⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
گلگت بلتستان میں اس وقت پی ٹی آئی کا راج ہے...!!
کبھی کبھی انسان مدد کرنا چاہتا ہے مگر حقیقی حقدار نہیں ملتا…
آج ہسپتال میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے دل ہلا دیا۔
34 سالہ ایک خاتون پچھلے چھ ماہ سے بیڈ پر ہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے اب تک صرف آنکھیں کھول اور بند کر سکتی ہیں، جسم کا کوئی حصہ حرکت نہیں کرتا حتیٰ کہ گردن کو بھی حرکت نہیں دے سکتی اور منہ سے بول کر کوئی بات بھی نہیں کر سکتی۔
بیڈ سورز بھی بن چکے ہیں۔ تین چھوٹے بیٹے اور صرف چھ ماہ کی ایک معصوم بیٹی پاس کھڑے تھے۔ بیٹے سے یہ معلومات لی ہیں جس سے ایک بڑا بھائی ہے اور ایک چھوٹا…
خاوند کی بینائی شوگر کے باعث ختم ہو چکی ہے، وہ خود سہارا کے محتاج ہیں۔
چھوٹی بچی کو کبھی بھائی اور نابینا باپ سمبھالتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں خاتون کی ضعیف والدہ ہی تیمارداری کر رہی ہیں۔
یہ خاندان اس وقت انتہائی کسمپرسی میں ہے اور علاج کے اخراجات بھی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
مقام: سول ہسپتال گوجرانوالہ — HDU 2، وارڈ نمبر 5
اگر کوئی صاحبِ حیثیت اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہے تو خود آ کر ان کی مدد کر سکتا ہے۔
اللہ پاک سب کو کسی ایسی پریشانی سے محفوظ رکھے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دکھی انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲
Retweet for help him
آرمی چیف نے ہی میری بیوی کو ٹارگٹ کیا جس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا-
مجھے اور میری بیوی کو کچھ ہوتا ہے تو جنرل عاصم منیر ذمہ دار ہوں گے۔
جو قوم اپنی ازادی کے لیے مرنے کے لیے تیار نہ ہو اس کو غلامی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
میں آج سیاست سے پیچھے ہو جاؤں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
نون لیگ کا مزید جنازہ نکلے گا جب قوم پر مہنگائی کی جائے گی۔
رولنگ اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے۔
اس وقت امید صرف عدلیہ سے ہی ہے، چھ ججز جو کھڑے ہوئے انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
تمام ججز کو معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔
ججز ملک کے مستقبل کو بچائیں کیونکہ سرمایہ کاری صرف قانون کی بالادستی سے آ سکتی ہے۔
جس ملک میں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا۔
اس وقت قوم ججز کی طرف دیکھ رہی ہے۔
ججز نے قانون کی بالادستی کو قائم کرنا ہے تو ہی ملک میں سرمایہ کاری آنی ہے۔
جنرل عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایک پلان انسان بناتا ہے اور ایک اللہ کامیاب اللہ کا پلان ہوتا ہے”
ایمرجنسی الرٹ 🚨
بہنیں بار بار قوم کو وارننگ دے رہی ہے کہ یہ لوگ آپ کے لیڈر عمران خان کو قتل کر دینگے، پہلے جب کوئی ایسی خبر آتی تھی تو سوشل میڈیا زمین آسمان ایک کر دیتا تھا
لیکن بدقسمتی سے اس وقت مکمل خاموشی ہیں
اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔
مریم والے جیٹ کا فلائٹ ریکارڈر کچھ عجیب سا ہے ۔02 مارچ 2026 کو اس کی فلائٹ لاہور سے لاہور ریکارڈ ہے جو صبح 8:57 پر اڑی اور دن 12:11 پر واپس لینڈ کیا فلائٹ کا یہ دورانیہ 3 گھنٹے 14 منٹ ہے۔
بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران یہ صرف لاہور کے اردگرد اڑتا رہا اور واپس لینڈ کر گیا
مگر اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس دوران اس نے کسی ملٹری ایئر بیس پر لینڈ کیا جو ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتا ۔
