*حیلولہ،قیلولہ اور عیلولہ* کیا ہیں ؟
یہ معلومات مدارس اور یونیورسٹیز کے طلباء ، بزنس مین اور افسران بالا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔
*1:* حیلولہ کا معنی ہے: نماز فجر کے بعد یا (نماز فجر کے وقت کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے) سوئے رہنا۔اس سونے کو عربی میں "حیلولہ" اس لیے کہتے ہیں کہ یہ آپ اور آپ کے رزق کے درمیان رکاوٹ بنتا ہے۔
یہ وقت اللہ کی طرف سے رزق کی برسات اور تقسیم کا ہوتا ہے۔
ترمذی شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے صبح کے اوقات میں برکت کی دعا ان الفاظ کے ساتھ فرمائی ہے: اللھم بارک لامتی فی بکورہا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت محو استراحت ��ھیں،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
یَا بُنِیَّةَ! قُوۡمِیۡ،اِشۡهَدِیۡ رِزۡقَ رَبِّكِ وَلاَتَكُوۡنِیۡ مِنَ الۡغَافِلِیۡنَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یُقَسِّمُ أَرۡزَاقَ النَّاسِ مَا بَیۡنَ طُلُوۡعِ الۡفَجۡرِ اِلیٰ طُلُوِۡعِ الشَّمۡسِ
دخترعزیزم! اُٹھ جائیے،اپنے رب کا رزق حاصل کیجیے!غافل لوگوں میں سے نہ بنیے! اللہ کریم طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک بندوں کا رزق تقسیم فرماتے ہیں۔
*2* : قیلولہ نماز ظہر کے بعد یا اسے پہلے آدھے گھنٹے (یا کم و بیش) کے لیے آرام کرنا کہلاتا ہے۔یہ عبادت بھی ہے،خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت بھی ہے اور صحت بھی ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں روایت لائے ہیں کہ
دن کو سونے کے ذریعے رات کو عبادت کی طاقت حاصل کیجیے۔۔ عام دنوں میں نماز ظہر سے پہلے کھانا اور قیلولہ ھونا چاہیے۔جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد کھانا اور آرام ھونا چاہیے۔فرماتے تھے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ قول امام بخاری نے نقل کیا ہے: مَا كُنَّا نَقِیۡلُ وَ نَتَغَدّٰی اِلاَّ بَعۡدَ الۡجُمُعَةِ
نماز جمعہ کے ہم بعد سوتے تھے اور کھانا کھاتے تھے
3: عیلولہ کا مفہوم،"عصر کی نماز کے بعد آرام کے لیے لیٹنا" کا ہے۔
یہ جسم و سانس کی بیماری اور سینہ کی تنگی کا سبب بنتا ہے۔
اس وقت سیر و تفریح اور ہلکے پھلکے کام کیے جائیں۔ذکر و فکر اور دعا ��ھی کرنی چاہیے۔ شیخ مکرم اس کی اہمیت پہ زور دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ حدیث کے مطابق " یہ دونوں قسم کے فرشتوں کے اجتماع کا وقت ھوتا ہے۔ رات والے فرشتے آتے اور دن والے روانہ ہو جاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)ان فرشتوں نے اللہ تعالی کو رپورٹ دینی ہوتی ہے کہ ہم تیرےبندوں کو آپ کی عبادت میں مشغول چھوڑ کے آئے ہیں۔
ہمیں اپنا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیے!جس میں کھانے پینے،سونے جاگنے،ملنے ملانے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے سمیت تمام معاملات ایک نظم اور ترتیب کے ساتھ کرنے چاہیں۔
بے وقت سوئیے نہیں! رات کی نیند پوریں کریں۔موبائل کو اپنا سب کچھ نہ سمجھیں۔یہ ایک ضرورت ہے،اسے ضرورت کی حد تک رکھیں۔رات عشاء کی نماز سے پہلے نہ سوئیے اور رات عشاء کے بعد زیادہ تک فضول گوئی میں نیند کا وقت ضائع نہیں کیجیے!
