلہ دیش سے کیوں زیادہ ہے؟کیونکہ پٹرولیم لیوی کےنام پر عوام سے بھتہ لیا جا رہا ہے،پہلے کبھی سناصوبوں سےحکومت پیسے لے؟ بس اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہو رہاہے۔ڈاکٹرشاہد حسن صدیقی
جتنے مظفر آباد جلسے میں نون لیگ نے کوٹلی جلسے میں بلاول نے مسائل گنوائے ہیں اس کا مطلب ہے یہ خود تسلیم کر رہے ہیں وہاں مسائل ہی مسائل واقعی ہیں
15 سال کا جائزہ لیں تو گھما پھرا کے دو سال پی ٹی آئی کے نکال دیں تو باقی 13 سال انہی جماعتوں کے اگر مگر کرکے بنتے ہیں تو پھر کون ذمہ دار ٹھہرا ۔۔۔ مسائل کا ؟
کچھ تو پشتون کلچر کی لاج رکھ لیں آپکی والدہ کی عمر کی خواتین ہیں۔ نام لیتے ہوئے کچھ ادب اور تہزیب رکھ لیں۔ انکے بھائی کی وجہ سے آپکو پہچان ملی۔ اتنی احسان فراموشی۔ اتنی روایات کی پستی۔ خدا کی پناہ۔
“کہتے ہیں سٹریٹ موومنٹ کے لیے خرچہ کہاں سے آیا؟ گاڑی کا پٹرول اپنا تھا، دو سپیکر اوپر لگا لیے، یہ خرچہ ہوا۔ کسی نے بندوبست نہیں کیا۔ لوگ خود سن کر نکلے لوگوں کا عمران خان سے پیار ہی بہت ہے، اتنی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر ہمیں بہت حوصلہ ملا۔ چترال میں ہم نے دو جگہ رکنا تھا، دو کی بجائے 9 جگہ رکنا پڑا، لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے لوگ بہت پرجوش تھے، نکلنے کے لیے تیار تھا۔”
- @Aleema_KhanPK
#ReleaseImranKhan
#StreetMovement
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔
"میں چترال اپنی فیملی کو ملنے گئی تھی ایجینسی کو تکلیف اس لیے ہوئی کہ لوگ نکل آئے اس لیے انہوں نے مروت کو لانچ کیا جب مروت لانچ ہو سمجھو ایجینسی کو تکلیف ہوئی ہے"۔علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
“اگر عمران خان کوئی جُرم کرتے تو شاید اب تک ملاقات ہو بھی جاتی، اصل مسلہ ہی یہی ہے کہ خان صاحب نے کوئی جُرم کیا ہی نہیں، ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کے لئے، پاکستان کی لئے اور اسلام کے لئے بات کی ہے۔”
- اڈیالہ کے باہر خاتون کی گفتگو
#FreeImranKhan
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے گڈ گورننس روڈ میپ اور صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی سربراہی میں حکومتِ خیبر پختونخوا اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ جدید، محفوظ اور باوقار جنرل بس ٹرمینل کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں
سہیل آفریدی کے پاس اب وقت ختم ہوچکا ہے، انہوں نے ساری باتیں منوا لیں یہ ایک نہیں منوا سکے، انہوں نے آپریشن شروع کر دئیے، ڈارون حملے ہورہے ہیں، انکی مرضی کی ٹرانسفر پوسٹنگ ہورہی ہیں، سٹریٹ مومونٹ روک دی گئی، احتجاج روک دئیے، بجٹ پاس کروا لیا، آپ ایک کام نہیں کر سکے عمران خان سے ملاقات، اسپتال منتقل نان کروا سکے، عمران خان کے مقدمات تک نہیں لگوا سکے، ثمینہ پاشا۔
“اس موومنٹ کو پی ٹی آئی لیڈ کرے گی، ہم ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں ان پر پریشر ڈالیں، یہ بے شرم لوگ ہیں، مجرم ہیں۔ چُن چُن کر ان ججوں کو بٹھایا جنہوں نے عمران خان کو سزائیں دیں۔ عدت جیسے شرمناک کیس میں جنہوں نے سزا سنائی۔ یہ کیس عالمی سطح تک تنقید کا نشانہ بنا، ایسے لوگ جج بنے ہوئے ہیں۔”
- @Aleema_KhanPK
#StreetMovement
#ReleaseImranKhan
ڈار کے نواسے رضا ڈار کے کیس کا کیا بنا۔
وہ تو چاہتے ہیں آپ بھول جائیں
مگر سوشل میڈیا اس کیس کو کیوں بھول گیا ہے ۔ جسے خاموشی سے وہ غتربود کرنے کے چکر میں ہیں