@ShamaJunejo@NawazSharifMNS Mian sahb ko laany waly awam they?? Ap ka matlab he ke 1990 aur 1997 men Benazir Bhutto ko nikal kar awam Miaan sahb ko le kar ayi? Seriously?? 😳😳😳
@ShamaJunejo@NawazSharifMNS جو سیاستدان نکالنے والوں کا برملا نام لے رہا ہے اسکے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پھر میاں صاحب کیسے نام لیں۔ دوسرا تو نام بھی لے رہا ہے اور نکالنے کی وجہ بھی بتا رہا ہے پھر اداروں کے ماؤتھ پیس صحافی کہتے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے
@ShamaJunejo مٹھائی تو ٹھیک ہے لیکن پرائیویٹ یا سرکاری ہر اسپتال میں لکھا ہوتا ہے کہ سٹاف کو کسی بھی مد میں پیسے دینا منع ہے۔ بیشک اپنی خوشی سے بھی۔ اگر جمشید نے پھر بھی ایسا کیا تو اس میں فخر سے بتانے کی بجائے صرف مٹھائی والی بات لکھ دیتیں۔ بندہ پڑھ لکھ جائے پھر بھی وڈیروں والی سوچ رہتی ہے
@SaddiaMazhar اور ان ثاقب تنویر صاحب کی قابلیت اور تجربہ کیا ہے جو پاکستان ٹی وی ڈیجٹل کو ہیڈ کر رہے ہیں؟ یہ طلعت حسین کی ٹیم میں کانٹینٹ پروڈیوسر تھے۔ کیا اسی کے صلے میں پی ٹی وی ڈیجٹل کو ہیڈ کر رہے ہیں؟ ویسے طلعت کے بیٹے شمائل حسین پر ایک بھر پور پیکج چلا کر یہ نوکری حلال کر چکے ہیں۔
@KlasraRauf اور ان تمام بدتہذہب، بسیار گو، گندی اور غلیظ زبان استعمال کرنے والے اکاؤنٹس کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے جنہیں مریم نواز سمیت پوری ن لیگ بریگیڈ فالو کرتی ہے؟ ایک عورت کو تو جیو نے اسے قابلیت کی بنا پر پروڈیوسر لگا دیا۔ کہیں تو سب سکرین شاٹس شئیر کروں؟
@iqrarulhassan@AnsarAAbbasi عمران خان کی شادی پر تو سرعام پھول جھڑتے ہیں تمہارے منہ سے، آصفہ کی پیدائش پر تحقیق کرو یا مریم نواز کی شادی پر، پھر دیکھو کیا کرتے ہیں تمہارے ساتھ یہ لوگ۔ تحریک انصاف کی گالیاں نظر آتی ہیں، جس ارشد شریف کو تنقید کرنے پرجان سے مار دیا وہاں تمہارے پر جلتے ہیں۔
@iqrarulhassan@AnsarAAbbasi کبھی دو اچھے لفظ تحریک انصاف کے لیے نکلے جناب کے منہ سے ؟ "پی��لز پارٹی کے دوست"؟ اور دوسری پارٹی کے کارکنوں کو "یوتھیا"؟؟ یہی کہتے ہو ناں تم تحریک انصاف کے کارکنوں کو؟ پہلے اپنے طرز تخاطب پر تو غور کرو!!