پھر 8 مارچ کو یہ لاہور سے نان سٹاپ ویانا کیلئے اڑا جس فلائٹ کا دورانیہ قریبا 7 گھنٹے تھا ۔ تب سے یہ ویانا ائیرپورٹ پر چارٹرڈ ہینگر میں کھڑا ہے جس کا پارکنگ بل ہر چار گھنٹے بعد چارج ہوتا ہے اسکا مطلب ہے اب تک صرف پارکنگ چارج 30000 یورو یعنی ایک کروڑ روپے لگ چکا ہے
سوال یہ ہے کہ اس جہاز پر گیا کون ہے ؟
ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، کریم نواز، دبئی میں ڈیلیوری کا کام کرتا تھا۔
وہاں اس کی ملاقات ایک غریب بنگلہ دیشی لڑکی سے ہوئی جو کنسٹرکشن میں محنت مزدوری کر کے حلال رزق کماتی تھی۔ سادہ دل اور بھروسہ کرنے والی اس لڑکی کی ماہانہ آمدن پاکستانی حساب سے تقریباً پندرہ لاکھ روپے بنتی تھی، جو وہ اعتماد میں آ کر کریم نواز کے اکاؤنٹ میں بھیجتی رہی۔
کریم نواز نے اسے شادی کے وعدے دیے اور انہی وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اس لڑکی نے نہ صرف اپنی ساری کمائی اس کے حوالے کی بلکہ اپنے پیسوں سے اس کے بھائی کو بھی دبئی بلوا دیا۔
مگر بدقسمتی سے کریم نواز سب کچھ سمیٹ کر پاکستان واپس آ گیا اور اس لڑکی کو تنہا، بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
آج وہ مجبور لڑکی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی حکومت اور انصاف پسند لوگوں سے مدد کی اپیل کر رہی ہے۔
جام پور کے معزز رہائشیوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی اس شخص کو جانتا ہو تو سچ سامنے لانے اور اس مظلوم کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ معاملہ صرف ایک لڑکی کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔
*صرف عمران خان ہی کیوں۔۔..*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید
(اشک بہا دینے والی تحریر)
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔
یہ ایک ہندو بچی ہے جس نے محلے کے بچوں کے ساتھ محرم کی پانی کی سبیل لگائی اور چار سال قبل اس کو اغواء کرلیا گیا۔
اس کے والدین ہر جگہ دروازے کھٹکاتے رہے کہ ہماری بچی کو بازیاب کروایا جائے ۔
جب سے سوشل میڈیا پہ دوبارہ اس بچی کے لیئے آواز اٹھنے لگی ہے کہ ہندو بچی ہے تو کیا ہوا یہ ایک ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو تھی ۔
اس کو تلاش کیا جائے درمیان میں خبر آئی کہ سندھ کے بڑے جاگیر دار جن کے مریدین بھی ہیں ان کے ڈیرے پہ ایک بچی کو دیکھا گیا جو خود کو ہندو کہتی تھی اور اس ہی بچی کی شکل دیتی تھی ۔
لیکن کسی نے اس پہ ایکشن نہیں لیا لیکن ایک ہفتہ قبل آئی جی سندھ نے ایک بیان دیا کہ پریا کماری بچی راحب شر جو کہ ایک کچے کا ڈاکو ہے اس کے قبضے میں ہے
لیکن کل رات راحب شر نے ویڈیو پیغام دیا کہ میں اتنا بے غیرت نہیں ہوں کہ ایک ہندو بچی جو کہ ابھی اتنی چھوٹی سی ہے اس کو اغواء کروں اور اس کے والدین سے پیسوں کا مطالبہ کروں ۔
آپ اندازہ یہاں سے لگالیں کہ ڈاکو خود کہہ رہا ہے کہ شفاف انکوائری کرواؤ بچی خود ان کے ہی بڑوں کے پاس سے نکلے گی ۔
باقی آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔۔
بریکنگ نیوز 🚨: عمران خان کا دیا ہوا شعور سر چڑھ کر بولنے لگا، یہ نوجوان بچہ چھا گیا۔ عمران خان پر ایسی کمال ڈاکومنٹری جاری کر دی ہے کہ بڑے بڑے دانشوروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اسٹبلیشمنٹ کی چیخیں نکال دیں۔ جین زی کے بعد نیازی جین alpha بھی تیار کر چکا، تُمہاری اگلے سات نسلیں یاد رکھیں گی تُم نے آخر کس بندے سے ٹکر لی تھی، تمہارے بڑے بھی قبروں میں روئیں گے۔ اسے مکمل سنیں آخر تک دنگ رہ جائیں گے آپ کیا کمال بولا ہے یہ بچہ، چھا گیا 🔥
وجاہت خان کا عاصم منیر کو پیغام🛑
اب میں آرہا ہوں تمھارے پیچھے, اب تم نے ہر حد پار کردی!!
