کم از کم تین نئے صوبوں پر اتفاق رائے موجود تھا جنوبی پنجاب صوبہ، بہاولپور صوبہ اور ہزارہ صوبہ بنانے پر مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور جے یو آئی میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن آج مسلم لیگ ن اپنے منشور میں کئے گئے وعدے سے یو ٹرن لے رہی ہے بہتر ہے اپنا منشور بھی بدل لیں
میں اپنے سابق ساتھی کپتانوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان کو مناسب اور آزادانہ طبی دیکھ بھال اور وہ عزت فراہم کی جائے جس کا ہر انسان مستحق ہے۔ یہ سیاست نہیں ہے۔ یہ ہمارے کھیل کے ایک لیجنڈ کے لیے بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔ سابق لیجنڈری ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا کا عمران خان کے علاج کا مطالبہ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#ImranKhan #Pakistan
مریم صفدر نے ڈی جی آی ایس پی آر کی ساری کانفرنسز بیانات پر فتنہ الہندوستان مہم پر پانی پھر دیا۔۔۔انڈین میڈیا اسے عالمی عدالت میں نواز شریف کے بیان کی طرح دکھاے گا کہ دہشتگردی تو ہاکستان کا اندرونی معاملہ ہے
ٹریفک پولیس وارڈنز نے کروڑ عیسن لعل شہر کے قریب ناکہ لگایا ہوا تھا
گورنمنٹ ٹیچر محمد نواز بھٹی دیہات سے شہر کام کے سلسلہ میں گیا
تو وارڈنز نے روکا لائسنس مانگا دیکھا دیا اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میرا چالان نہ کریں
میں گورنمنٹ ٹیچر ہوں تو آگے سے اہل خانہ اور موقع پہ موجود لوگوں کے مطابق وارڈن اہلکار نے چابی نکال کی اور ایک نے دھکا دے دیا ۔
اس وقت عزت نفس کو ایسا جھٹکا لگا کہ محمد نواز وہیں دل پکڑ کر بیٹھ گیا
اور وہیں بیچارے کی روح قبض ہوگئی جب وارڈنز نے دیکھا کہ یہ تو بیچارا مر گیا تو
وہ موقع سے فرار ہوگئے اردگرد والے لوگوں نے اسپتال پہنچایا لیکن ڈاکٹرز نے تصدیق کردی کہ
یہ بیچارے ﷲ کے پاس جاچکے ہیں
افسوس اگر اس کے ساتھ بدتمیزی نہ کی جاتی تو یہ بیچارا اب تک اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا😭😭🇵🇰🇵🇰
تاریخ گواہ ہے شریف خاندان نے ہمیشہ اپنے ملک کے خلاف اپنے لوگوں کے خلاف ہمیشہ ہرزہ سرائی کی ہے ۔
بھارت نے مریم صفدر کے بیان کو ہاتھوں ہاتھ لے کر مہم شروع کر دی ہے۔
کل یہی بیان عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف بطور حوالہ پیش کیا جائے گا۔
یعنی جو بات اپنے ملک میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کہی گئی، وہی بھارت کے ہاتھ میں پاکستان کے خلاف سفارتی ہتھیار بن جائے گی۔
محسن نقوی نے آج ایک بار پھر نئے صوبوں کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو کاٹ کر چلوایا
اس بیان میں عمران خان نے بار بار کہا کہ “یہ میرا ذاتی مؤقف ہے- اس حوالے سے بحث / debate ہونی چاہیے”
عمران خان نے ڈکٹیٹر اور اس کے وائسرائے کی طرح اپنا مؤقف زبردستی مسلط کرنےکی کوشش نہیں کی
اور موجودہ سارا سسٹم ہی ناجائز ہے جس کا کیا گیا ہر اقدام ناجائز ہے - اور یہ سسٹم یا فارم 47 کی ناجائز پیداوار پارلیمان کوئی اختیار ہی نہیں رکھتی ایسا کوئی کام کرنے کی
رسیدیں نکالیں۔۔پے منٹ ڈیٹٰل، ٹریکنگ ڈیٹا، مسافروں ی لسٹ جواب دیں ، بیگ اٹھانے والی مخصوص سیاستدان جو کبھی الیکشن نہیں لڑیں اور ہر اسمبلی میں ہر حکومت کے ساتھ ہوتی ہیں۔
عمران خان کا نام لینا منع ہے ہم نے ریڈ لائن لگا دی ہے اور آج نئے صوبوں پر حمایت چاہئے تو اسیرِ اڈیالہ غازی عمران احمد خان نیازی کے نئے صوبوں کی اہمیت و ضرورت کے حوالے سے دئے گئے پرانے بیانات چلا کر حمایت کے لئے کیمپین کر رہے ہیں