عنوان: پچانوے فیصد عورتیں جاہل ہیں
تحریر : رضا رحمٰن خٹک
ساحل عدیم کے بیان کو عورتوں کی باجماعت تذلیل کے طور پر لیا گیا ہے ۔۔۔۔ کسی بھی طبقے کی دل آزاری بحرحال قابل مذمت ہے ۔۔۔
علم کی ترویج و ترقی میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے ۔۔۔ اسلامی تاریخ میں بھی خواتین کی علمی خدمات سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔۔۔ موجودہ دور میں بھی تعلیم و تع��م کے شعبہ میں خواتین کا کردار مردوں سے زیادہ ہے
وطن عزیز کے حالات کا معروضی جائزہ ساحل عدیم کے دعویٰ کو معمولی ترمیم کے ساتھ قبول کرنے کا تقاضا بھی کرتا ہے ۔۔۔ ترمیم یہ کہ پاکستان کی پچانوے فیصد خواتین ہی نہیں پچانوے فیصد مرد بھی جاہل ہی ہیں۔۔۔
جاہل ہوتا کون ہے ؟ جاہل کے آسان تراجم ہیں ناواقف' نادان' بے خبر وغیرہ۔۔۔۔ ان تراجم کے حساب سے پاکستانیوں کو کون جاہل نہ کہے گا۔۔۔۔
پچھتر سال ایک جیسے وعدوں دعووں کے پیچھے بھاگنے والی قوم جاہل نہیں تو کیا ہے ؟؟؟ اتنے لمبے عرصے میں زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم تک میں خود کفیل نہ ہونے والی قوم جاہل نہیں تو کیا ہے ؟؟؟
میانوالی میں اپنی ہی نومولود بچی کو قتل کردینے والا باپ جس قوم سے ہو وہ قوم جاہل نہیں تو کیا ہے ؟؟؟وطن کے طول و عرض میں کمسن بچوں کے ساتھ لواطت کرنے والی قوم جاہل نہیں تو کیا ہے ؟؟؟
کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والی قوم جاہل نہیں تو کیا ہے ؟؟؟
خواتین بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔۔۔ اکیسویں صدی میں بھی ساس بہو کے جھگڑے کرنے والی خواتین جاہل نہیں تو کیا ہیں؟ اسلام کے اجازت کے باوجود شوہر کو دوسری شادی سے روکنے والی خواتین جاہل نہیں تو کیا ہیں؟
سوشل میڈیا پر غیروں کی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے والی ٹھمکے باز خواتین جاہل نہیں تو کیا ہیں؟ محبوب کو قدموں کے نیچے لاتی لاتی بابے کے نیچے آ جانی والی بد عقیدہ خواتین جاہل نہیں تو کیا ہیں؟
دین پردے کا حکم دیتا ہے اور بازاروں میں زینت کا اظہار کرتی پھرتی خواتین جاہل نہیں تو کیا ہیں؟
جہالت چار سو ہے پھیلی ہوئی ہے اور کس صنف میں زیادہ ہے اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے
اس بحث کا موجب بننے والے ساحل عدیم نے خود بھی ایک جاہل ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔۔۔قرآن فرماتا ہے
وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا: '
'اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں
اور ساحل عدیم سلام کہنے کے بجائے طاغوت کا مطلب سمجھانے لگ جاتا ہے ۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں اپنی جہالت کا اس بے بڑا سرٹیفیکیٹ اور کیا ہوگا
اس بحث سے ایک دوسری طرح کے جاہل بھی بمعہ بغض اسلام کے کھل کے سامنے آئے ہیں۔۔وہ جاہل ہیں موم بتی مافیا کے کارندے ۔۔۔جنہوں نے اس معمولی بات کو لیکر عورت کارڈ کھیلنا شروع کر دیا
جاہلوں کا ذکر ہوا ہے تو پڑھے لکھے جاہلوں کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔۔۔37 حروف اور چار کتابیں پڑھ کر خود کو عقل کل سمجھنے والے اور دوسروں کو بے وقوف اور پاگل سمجھنے والے مغرور جاہل ہیں۔۔۔ جاہل ہیں۔۔۔ جاہل ہیں ۔۔۔۔
وہ ہر شخص جاہل ہے جو کہتا ہے مجھے سب پتا ہے
جبکہ رب رحمٰن فرماتا ہے
وما أوتيتم من العلم إلا قليلا
رب رحمٰن نے یہ بھی فرمایا ہے
اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا
بیشک وہ زیادتی کرنے والا، بڑا نادان ہے۔
خاکسار کو تو اپنے جاہل ہونے کا کامل ادراک بھی ہے اور اعتراف ہے ۔۔۔
بس عرض یہ ہے کی قوم اپنی جہالت دور کرنے کی سعی فرمائے ۔۔۔ تاکہ عمومی معاملات میں قوم کی معزز خواتین کو کوئی جاہل کہنے کی جرآت نہ کر سکے۔۔۔
قوم کو علم دینے کا فریضہ عورتیں ہی انجام دے سکتی ہیں۔۔۔ کیونکہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے
وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو اب مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیں.