وکیلوں, صحافیوں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگو, عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر آواز اٹھائیں, وکیلوں کا کام صرف مارچ کرنا نہیں!!
اسکو پھیلائیں 🛑 یہ اصل کام ہے!!!
بریکنگ نیوز 🚨: یہ تاریخی شاندار کلپ۔ ترکیہ کے ایک شاعر نے عمران خان کے لیے انگلش میں ترانہ جاری کردیا۔ اس وقت پوری دُنیا عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔ ہر طرف سے خان پر ہونے والے اسٹبلیشمنٹ کے مظالم کے خلاف پوری دُنیا آواز بلند کر رہی ہے 🔥
آج اتنا رونا آ رہا ہے جب سے شوکت خانم سے کال آئی ہے کہ کل 19 فروری کو آپکا سی ٹی اسکین ہے ٹائم سے پہنچ جائیے گا۔۔۔ کیوں نہیں آؤں گا میں نے آج تک ایک بھی اپوائنٹمنٹ مس نہیں کی۔۔۔
ساتھ ہی فون پہ صاحب بولے چھیالیس ہزار ٹیسٹ کی پیمنٹ ہے جو اپنے کرنی ہوگی میں پریشان نہیں ہوا کیونکہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا ۔ جب آپ 8 مہینے بعد صرف ٹیسٹ کی غرض سے جا رہے ہوں تو بعض اوقات سٹیٹس چینج کرانا ہوتا ہے میں نے بولا سر میں فری والا ہوں تو ادھر سے بھی پیار سے بولا گیا اچھا میں ابھی آپکا سٹیٹس تبدیل کروا دیتا ہوں آپ پریشان نا ہوں اور پھر 5 منٹ بعد دوبارہ کال آئ کی آپ کے ڈاکٹر سے بات کر لی ہے آپ سکون سے آ جائیں ۔
اتنا خیال تو گھر والے بھی نہیں رکھتے جب آپ مسلسل 8 سال بغیر کچھ دیے مفت میں گھر والوں پہ بوجھ بن جائیں۔😭😭
میں ان کا کیا لگتا ہوں یہ میرا اتنا خیال کیوں رکھتے ہیں 😭😭
پھر مجھے عمران خان صاحب کے وہ الفاظ یاد آ گئے جو انھوں نے شوکت خانم ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر بولے تھے۔
" اگر آپکے پاس کوئی ایسا مریض آئے جس کے بال صحیح نا بنے ہوں اور کپڑے صاف نا ہوں آپ نے یہ نہیں دیکھنا وہ کیسا لگ رہا ہے آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ مریض آیا ہے"
میرا دل پھٹ رہا ہے میں ایسے شخص کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا
کوئی تو میرے خان کو بچا لے یار اسکے بعد سب ختم ہے کچھ بھی نہیں بچے گا ۔۔۔ یا اللّٰہ مدد بھیج
محمد نعمان کی وال سے
#EYEstandWithIMRAN challenge 🇵🇰 🏏
1. Wear an eyepatch or cover one eye with your hand 🖐️
2. Post a selfie with the hashtag and tag cricket players.
#FreeImranKhan = free Pakistan ✊ 👁️ #T20WorldCup2026