@OmarIffat ,اور اگر کوئی مرد It's over کہہ کر اپنے گفٹس واپس مانگے تو عورت کو چاہئے کہ اسکے فیصلے کا احترام کرے اور خوداری دکھائے۔ اصل مسئلہ بریک اپ نہیں بلکہ دوسروں کے پیسوں پر کنٹرول رکھنے کی عادت ہے۔اگر کوئی عورت پھر بھی گفٹس واپس نہ کرے تو اسے صرف ریڈ فلیگ نہیں بلکہ گولڈ ڈگر کہا جاتا ہے
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک ��سے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی ک��یٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے ا��کولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ��الیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ ک�� بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
انصار عباسی صاحب کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ سب گھر پورے رکھتے ہیں ،
ایک دن اسٹیبلیشمنٹ کے حق میں سٹوری کرتے ہیں ، پھر شہبازشریف کو پاکستان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد مریم نواز کی بھی برینڈنگ کرتے ہیں ،
درود شریف پوسٹ کرتے ہیں لیکن ظالموں اور جابروں کی حمایت بھی کرتے ہیں،
امت مسلمہ کے درد کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے قاتلوں کے لئے بھی تڑپتے اور پھڑکتے ہیں یہاں تک کہ اسرائیل کے خلاف ٹویٹ پر اپنی ہی جماعت کے وزیر دفاع کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں
Geo News jo Pinky ke msgs ki exclusive footage chala rha he us me Pinky ke msgs white strip men hen aur client ke msga green strip men. Matlab Pakra Drug dealer Pinky ko he lekin phone client ka hath lag gia. Aik to ye parhy likhy nahi hen oper se koshish bhi nahi karty.
@shazbkhanzdaGEO Whatsapp ke jo screen shots dikha rahy hen wo pinki ke phone ke nahi hen bulky client ke phone ke hen, jis ka phone ho uske msgs green strip men hoty hen, jab arrest pinki ko kia he to client ke phone ke screen shots kesy mil gae. Pinki ke msgs white strip men hen. Its all drama
منصور علی خان پر تحریک انصاف کے بہت سارے دوست تنقید کرتے ہیں لیکن منصور علی خان کو جب سے میرا ان سے تعلق ہے سچ کہنے میں ہچکچاتے نہیں دیکھا قطع نظر اس سے کہ انکے سچ سے کس کو فائدہ ہو رہا یا نقصان !
زندہ معاشروں میں اختلاف ہونا چاہیے اختلاف بھی ایک خوبصورتی ہے ۔ ایسا اختلاف جس میں کسی کی تضحیک نہ ہو
یہ کلپ بہت زبردست ہے منصور علی خان نے سچ بتایا اور وسیم صاحب نے سچ کی وہ ترتیب بتائی جو پاکستان میں بچہ بچہ جانتا پھر نظام کے لوگ پوچھتے ہیں قوم عمران خان سے پیچھے کیوں نہیں ہٹ رہی
ایک ہزار دن گزر گئے باقی 2653دن رہ گئے۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کو دس سال قیدِ بامشقت کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 3653 دن بنتی ہے، جو 13 اگست 2033 تک یا موجودہ مقتدرہ کی مدتِ اقتدار کے خاتمے تک، جو بھی تاریخ بھی پہلے آئے، پوری ہوگی۔ آج حسان کی قید کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں کو کل مدت سے منہا کیا جائے تو باقی 2653 دن کی قید ابھی باقی ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں اگر میں زندہ رہا اور حسان اپنی قید مکمل کرتا رہا تو اس وقت تک میں عمر کے اس مرحلے تک پہنچ چکا ہوں گا جہاں وقت اپنی معنویت بدل چکا ہوگا اور یہ پورا سفر میرے لئیے میری آزمائش نہیں بلکہ آئین یا قانون یا عدالتی نظام بلکہ م��لکت کی ایک طویل آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔
@KlasraRauf انکو میں کہتا ہوں کہ بیسیوں لنگر خانے ہیں، چھپر ہوٹل والے بھی غریبوں کو مفت کھانا دیتے ہیں، وہاں عزت کےساتھ کھاؤ، لوسٹ ٹرائب اور میکڈونلڈ کے سامنے کھانا مانگنا مجبوری نہیں عیاشی ہے۔اتنی سے بات سمجھنے کےلیے انٹلیکچول ہونا ضروری نہیں، آپکا جو کام ہے وہ کریں
@KlasraRauf ایف ٹین یا سپر مارکیٹ میں ایسی چیزیں کم بکتی ہیں، البتہ بھیک زیادہ ملتی ہے۔دوسرا یہ لوگ فوجی کالونی یا پیرودھائی سے روزانہ آتے جاتے ہیں تو اتنا پیسہ کرائے میں دے کر اتنی دور 5سو کی دیہاڑ لگانے تو نہیں آتے۔تیسری بات جو مہنگے علاقوں میں مانگتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس کھانا کھلا دو
2