مساجد کے در و دیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلا کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر�� اٸیر کنڈیشن اور اٸیرکولرز پر اور نفیس قالینوں پر صرف خرچ ؟
ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں؟
چند تجاویز
1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا باعزت منظم انتظام ممکن بنائیں۔
2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔
( retired اساتذہ کرام ،ڈاکٹرز اور پڑھے لکھے لوگ اپنی service مہیا کر یں)
مسجد کے خواتین section میں خواتین اساتزہ اپنا حصہ ڈالیں۔
3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو جس میں بہت ہی باشعور لوگوں سے مشورہ لیا جا سکے ،جو دوسروں کے گھریلو رازوں کو فاش نہ کریں۔
4۔ مالی مدد مانگنے والوں کا مسجد کے اندر رکھے گئے رجسٹر پر اندراج ہو جس کا نگران محلے کا بہت قابل اعتبار ایک شخص یا group of people بھی ہو سکتے ہیں ۔ مدد مانگنے والے کی ایمانداری سے مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی انفرادی طور پر مدد کو ممکن بنایا جائے ۔
5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔ جس کی تقسیم پر
محلے کے صاحب ثروت لوگوں کو نگران رکھا جائے جو خود بھی خوف خدا ، اللہ کے سامنے جواب دہی اور ضرورت مندوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہوں ۔
6۔ بچوں کے رشتے ناتے کرنے کے لیے، محلے یا، ایک دوسرے کی واقفیت کو بھی استعمال کریں ۔ ایک دوسرے سے کہہ لینا چاہیے ،
تاکہ ان شادی دفاتر سے والدین کو نجات مل سکے ۔
7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ ۔ مساجد کے مولوی صاحبان،
موذن ، قاری صاحبان ،
خدام مساجد کی عزت و تکریم کو بڑھائیں ۔
ان لوگوں کو کمتر سمجھنا چھوڑ دیں۔
8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہونا چاہیے ۔
9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔
خصوصا"
آداب زندگی ،
معاشرت ،
حلال کمائی راستے کے حقوق ،عورتوں کے حقوق
اور خصوصا" ہمسائے کے حقوق کو بار بار اگلی نسل کے ذہین و دل میں راسخ کیا جائے ۔
10۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کے لیے دستیاب ہوں ( لوگ گھروں کی اضافی کتب کا ذخیرہ گھر میں کرنے کی بجائے مساجد میں رکھیں صدقہ جاریہ کے طور پر )
قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں۔
ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ سے ملتی ہے ۔
لڑکوں کو مسجد میں آنے نماز کے بعد
،بیٹھنے اور آپس میں تعلیمی باتیں کرنے ، دوستوں سے discuss کرنے سے مت روکیں ۔
اسی بہانے وہ مسجد میں آنا شروع ہو جائیں گے ۔اور ہو سکتا ہے نماز پڑھنے کے عادی ہو جائیں۔
ہم نے ان روایات کو چھوڑا ہے تو ہی ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گۓ اور مزید چلے ہی جا رہے ہیں۔
خدا را, رک جاٸیں، سوچیں!
اور اپنی ترجیحات بدلیں۔
اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