پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود مجھے آئیرپورٹ پر ایف ائی اے امیگرشن والوں نے روک کر جانے نہیں دیا ۔مجھے یونیورسٹی اف ٹوبنگن جرمنی کے دعوت پر مدعوں کیا گیا تھا۔ انکے ساتھ خیبر پختونخوا کے جامعات اور طلبا و طالبات کے لیے کئی چیزوں پر پش رفت ہوئی تھی- جسے حتمی شکل دینا تھی- افسوس اس بات پر ہے کہ ایک ھائی کورٹ کے حکم کو نہیں مانا جاتا اور دوسرا خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے ساتھ ذیادتی کی جا رہی ہے-
اس وقت میں سکردو، گلگت بلتستان الیکشن کمپین کے لیے پہنچ گیا ہوں- یہ انتخاب محض اقتدار کے حصول کی جدوجہد نہیں بلکہ GB میں جمہوریت کے تعین کا فیصلہ ہے ۔ ہم خان صاحب کا پیغام ہر شہر، قصبے اور گاؤں تک پہنچا رہے ہیں ، زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے شہریوں سے رابطہ کررہے ہیں اور معاشی ترقی، اچھی حکمرانی اور سماجی انصاف کے لیے اپنے پروگرام پیش کر رہے ہیں- میں GB میں اپنی جماعت کے کارکنوں، حامیوں اور بہتر مستقبل پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جمہوری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔
باوجود اسکے کہ ہم سے ہمارا انتخابی نشان لے لیا گیا، لیڈرز کو روکا گیاصوبہ بدر کیے گئے، یکساں تو دور ، محض آزادانہ کمپین کی اجازت نہیں، باقی سارے بغیر روک ٹوک کے لگے ہیں- گویا ہم محب وطن نہیں گویا ہم پاکستانی نہیں- لیکن اسکا فیصلہ ہم عوام پر چھوڑتے ہیں-
آئیے ہم اس انتخابی ��ہم کو وقار، احترام اور عوامی مفاد کے لیے غیر متزلزل عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ ہمیں عوام پر اعتماد ہے اور اپنی سوچ، کارکردگی اور عوامی خدمت کے جذبے کی بنیاد پر ان سے مینڈیٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں - مجھے امید ہے GB کے لوگ 7 June کو خان صاحب کے نام پر ہمارے اُمید واروں کو کامیاب بنائیںگے- انشاء اللہ
گلگت بلتستان الیکشن میں ووٹ دینے سے لے کر ووٹ کا پہرہ دینے کا مکمل طریقہ اس ویڈیو میں ہے۔
لازمی طور پر اسکو پھیلائیں،خاص طور پر ٹک ٹاک اور فیس بک پر۔
Vc:@Kaptaan_squad
وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم سے پارٹی کا نشان چھین کر، ہمیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ گرفتار کیا جاتا ہے۔ چار سال گزرنے کے بعد بھی اگر یہ نظام وہاں ایک الیکشن کروانے کی ہمت نہیں کر پا رہا، تو یہ اس کی انتظامی ناکامی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے عوامی سیلاب سے کانپتی ہوئی ٹانگوں کا ثبوت ہے۔ ہمیں گلگت میں روک کر گرفتار کرکے صوبہ بدر کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو VIP پروٹوکول اور مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔
ایک ریاست، دو دستور — نامنظور! نامنظور!
رجیم چینج کے کرداروں نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ آج ایک ہی ریاست میں قانون اور انصاف کے الگ الگ معیار نظر آ رہے ہیں۔
اوپر ویڈیو میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو سکردو پہنچنے پر شاہانہ پروٹوکول دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر انتخابی مہم کے سلسلے میں اسلام آباد سے اسکردو کی فلائٹ تھی۔ پنجاب پولیس نے اسلام آباد ایئرپورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا اور ایئرپورٹ کے داخلی راستے بند کر دیے، جس کے باعث عام عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پنجاب پولیس نے مجھے پرواز کے اڑان بھرنے تک زیر�� حراست رکھا۔