شوریو شرم حیاء غیرت تم لوگوں کو چھو کر بھی نہیں گذری ہوئی
اَخ تُھو تے لکھ لکھ لعنت قبُولو
مودی سے یاری انکے خون انکی گھُٹی میں ہے
فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر، ترجمان اعلی انجینئر شریف، بیان ساز اعلی جنرل مشتاق اور سینکڑوں بیانیہ باز پونے چار سال سےپوری دنیا کو فتنہ الہندوستان سے آگاہ کررہے ہیں لیکن ان سب کی خاص اعلی انڈیا،مودی اور ہندوتوا کو کلین چٹ دے رہی ہیں
مریم نواز! وکٹم کارڈ کھیلنا بند کریں۔ یہ آپ کے چچا شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے کہا تھا: “طالبان اور ہمارا نقطۂ نظر ایک ہی ہے، طالبان کو چاہیے کہ پنجاب میں حملے نہ کریں۔
نجی دورہ ہے تو پھر تو کمرشل فلائیٹ سے جائیں گی۔ کیونکہ جو جہاز خریدا تھا وہ تو عوام کی خدمت کے لئے خریدا تھا۔۔ کیا ہی اچھا ہو وہ بھی بورڈنگ پاس کی کوئی تصویر جاری کر دیں۔
شریف خاندان کے دلوں سے ہمیشہ بھارت کے لیے پیار ابھر کر نکلتا ہے اور اپنے ہی چھوٹے صوبوں کے لیے نفرت۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلی آج کھل کر اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ اس کو انڈیا سے نہیں اپنے پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے ۔ ان کی نیت ایک بار پھر پاکستان کو توڑنے کی ہے۔
پاکستان کا اصل دشمن کون ہے، اس کا فیصلہ اب ان اقتدار بھوکوں کی پسند و ناپسند پر ہونے لگا ہے۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا اپنے ہی ملک کے پڑوسی صوبوں سے خطرہ محسوس کرنا اور ان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جب ایک صوبائی سربراہ اپنے ہی ہم وطنوں کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بجائے ان کے خلاف نفرت اور تفریق کو ہوا دے، تو اس سے وفاق کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ شریف خاندان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی نریندر مودی جیسے متعصب بھارتی رہنما کے ساتھ ذاتی مراسلت، بغیر ویزا جاتی امرا میں ان کی میزبانی اور بھارتی جارحیت پر مسلسل پراسرار خاموشی نے ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف روایتی دشمن سے لچکدار رویہ اور پینگیں بڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تو دوسری طرف اپنے ہی چھوٹے صوبوں اور ہم وطنوں کو خطرہ قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ اقتدار کی بقا کے لیے ملکی سالمیت اور صوبائی ہم آہنگی کو داؤ پر لگانا ان کا پرانا طریقہ کار ہے۔ اگر اپنے ہی ملک کی اکائیاں اور اپنے ہی لوگ آپ کو دشمن اور خطرہ نظر آنے لگیں، تو مسئلہ پڑوسی صوبوں میں نہیں بلکہ آپ کی اپنی سوچ اور ترجیحات میں ہے۔
عظمی بخاری صاحبہ زرا وضاحت فرما دیں کہ یہ اگر وزٹ ذاتی نوعیت کا ہے تو محترمہ مریم نواز صاحبہ کمرشل فلائیٹ سے لندن گئی ہیں یا 10 ارب والے جہاز کو لیکر گئی ہیں؟۔ اگر ہوسکے تو بورڈنگ پاس کی وڈیو نہ سہی تصویر ہی جاری کردیں۔۔
یہ عورت بدکردار، بد دماغ اور جاہل ہونے کے ساتھ ساتھ پرلے درجے کی متعصب اور مکار بھی ہے
جب بھی اسکے پیروں تلے زمین گرم ہونے لگتی ہے؛ یہ لسانی منافرت کی ہنڈیا چڑھا دیتی ہے۔۔۔!!!
یہ تعصب کی انتہا ہے ان خاتون کو کچھ لوگ آیندہ کا ممکنہ وزیراعظم قرار دے رہے ہیں مگر بھارت کے مقابلے میں دوسرے صوبوں کے بارے میں ایسے بات کرنا ، سیاسی ناپختگی ہی نہیں تعصب ہے یہ شرمناک زبان ہے ۔ ان خاتون کو پاکستان کی اکائیوں کے خلاف اس انداز میں بات کرنے پر معافی مانگنی چاہیے