مشتری ہوشیارباش!!!
برطانیہ سے ایک ایسا یوٹیوب چینل لانچ کیا گیا ہے جو پاکستان میں توہین کے موضوع پر قتل و غارت اور بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔ اس چینل پر ایک مشکوک کردار روزانہ جھوٹ بولتا ہے کہ پاکستان میں خدانخواستہ شدید ترین توہین اسلام اور توہین مقدسات اسلام ہورہی ہے۔ اس چینل اور اس شخص کا مقصد پاکستان میں آگ ��گانا ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کو غیر محفوظ بنانا ہے۔ وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور ملک کے سیکورٹی ادارے فوری طور پر ایکشن لیں اور اس غیرملکی چینل کے خلاف اور اس پر بیٹھ کر جھوٹ پھیلانے والے ایک اور غیر ملکی کردار کو روکیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
#DGISPR
#NCCIA
#FIA
@MohsinnaqviC42
ہدایت نامہ برائے احمدی حضرات
رواں برس اہل ایمان نے مکمل دیانتداری اور ایمانی جذبے کے تحت آپ لوگوں کو نماز اور قربانی سے روک دیا ہے اور ان کو مقامی انتظامیہ نے مکمل تعاون فراہم کیا ہے۔آپ لوگوں کے لیے یہ ایک پیشگی انتباہ ہے کہ اگلے سال آپ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
۱۔ نماز یا عبادت اپنے گھر میں اشارے کے ساتھ ادا کریں تاکہ کسی دوسرے کو علم نہ ہو۔
۲- قربانی کا صرف تصور کریں کہ آپ نے نہایت خوبصورت جانور ذبح کیا ہے۔
۳- عبادت گاہ کی تصویر اپنے دل میں محفوظ رکھیں کہ اشارے کی مدد سے عبادت کرسکیں۔
۴- شادی کارڈ پر صرف شادی کی تاریخ اور مقام لکھیں باقی عبارت کا تصور کریں۔
۵- خیر خیریت پوچھتے وقت منہ سے کوئی کلمہ ادا نہ کریں اشارے سے حال پوچھیں۔
اُمید ہے کہ درج بالا حفاظتی اقدامات اختیار کرنے سے آپ مزید کئی برس جیل اور قبر سے باہر سانس لے سکیں گے۔
As Eid-ul-Adha approaches, Ahmadis in Pakistan are being harassed, detained, and pressured by police to sign illegal affidavits stating that they would not perform qurbani even within their own homes.
@homedptpunjab@OfficialDPRPP@MaryamNSharif@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
A renowned medical doctor in Sargodha has been gunned down. The reason: he was Ahmadi. This is an all out war by the Mullahs against Ahmadis who remain peaceful in face of such violence and bigotry.
@Matiullahjan919 جسٹس بابر ستار کے خلاف بولنے والے: فیصل واوڈا، عون چوہدری، طلال چوہدری، مصطفی کمال، عطا تارڑ، کامران ٹیسوری۔۔۔
ویسے تو دہری شہریت کا قانون کیوں کسی بھی عہدے کے لئے نااہل کرتا ہے؟ بھائی دہری شہریت کا مطلب ہے وہ پاکستانی شہری ہے اور اس کے شہری ہونے کے تمام اختیارات موجود ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا اردو میں خلاصہ واضح کرتا ہے کہ یہ معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ کچھ مذھبی راہنما اِس کو پیش کر رہے ہیں:
تحریر: ذوالقرنین ایڈوکیٹ - ٹیم ممبر قانون دان
قادیانی شہری کے لئیے سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت کیس کے حقائق:
ملزم کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ C-295, 298 اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسی�� " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ زیل ہیں :
الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔
مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:
ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ��یسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی ک�� بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔
تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے، اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم ک��رٹ کے سامنے چونکہ ��و سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:
الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا چھ مہینے ہے اور ملزم نے پہلے سے ہی تقریباً تیرہ ماہ سے جیل میں ہے تو اس لئے عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے کے آخر میں نہایت ہی اہم بات لکھی ہے کہ اس طرح کے کیسز کا بنیادی تعلق کسی عام آدمی یا اس کی پراپرٹی کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ ہے۔
زمین اور اہل زمین سے بلا تفریق محبت کرنے والے شاعر حارث خلیق کی برسو�� پرانی نظم ’سلامت ماشکی‘ کا ایک اقتباس۔ شاعر کو ناانصافی کی مذمت کے لئے سانحہ رونما ہونے کا انتظار نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھ وقت کے نادیدہ پردے پر لکھی سازش کی نحوست پڑھ سکتی ہے۔
#Cambridge Exams.
Since last night my WhatsApp has been flooded with messages and calls from students sharing grievances about the grading of their #Alevels exams apparently those which were cancelled due to the unrest caused on 9th May. Some of the messages were really distressing and worrying and I hope @CambridgeInt@pkBritish take notice.
It is important for students to raise their grievances but it is more important to raise them effectively so one can determine if they are genuine and help/act accordingly.
Accordingly, I would encourage students that instead of sending WhatsApp messages or posting vague tweets about "wanting justice" it would be better if you explain your issue in detail pointwise by answering following questions by tweeting below so everyone could be aware:
1. Which exams were cancelled?
2. What was the policy adopted for those exams? Were they rescheduled or were grades to be awarded to students based on some criteria other than exams?
3. If there was an alternate criteria then what was it?
4. How was the criteria not properly applied in your case?
5. What was your expected grade based on the criteria in your opinion?