مولانا طارق جمیل کا پورا حق ہے کہ وہ کسی بھی عورت کو اسکی رضامندی سے ہاتھ ملائیں اور گلے لگائیں۔ چاہیں تو پہلو میں تکیہ بھی لگالیں۔
بس ایک مہربانی کریں
جب دوسروں کی باری آئے تو یہ نہ کہیں کہ یہ دنیا مچھر کا پر ہے، مکڑی کا گھر ہے اور کھوتے کا سر ہے۔
بس انجوائے کریں اور انجوائے کرنے دیں۔
یہ والی چالاکیاں بھی ختم کریں کہ ہم تو دین کی نسبت سے ملتے ہیں۔ یعنی زندگی کی نسبت سے دوسرا ہنسے بھی نہیں، اور خود دین کی نسبت سے چوڑیوں کی دکان میں گھس جاو۔ یہ اچھا ہے۔
باقی رہا وہ بچہ، جس سے مولانا طارق جمیل نے ہاتھ نہیں ملایا، اس کو بہت سارا پیار۔ اس تسلی کے ساتھ کہ شکر کرو کہ حضرت نے ہاتھ نہیں ملایا۔
حضرت نے جس سے ہاتتھ ملایا وہ پھیکا پڑ گیا۔ جس کام کیلیے وہ پیدا کیا گیا وہ اس کام سے ہی گیا۔
آرٹسٹوں فن کاروں اور کھلاڑیوں کو انہوں نے خامخائی کے گلٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ رضوان بیچارے کو دیکھو۔ کہتا ہے، کرکٹ اس لیے کھیلتا ہوں کہ فٹ رہوں، اور دجال کا مقابلہ کر سکوں۔ کرلو بات۔ خیر!!
حضرت کے ہاتھ ملانے سے آپکو دو ہی فائدے ہوتے ہیں۔ مذہب کے نام پر مہنگے ناڑے بیچ لیتے ہیں اور تںلیغی اجتماع میں خواص والے کیمپ میں جگہ مل جاتی ہے۔ دیٹس اٹ۔!!
فرنود
دولتمند افغانی آج بھی بزنس کر رہے ہیں، کروڑوں اربوں کا کاروبار حکومتی سر پرستی میں ہو رہا ہے، صرف غریب غربا مہاجرین کو نکالا گیا۔ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