عمران خان اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل
بانی پی ٹی ائی سخت سیکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل سے روانہ ،بانی پی ٹی آئی کے اسکواڈ میں اسلام آباد پولیس،ایمبولینس اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں شامل،بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ آور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل بھی ہمراہ ہیں
نئے صوبے یعنی آ بیل مجھے مار۔ با اختیار بلدیاتی ادارے کیوں نہیں بنا ئے جاتے۔ اس لئے کہ قوم کو جکڑ کر رکھا جائے؟ اس لئے کہ مرکز سے من مانی کی جاتی رہے؟ ایسا کوئی تجربہ کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ دنیا نے مدتوں پہلے سیکھ لیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر عوامی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو سکتی ہیں ۔تنگ نظری اور posesiveness معقول راستہ ہمیں اختیار کرنے نہیں دیتی۔
اے صاحب نظراں نشہ قوت ہے خطرناک
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
ڈاکٹر یاسمین راشد کی وصیت 🚨
حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے، اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی رہائی اور علاج کے لئے فرض سمجھ کر سب بھرپور آواز اٹھائیں
یاسمین راشد کا قوم کے نام پیغام 🚨
"حالات کچھ سازگار نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی غیور عوام، پارٹی کے مخلص کارکنان اور سوشل میڈیا کے مجاہدین سے یہ وصیت کرتی ہوں کہ کچھ بھی ہو جائے، عمران خان کو کبھی تنہا مت چھوڑنا۔" 💔
علیمہ خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق کو 175 ارب روپے کی منتقلی کے کسی بھی معاہدے پر اُس وقت تک دستخط نہ کرے جب تک ضم شدہ اضلاع کا مکمل مالی حق ادا نہیں کیا جاتا اور عمران خان کے بنیادی قانونی و انسانی حقوق بحال نہیں کیے جاتے
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر مکمل طبی معائنے اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے
آٹھ ماہ سے جاری تنہائی کا خاتمہ کیا جائے
اہلِ خانہ وکلاء اور سیاسی ساتھیوں سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے
بیٹوں سے رابطہ بحال کیا جائے اور کتابوں و اخبارات تک رسائی فراہم کی جائے
اور جب تک یہ حقوق بحال نہیں ہوتے خیبر پختونخوا حکومت کو وفاق کے ساتھ کسی نئے مالی معاہدے میں شریک نہیں ہونا چاہیے
ایک دن آئے گا انشاء اللہ جب بجلی کمپنیوں کے معاہدے کرنے والے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ بچہ بچہ جب جان لے گا کہ پاکستان میں بجلی بھارت اور بنگلہ دیش سے آٹھ گنا مہنگی کیوں یے۔ جب شریف اور زرداری خاندانوں کے" جواں مرد "رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کی طرح بھیک پر بسر کریں گے۔
🚨 اہم ترین الرٹ: پنڈی چلو، اڈیالہ پہنچو! 🚨
پنڈی ریجن کے تمام عہدیداران، کارکنا ن اور غیور ساتھیو!
وقت آگیا ہے یکجہتی کا، وقت آگیا ہے اپنے کپتان اور عظیم لیڈر کے لیے کھڑے ہونے کا! پنڈی ریجن کے تمام عہدیدار اپنے اپنے قافلوں اور ساتھیوں سمیت اڈیالہ پہنچچیں۔۔
کچھ عرصے سے جو خاموشی تھی وہ ارادتا تھی کیونکہ ہمارے پڑوس میں جنگ چل رہی تھی اور اس میں پاکستان کا رول تھا تو ہم نے پاکستان کی خاطر انہیں وقت دیا۔ ایسے حالات میں افواہیں پھیلیں کہ ہمارے درمیان ناراضگیاں ہیں تو ایسا کچھ نہیں۔ عمران خان کی پارٹی ہماری پارٹی ہے، عمران خان کی بہنیں ہماری بہنیں ہیں۔
محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عمران خان کی ہدایت پر نیشنل اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات،
ملاقات میں علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھر، حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری بھی شریک
ملاقات میں عمران خان کی صحت و علاج، قانونی دستاویزات پر دستخط سے روکے جانے اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹوں پر تفصیلی تبادلہ خیال
آئندہ بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی حقوق، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات پر تبادلہ خیال
قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق
اپوزیشن کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور بجٹ میں عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی پر بھی اتفاق