سرحد یونیورسٹی ۔ فوجی افسر نے خود کو اور خاتون عزیزہ کو خطرناک mob lynching والے مائنڈ سیٹ رکھنے والے غنڈوں اور لفنگوں سے بچنے کے لئے ہوائی فائر کیے ۔ اسکا کیوں کورٹ مارشل کر دیا؟ معاملے کی تحقیقات تو کرتے۔۔ وڈیو تو دیکھتے ۔ کوئی بھی ہوتا یا تو اس جتھتے کے ہاتھوں مارا جاتا یا اپنا ڈیفنس اسحلہ کے زور پر کرتا ۔ خوشقسمتی سے انکے پاس گن موجود تھی۔ پچھلے دنوں اسیطرح ایک آفسر لڑکی کو بچاتے ہوئے ایک کرمنل لڑکے کی گولی کا نشانہ بنے اور جان گنوا بیٹھے ۔
مجھے اُس فوجی آفیسر پر فخر ہے جس نے آج سرحد یونیورسٹی کے غنڈوں کے بیچ میں گھس کر اپنی غیرت کی جنگ جیتی۔ نوکری آنے جانے والی چیز ہے عزت اور غیرت کی حفاظت ہی زندگی ہے ۔
صدیق جان کی صحافت کا معیار بھی دیکھ لیں کہ یہ کس طرح عمران خان کے سپورٹرز کو گمراہ کر رہے ہیں۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے پہلے وی لاگ میں یہ دعویٰ کرتے ہیں
شریف خاندان کو شکستِ فاش ہوچکی، بالآخر عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کردیا گیا، شریف خاندان کے منہ پر زبردست طمانچہ لگا ہے۔
پھر جب عمران خان کو ہسپتال سے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تو صدیق جان نے اپنا مؤقف فوراً بدل دیا اور کہا میں بار بار کہہ رہا تھا کہ عمران خان شفا ہسپتال منتقل نہیں ہوں گے، وہ نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔
اب فیصلہ تحریک انصاف کے سپورٹرز خود کریں کہ یہ لوگ کس طرح اپنے دعوے بدل کر آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کیا ہر بار ایسے یوٹیوبرز کی باتوں پر یقین کرنا چاہیے یا مستند معلومات اور حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے؟
تحریک انصاف کے سپورٹرز کو ایسے یوٹیوبرز سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو عمران خان کے نام اور جذبات کو استعمال کرکے اپنی ویوز اور آمدنی بڑھاتے ہیں
باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غیرآئینی، غیرقانونی اور اختیارات سے تجاوز تھا لیکن پھر بھی حکومت اور انتظامیہ اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جعلی بیمار عمران خان کو الشفاء ہسپتال علاج معالجے کیلئے چیک اپ کرانے کیلئے شفٹ کر رہے ہیں۔
ایک مرتبہ پھر اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری داد کے مستحق ہیں۔
یہ صاحب جو گاڑی سے اتر رہے ہیں انکا نام ہے فرحان غنی جو کہ سعید غنی عُرف بھائی جان کے چھوٹے بھائی ہیں
موصوف کی اس کوالیفیکیشن کے علاوہ ایک اور کوالیفیکیشن یہ ہے کہ 6 یونین کاؤنسلز میں پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کرکے ٹاؤن چیئرمین بنے
ٹاؤن کی قسمت کو تو کچھ نا ہوا موصوف کی قسمت ایسی بدلی کہ تین سال میں کروڑوں کے اثاثے بنالئے
فرحان غنی پر چنیسر گوٹھ سے لیکر لیاری اور ملیر میں ڈرگ مافیا سے تعلقات اور انکی سہولت کاری کے الزامات کا ایک الگ چیپڑ ہے
موصوف آجکل جیل میں ہے اور انسداد دہشتگردی کے کیس بھگت رہا ہے
یہ ہے کراچی میں پیپلز پارٹی کے امیت شاہ سعید غنی عرف بھائی جان کی کُل سیاست اور پیدا گیری
یاد رہے سعید غنی عرف بھائی جان آجکل بلاول ہاؤس کراچی کے تمام مالی اخراجات بھی اٹھاتے ہیں 😎