میری پوسٹ شیئر ضرور کریں کیونکہ یہ میں نے بہت مجبوری میں بنائی ہے ۔۔۔فیصل اباد کی حلقے این اے 112 اور پی پی 116 کے 14 ورکرز کو نو مئی کے کیسز میں 10 سے تین سال کی سزائیں ہوئی ہیں ۔ان میں سے سات جیل میں اور سات اشتہاری ہیں ۔۔ان کی فیملیز کا کوئی ��رسان حال نہیں ۔۔میں نے اپنی پوسٹ میں لیڈرشپ کو بھی ٹیگ کیا لیکن ان کی ابھی تک کوئی دادرسی نہیں کی گئی ۔۔۔روزے ہیں عید ارہی ہے اگر ان لوگوں کی سزا لمبی ہے تو ان کی فیملیز کی سپورٹ بھی لمبے عرصے کے لیے ہونی چاہیے ۔۔۔میں جتنا کر سکتی تھی میں نے کیا اپ سب سے گزارش ہے کہ اگر کچھ لوگ ذاتی طور پر ایک ایک فیملی سے رابطہ کر کے ان کی سپورٹ کر دیں تو شاید تکلیف دور تو نہیں ہوگی لیکن کم ضرور ہو جائے گی ۔۔۔اگر ورکرز اور سپورٹرز کو تکلیف میں اکیلے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ لوگ تو دل برداشتہ ہو جائیں گے
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
غزہ کے الشفا اسپتال میں تعینات آسٹریلوی ڈاکٹروں نے ہولناک مناظر بیان کیے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایک حاملہ خاتون، جو نو ماہ کی تھیں، سر قلم ہونے کی حالت میں اسپتال لائی گئیں۔ انتہائی ہنگامی صورتحال میں ایمرجنسی روم میں بغیر کسی مناسب آلات، درد کم کرنے والی ادویات یا سہولیات کے سیزیرین آپریشن کرنا پڑا تاکہ بچے کی جان بچائی جا سکے۔
ڈاکٹروں نے مزید بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج 70 سے 80 فیصد مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں، جبکہ علاج کے لیے ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔
“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران ک�� ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا م��ر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین س��سر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حق��قت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
شاباش زلفی آپ بہترین بولے۔ عمدہ طریقے سے خان کا مقدمہ پیش کیا۔
ساتھ اس بات کا بھی افسوس ہوا کہ کچھ نادان دوستوں نے اس ہئیرنگ کو کینسل کروانے کی کوشش کی۔ آپکی محنت ضائع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ناکام رہے۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں اللہ مدد کرے گا
مرغی فروش نے خان کو شدت پسند - انتشاری - فسادی- وائلنس کرنے والا۔ پر تشدد سیاست کے زریعے اقتدار حاصل کرنے والا کہا ہے۔
جو کچھ اس نے خان کے لئے بولا وہ اگر کسی اور سیاسی شخصیت کے لئے یا کسی ممبر اسمبلی کے لئے بولا ہوتا تو ابھی تک اس کو سوشل میڈیا پر دن میں تارے نظر آ جانے تھے۔
کیونکہ اس نے خان کو برا کہا ہے سب خاموش ہیں۔ وہ بھی خاموش ہیں جو اسے نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے تھے۔ باقی سب بھی۔
آخر کار سوشل میڈیا ہی ہے جو اس کا حساب برابر کرے گا۔ باقی کوئی امید نہیں۔
نوٹ: مرغی فروش (بقول وجاہت سعید خان صاحب)