پاکستان کے صفِ اوّل کے ماہرِمعیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا پی ڈی ایم کی تباہ کن معاشی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے!
ایک جانب ہم 38 فیصد کی ریکارڈ مہنگائی (جو ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے) کی زد میں ہیں جبکہ دوسری جانب ہمارے مجموعی ریونیوز (ہمارے ذمےواجب الادا قرضوں پر) سود کی ادائیگی کیلئے بھی ناکافی ہیں۔
ذیل میں فراہم کردہ چند اعداد و شمار پی ڈی ایم کی ہاتھوں میں معیشت کی حالتِ زار بیان کرتے ہیں:
• شرحِ نمو: 0.3 فیصد (ایک سال قبل یہی شرحِ نمو 6.1 فیصدتھی)
• مہنگائی(افراطِ زر): 38 فیصد (پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین)
• زرِمبادلہ کے ذخائر: 4 ارب ڈالرز
• بیروزگاری: 11 فیصد
• ایل ایس ایم (LSM) میں کمی: 25 فیصد
• خطِ غربت سےنیچےلوگوں کی تعداد: 100 ملین
Here is Dr. Hafeez Pasha, Pakistan's leading economist, assessing PDM’s disastrous economic performance.
On the one hand, we have record-high inflation 38% (highest in Asia), and on the other our total revenues don’t even cover our interest payments.
Here are some stats highlighting PDM’s handling of the economy:
• Growth rate: 0.3% (Down from 6.1% one year ago)
• Inflation: 38% (Highest in Pak's history).
• Forex Reserves: $ 4bn
• Unemployment: 11%
• Downfall in LSM: 25%
• People below poverty: 100 million
آج ملک میں جاری جبروفسطائیت تمام فوجی سرکاروں (مارشل لاءز) کے ادوار میں کی جانے والی ظلم و زیادتی کی ہر حد کو پامال کرچکی ہے۔تحریک انصاف کےخلاف تاریخ کے بدترین کریک ڈاؤن کے ساتھ ہر اس آواز کو دبائے جانے کا سلسلۂ جبر بھی جاری ہےجو ہمارےشہریوں کے بنیادی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں کی تنقید و مذمت میں کسی بھی سمت سے بلند ہوتی ہے۔
جبران ناصر کا اغواء اس حقیقت پر مہرِتصدیق ہے کہ ہم 1933 کے بعد کے جرمنی میں نازیوں کے دور کیجانب بڑھ رہے ہیں۔
Today the oppression and repression of all martial laws has been surpassed. There’s a complete crackdown on PTI plus anyone who dares to criticise the blatant violations of all fundamental rights of our citizen.
Jibran Nasir's abduction only reinforces the fact that we are headed to the Nazi Germany era post 1933.
میں نے چیئرمین نیب کیخلاف 15 ارب کا ہتکِ عزّت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں چیئرمین نیب کو نوٹس بھجوا چکا ہوں۔
میری گرفتاری کے وارنٹس چھٹی کے روز جاری کئے گئے اور 8 روز تک انہیں چھپا کر رکھا گیا۔ مجھے القادر ٹرسٹ کیس کی انکوائری کے انوسٹیگیشن میں تبدیل کئے جانے کے حوالے سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 24 میں درج شرائط کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جس انداز میں میرے وارنٹس کی تعمیل کروائی گئی وہ غیرقانونی اور غیرآئینی تھا۔ وارنٹس کی تعمیل کیلئے پاکستان رینجرز کو استعمال کیا گیا جنہوں نے وحشیانہ انداز میں مجھ پر طاقت آزمائی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے میری گرفتاری کا اوّلین مقصد میری نیک نامی (اچھی شہرت) کو داغدار کرنا تھا تاکہ دنیا پر (دھوکے سے) ظاہر کیا جاسکے کہ مجھےکرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔
میں سالانہ 10 ارب کے عطیات جمع کرتا ہوں۔ میری ساکھ پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ اس کے باوجود ایک جعلی انکوائری میں مجھے مورودِ الزام ٹھہرانے اور (بعد ازاں نِری بدنیتی سے) غیرقانونی طور پر گرفتار کئے جانے سے میری ساکھ کو بری طرح متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
چنانچہ میرا حق ہے کہ میں (چیئرمین نیب کیخلاف) ہتکِ عزَّت کی کارروائی کا آغاز کروں۔
I have decided to file a Rs 15 Billion Defamation Suit, against Chairman, NAB. I have served Legal Notice upon him.
My Arrest Warrant was issued on a public holiday and was kept in secrecy for eight days. I was not informed about conversion of Al-Qadir Trust Case Inquiry into Investigation. Conditions stipulated in Sec 24 of NAB Ordinance were disregarded. Supreme Court held that manner and execution of my Arrest Warrant was unlawful and unconstitutional. To execute Arrest Warrant, Pakistan Rangers was used which subjected me to brute force.
Ulterior motive was to defame me by arresting me from premises of Islamabad High Court. And show the world that I was arrested on corruption charges.
I, collect Rs 10 billion in charity annually. My credibility has never been questioned. Nevertheless, act of implicating me in a bogus inquiry followed by my illegal and malafide arrest, have adversely affected my reputation. It has subjected me to ridicule. Therefore, I am well within my right to initiate Defamation proceedings.
موجودہ حالات میں جماعتِ اسلامی کے حافظ نعیم الرّحمٰن میئر کراچی کیلئے بہترین امیدوار ہیں۔ میری کراچی میں تحریک انصاف کے تمام منتخب کونسلرز سے اپیل ہے کہ میئر کے انتخاب میں حافظ نعیم الرّحمٰن کو ووٹ دیں۔
نہایت لغو الزامات کی بنیاد پر چودھری پرویزالہیٰ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ انہیں تحویل میں لے کر جس انداز میں ان سے بدتمیزی کی گئی وہ بھی نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
In the given circumstances, Hafiz Naeem ur Rehman of JI is the best candidate for Mayor Karachi.
I call upon all elected PTI councillors from Karachi to vote for him in the upcoming Mayor Election.
پرویز الہی کو راستے میں روک کر اہلِ خانہ کی موجودگی میں حراساں اور پھر گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے، ملک میں نہ آئینی حقوق ہیں اور نہ قانونی تحفظ۔ پرویز الہی کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اُمید ہے عدالتیں انہیں جلد انصاف/رہائی دیں گی
میری جانب سے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کے دو سینئر اراکین پرویز خٹک اور اسد قیصر کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کیجانب سے ایک ملاقات کیلئے بُلایا گیا۔ اب انہیں ایک سیف ہاؤس میں غیرقانونی طور پر قید کرلیا گیا ہے اور رہائی کے بدلے تحریک انصاف چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جنگل کے قانون میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور کمزور کیلئے کوئی تحفظ نہیں رہتا۔
I strongly condemn the arrest of Ch Pervez Elahi on completely frivolous charges. The manner in which he was arrested & manhandled is also shameful & reprehensible.
Two of our senior members from the negotiations committee I had formed, Pervez Khattak and Asad Qaiser, were called for a meeting by the intelligence agencies. They have now been illegally detained in a safe house and are being forced to quit PTI for their release.
In the law of jungle, might is right and the weak have no protection.