سورۃ العادیات: وفاداری کی فزکس
کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟ سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا لیکن قدم رک نہیں رہے۔ یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں، یہ وفاداری کی فزکس ہے۔
قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۃ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں یہ براہِ راست ایک "ہائی اسپیڈ سین" ہے۔
جنگ کا شور... اور اخلاق کا کورٹ روم
اللہ فرماتا ہے:
وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
(قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔)
لفظ "ضَبْحًا" صرف سانس لینے کی آواز نہیں، یہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔ یہ "Full Capacity Output" ہے۔ گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے، مگر وہ رک نہیں رہا۔
کیوں؟
کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک اسے ایڑی لگا رہا ہے۔ یہ Loyalty Protocol ہے: حکم ملے تو جان بھی حاضر۔
توانائی کی ٹکر... اور چنگاریوں کا علم
پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
(پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔)
یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں، یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔ رفتار، رگڑ، ٹکراؤ اور زمین سے آگ نکلتی ہے۔ گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا، وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی، یا تو پوری شدت سے، یا پھر نہیں۔
سرپرائز اٹیک... اور اطاعت کی انتہا
فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا
(پھر صبح کے دھندلکے میں چھاپہ مارنے والے۔)
رات بھر سفر کے بعد، جب جسم آرام مانگ رہا ہو، اسی وقت حملہ۔ یہ Obedience Beyond Comfort Zone ہے۔ گھوڑا یہ نہیں کہتا:
"میں تھک گیا ہوں"
"کل کر لیں گے"
"آج موسم ٹھیک نہیں"
وہ بس دوڑتا ہے۔
گرد و غبار... اور نفسیاتی دباؤ
فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا
(پھر اس (موقع) پر گرد اڑاتے ہیں۔)
گرد کا بادل... دشمن کے حواس باختہ۔ اسے ماڈرن وارفیئر میں Disorientation Strategy کہتے ہیں۔ گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے، وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔ وفاداری جب حرکت میں آتی ہے تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔
دل میں گھس جانا
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا
(پھر اسی حالت میں لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔)
یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ چاروں طرف دشمن، واپسی کا راستہ بند، پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔ کیوں؟ کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے اور موت پیچھے رہ گئی۔
اب فیصلہ سنایا جاتا ہے
اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے... اور انسان پر آ جاتا ہے۔ یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں، یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔
إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ
(بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔)
لفظ "کنود" عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔ "کنود" وہ ہے جو:
ایک تکلیف کو یاد رکھے
ہزار نعمتیں بھول جائے
یہ Cognitive Bias ہے، یہ Negativity Bias ہے۔ انسان کہتا ہے "میرے پاس کیا نہیں ہے"، وہ یہ نہیں گنتا کہ "میرے پاس کیا کچھ ہے"۔
اخلاقی تضاد:
گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔ انسان خود گواہ ہے:
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
(اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔)
ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔ لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔ Self Awareness موجود ہے مگر Self Reform نہیں۔
اصل بیماری: مال کی محبت
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
(اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔)
یہاں "خیر" سے مراد مال ہے۔ انسان نے دولت کو ہی "Ultimate Good" بنا لیا۔ وہ بھی ہانپ رہا ہے، لیکن اللہ کے لیے نہیں، مال کے لیے۔ گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے، انسان مارکیٹ کے لیے۔ گھوڑا وفادار ہے، انسان سرمایہ پرست۔
سورۃ العادیات ہمیں ایک سا��ہ مگر لرزہ دینے والا سوال دیتی ہے:
اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے، تو کیا انسان اپنے رب کے لیے اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتا جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟
ہم سب دوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟
اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے، تو ہم "کنود" (ناشکرے) ہیں۔
اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے، تو ہم وفادار ہیں۔
@SHABAZGIL اب کیا وہ اپن�� منہ سے کہے گا کہ مجھے نکالو۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار اور اپنے لیڈر کو جائز قانونی حق دلوانے میی ناکام۔ لکھ دی لعنت
@AimalWali Aimal Wali Sahab,
12 saal yaad aa gaye?
Apni 2008–2013 ANP govt bhi yaad kar lein.
KPK blast zone tha, hukumat khamosh.
Aur haqeeqat:
KPK se seat nahi jeet sakay,
Balochistan se senator banay.
Imran Khan ko gaali dene se
history change nahi hoti.