"میرا نام زرینہ اختر ہے اور میں شہید کانسٹیبل خالد جاوید کی بیٹی ہوں۔ میرے والد کو 2021 میں کالعدم تحریک لبیک کے پر تشدد مظاہرین نے ایم اے او کالج کے پاس گاڑی چڑھا کر شہید کر دیا تھا۔ ان مظاہروں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ انتشار پھیلتا ہے۔ ایسے مظاہروں سے ملک اور قوم تباہ ہوتی ہے، معیشت تباہ ہوتی ہے۔"
شہید کانسٹیبل خالد کے اہلخانہ ان کی اس عظیم قربانی پر فخر محسوس کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے اب تک پنجاب پولیس کے 12 اہلکار کالعدم ٹی ایل پی کے پر تشدد واقعات کے دوران اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں اہکار شدید زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 11 جوان 2021 میں شہید ہوئے اور انسپکٹر شہزاد نواز 13 اکتوبر 2025 کو شہید ہوئے۔
#PunjabPolice #ViolentProtests #Martyrs #PoliceMartyrs #Families #انتشارـنہیںـاستحکام
سیاہ روزن تو مٙیں ہوں وہ تو ستارہ ٹھہرا
تو پھر مجھے کیوں کھنچاؤ محسوس ہو رہا ہے!
چھڑا چکا ہوں میں غم کے بازو سے اپنی گردن
مگر ابھی تک دباؤ محسوس ہو رہا ہے