شوکت خانم ہسپتال اپیل 🚨
عمران خان بدقسمتی سے اس عید پر بھی جیل میں ہیں جبکہ اس وقت شوکت خانم ہسپتال کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔
جتنا بھی ممکن ہو شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دیں اور اس میسج کو گھر گھر تک پہنچائیں
@IG_Zahra سب بکواس ہے
کیا اتنے سالوں سے ظلم نظر نہی آرہا تھا
برطانیہُ کی سفیر بسنت کے مزے لوٹ رہی ہے اس کو پتہ نہی کہ 26 نومبر کو کیا ھوا
ھر ملکُ کا سفیر روزانہ اپنے ملک کو رپورٹ بھیجتا ہے ۔ یہ بیان دھو کہ ہے ۔
ایک چھوٹا کالم
جادو ، ٹونے ، پیر اور ہمارے لیڈر :
ایک اچھا سرکس کا تماشا ہوا اور دوست ایاز امیر نے بھی ایک کالم لکھ دیا - ذرا غور سے دیکھیں تو عمران خان تو اپنی ہی زوجہ سے مشورے لے رہے تھے - یہ پیری مریدی، اور بکرے کاٹنا تو ہر دور میں ہوتا رہا ، مجھے یاد ہے بینظیر بھٹو اپریل ١٩٩٥ میں امریکا کے دورے پر پہنچیں اور میرا بھی واشنگٹن میں ڈان کے نمائندے کے طور پہلا دن تھا - بے شمار صحافی آئے تھے ، نجم سیٹھی ، اعتزاز احسن ، شیری رحمان اور سب بھی تھے ، میری پہلی خبر اسی دن کی تھی کہ بینظیر اپنے ساتھ ایک پیر کو لے کر آی ہیں، پیر ابرا انکا نام تھا ، اور میں نے انسے انکے کمرے میں جا کر انٹرویو بھی کیا - اعتزاز احسن نے کہا وہ انھیں جانتے ہیں ، نجم نے بھی تصدیق کی اور پیر صاحب نے کہا وہ سویابین کے بیج کے بارے تحقیق کرنے آئے ہیں -
پھر کوہاٹ کے پیر صاحب جو ایک چھڑی سے علاج کرتے تھے وہ بینظیر کے بھی پسندیدہ تھے اور نواز شریف بھی چھڑی کھانے جاتے تھے - زرداری جب صدر تھے اور فوج انکے خلاف تھی تو روز کالا بکرا یا بکرے دروازے پر حلال ہوتے تھے - وہ پستول بستر میں رکھ کر سوتے تھے - ہر لیڈر جو تسبیح لے کر چلتا ہے خود یا دوستوں کے اسرار پر پیروں کی دوایئں اور دعائیں لیتا ہے -
یہ تسکین کے لئے کسی ایجنسی کا ڈرامہ تھا جو فیل ہو گیا - اب اصلی بات کریں ، کونسے اسلام یا قانون میں سزا سے معافی دی گئی ہے، وہ بھی جرم سے پہلے -
ایک پرجوش کامیڈین نے مجھ سے پوچھا : اگر آپکو ایک پستول دیا جائے اور سامنے جرنل عاصم منیر اور زرداری کھڑے ہوں تو کس پر گولی چلائیں گے ?
میرا جواب تھا : "دونوں جیسی استثناء پہلے مجھے دے دیں پھر بتاتا ہوں "
علی محمد خان صاحب توجہ :
ہمارے لیڈر کا یہ ٹوئیٹ صرف ٹوئیٹ نہیں بلکہ معصوم انسانوں مسلمانوں پختونوں کی جان کا محافظ پلان ہے۔ آپ یقیننا درد دل رکھتے ہیں۔ انسانیت کے لئے آپکو انکے اس بیانئیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ براہ مہربانی اس ٹوئیٹ کو ریٹوئیٹ کریں۔
@Ali_MuhammadPTI
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)