عمران خان، تمہیں قدرت نے 25 کروڑ لوگوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور تم اسے جوانمردی اور دلیری سے نبھا رہے ہو۔
تم جانتے ہو، اکیلے تم نے آزاد نہیں ہونا۔ تمہارے ساتھ 25 کروڑ پاکستانیوں نے آزاد ہونا ہے۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔
Happiest Birthday Imran Khan
کل رات کے مذاکرات تاریخ میں لکھے جائیں گے. بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ عمران خان صاحب کی رہائی پر بھی پیش رفت ہو چکی تھی، لیکن ایک معاملہ ایسا تھا جس پر نوجوان اور نڈر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا.
حکومت نے تقریباً تمام مطالبات مان لیے تھے، لیکن جب خیبر پختونخوا میں آپریشن کی مطالبہ سامنے آیا تو سہیل آفریدی نے اس پر اتفاق کرنے سے انکار کر دیا.
انہوں نے پختونوں، خصوصاً قبائلی علاقوں کو ایک اور ڈالر کی جنگ میں دھکیلنے سے انکار کر دیا. انشاء اللّہ سہیل آفریدی کا یہ اصولی مؤقف تاریخ میں یاد رکھا جائے گا. ✊
پختونوں کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں!
یہ موقع گنڈاپور کو بھی ملا تھا لیکن اپنی کمزوریوں کی وجہ سے وہ گنوا بیٹھا۔
یہ موقع اب سہیل آفریدی کو ملا ہے، اگر اس نے استقامت کا مظاہرہ کیا تو کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے بعد پاکستان کی دوسرا مقبول ترین شخص یہی ہوگا۔
سہیل آفریدی، یہ موقع ضائع مت کرنا۔ ایسے موقع دہائیوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ملتے ہیں!!!
انتشار پھیلانے والے دیکھ لیں ایک عوامی نمائندے کے مطالبات۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ تب کامیاب ہو گی جب تمام ادارے قانون اور آئین کے نیچے کام کریں۔
عسکریت کسی مسئلے کا حل نہیں، ڈرائیونگ سیٹ پہ عوامی نمائندوں کو بیٹھنا ہو گا
چوکیدار گھر چلانے کی صلح نہیں دے سکتا۔
اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے تو سہیل آفریدی کا چارٹر آف ڈیمانڈ فوری مانا جا سکتا ہے
زمان پارک پر حملے کروائے عاصم منیر نے
الیکشن ملتوی کروائے عاصم منیر نے
احاطہ عدالت سے عمران خان اغواء کروایا عاصم منیر نے
لوگوں کے گھر تڑوائے عاصم منیر نے
برہنہ ویڈیوز بنوائیں عاصم منیر نے
بچوں بیٹیوں اور خواتین کو اغواء کیا عاصم منیر نے
مینڈیٹ چھینا عاصم منیر نے
جعلی حکمران بٹھائے عاصم منیر نے
انصاف کا نظام تباہ کیا عاصم منیر نے
ڈی چوک ، مریدکے ، کشمیر گولی چلائی عاصم منیر نے
پینتیس سو اہلکار مروائے عاصم منیر نے
اس ملک کا ہر دوسرا مسئلہ اس اکیلے ذہنی مریض کا پیدا کردہ ہے۔
مزاکرات کے دوران محسن نقوی کا لگاتار فیلڈ مارشل، DG ISI, صدر اور PM سے رابطہ رہا۔ تمام شرائط کی رکاوٹ فیلڈ مارشل اور DG ISI کی جانب سے آئی۔ محسن نقوی بار بار اٹھ کر جاتے اور نئے احکامات کے ساتھ واپس آتے رہے۔
لانگ مارچ سے پھٹی کیوں پڑی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر میڈیا کے ذریعے، پھر حکومتی وزرا کے ذریعے اور آخر میں کورکمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ کے ذریعے دھمکیاں دینا پڑیں؟
ایک وجہ تو یہ ہے کہ اٹک پُل سے پہلے عوام کو مختلف علاقوں سے موبلائز کیا جائے گا، انہیں چارجڈ رکھنے کیلئے مختصر وقفوں سے تقاریر رکھی جائیں گی، سوشل میڈیا پر براہ راست مناظر نشر ہوں گے، عوام جب سڑکوں پر ہوں تو پھر ان کے جذبات روکنا ناممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ قوی امکان ہے کہ ان جلوسوں اور جلسوں میں فوج اور اس کی ہائی کمان کی پشتو میں خوب ماں بہن ایک کی جائے گی، جب تک گالیاں پشتو سے اردو اور پنجابی میں ٹرانسلیٹ ہوں گی، تب تک نئی گالیاں وجود میں آچکی ہوں گی۔
اس دوران ملک کے باقی علاقوں کے لوگوں میں بھی ہلچل پیدا ہوگی۔ اور کچھ نہیں تو کم سے کم گالیوں میں وہ بھی حصہ بقدر جثہ شامل ہوتے جائیں گے۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لانگ نکلے گا جس میں مقدس گائے کو ناپاک خنزیر میں تبدیل کیا جائے گا۔
یہ مناظر اگر پاکستان تک رہتے تو پھر بھی بچت ممکن تھی، لیکن یہ سب کچھ گلوبل کوریج کے تحت پوری دنیا میں نشر ہوگا۔
ستر سال سے فوج نے اپنا جو امپریشن دنیا کے سامنے بنا رکھا تھا کہ عوام سیاستدانوں کی بجائے فوج سے محبت کرتی ہے، وہ ساری دنیا کے سامنے گٹربرد ہوجائے گا۔
عالمی طاقتیں کبھی ایسی قیادت یا ادارے سے ڈیل نہیں کرتیں جس کی جڑیں عوام میں نہ ہوں، یا عوام اس سے سخت نفرت کرتی ہو۔ اس کا ایک ثبوت مشرف ہے۔ جب اس نے ٹیک اوور کیا تو ملک میں مٹھائیاں بانٹی گئیں جس سے امریکہ کو ڈھارس ہوئی کہ عوام اس کے حمایتی نہیں تو مخالف بھی نہیں۔ لیکون جونہی عدلیہ تحریک چلی تو امریکہ نے مشرف کے سر سے ہاتھ کھینچ لیا۔
عاصم منیر کے سر پر اس وقت صرف ٹرمپ کا ہاتھ ہے، نومبر کے پہلے ہفتے میں ٹرمپ کا اپنا اقتدار تقریباً ملیا میٹ ہوجائے گا جب مڈٹرم الیکشن میں وہ ہاؤس اور سینیٹ، دونوں میں اکثریت کھو بیٹھے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ڈیموکریٹ اپنے پلان کے مطابق اس کا مواخذہ کرسکیں گے۔ ایسے میں وہ اپنی فکر کرے گا یا مستری کی؟
پھٹی اسی لئے پڑی ہے کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی بہت " لانگ " حدیں کراس کرچکا ہوگا!!!
معلوم نہیں جرنیلوں کے اندر وہ کونسا زعم پیدا ہوچکا ہے یا کیسی غلط فہمی آگئی ہے کہ نو مئی کو یہ قوم کی قیامت صغری سمجھتے ہیں۔
اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے عوام چند جلی ہوئی دیواروں اور ٹوٹے ہوئے مجسموں پر تھوکتے بھی نہیں۔ اٹھائیں اپنا نو مئی اور نکلیں شاباش۔