��جھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں
اور
مجھے پاکستان کی فکر ہے
اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے فتنہ عمرانیہ گولڈ سمتھیہ سے بچا کر رکھا کیونکہ اس فتنہ سے مسجد نبوی صل اللہ علیہ وسلم کے احاطہ میں اپنے مخالفین کو غلیظ گالیاں دیں جہاں اپنی آوازیں پست رکھنے کا حکم ہے
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
Your Tariq Jamil 'sahab' is not a scholar. He’s a storyteller, a big time liar, and performative maulana who does not preach the correct deen.
Now go ahead sb, abuse, take ss, and post jabs. Idgaf.
ایک نیک شخص سے پوچھا گیا:
"ہم آپ کو اتنے سکون اور اطمینان میں کیوں دیکھتے ہیں؟"
انہوں نے فرمایا:
میں نے قرآن میں پڑھا:
﴿يُدَبِّرُ الْأَمْرَ﴾
"وہی تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔"
📖 سورۃ یونس: 3
تو میں نے اپنے تمام معاملات معاملات کے مالک، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سپرد کر دیے۔
پھر میں نے پڑھا:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
"پس بے شک م��کل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔"
📖 سورۃ الشرح: 5-6
تو مجھے یقین ہو گیا کہ آسانی ضرور آنے والی ہے۔
پھر میں نے پڑھا:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
📖 سورۃ الرعد: 28
تو میرا دل مطمئن ہو گیا۔
پھر میں نے پڑھا:
﴿فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
"پھر تمہارا ربِّ العالمین کے بارے میں کیا گمان ہے؟"
📖 سورۃ الصافات: 87
تو میں نے اللہ کے بارے میں اپنا ہر گمان اچھا کر لیا، کیونکہ میرا رب خیر کا مالک ہے، اور وہ اپنے بندے کے لیے جو فیصلہ فرماتا ہے، اس میں خیر ہی ہوتی ہے��
پس اے اللہ! ہمیں ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے بارے میں حسنِ ظن رکھنے والا بنا، ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے مطمئن فرما، اور ہمارے تمام معاملات کا انجام خوشی، آسانی اور کشادگی پر فرما۔ آمین۔ 🤲💐
السلام علیکم اے میرے دوست!
میرا دل یہ پڑھ کر پھٹنے لگتا ہے کہ احادیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ ��ے دوسرے صحابیؓ سے پوچھا:
”کہاں سے آ رہے ہو؟“
انہوں نے جواب دیا:
”رسول اللہ ﷺ کے پاس سے۔“
اور ایک صحابیؓ کی راستے میں دوسرے صحابیؓ سے ملاقات ہوئی تو پوچھا:
”کہاں کا ارادہ ہے؟“
انہوں نے کہا:
”رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا رہا ہوں۔“
بس، اتنی سادگی سے، اتنی خوبصورتی کے ساتھ:
رسول اللہ ﷺ کے پاس سے، اور رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف!
کاش! میں بھی کبھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو سکتا،
اور عرض کرتا:
”یا رسول اللہ! میرا دل دکھتا ہے!“
پھر آپ ﷺ میرے سینے پر دستِ شفقت پھیرتے، مجھے تسلی دیتے،
اور شاید فرماتے:
”غم نہ کرو، یہ چند دن ہیں، گزر جائیں گے!“
یا شاید اپنا دستِ مبارک میرے دل پر رکھتے اور فرماتے:
”اے دل! ثابت قدم رہ!“
اور میرا دل واقعی ثابت ہو جاتا، مطمئن ہو جاتا؛
کیونکہ جب آپ ﷺ نے اُحد کو پکارا تھا تو وہ بھی اپنے مقام پر ثابت ہو گیا تھا۔
کاش! جب میں آپ ﷺ کی یاد میں تڑپتا،
اور ��یرے سینے سے مشتاق کی سسکی نکلتی،
تو آپ ﷺ بھی مجھ پر اسی طرح شفقت فرماتے جیسے اس کھجور کے تنے پر فرمائی تھی،
جس سے آپ ﷺ جدا ہوئے تو وہ آپ ﷺ کی جدائی میں رو پڑا تھا۔
پھر آپ ﷺ مجھے بھی اپنی آغوش میں لے لیتے،
جیسے اس تنے کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔
اس کے بعد دنیا کو سلام!
کاش! جب میرا کسی اپنے محبوب سے اختلاف ہو جاتا،
تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے سفارش کی درخواست کرتا،
اور آپ ﷺ میرے ساتھ چل پڑتے،
میرے دل کی دراڑ کو جوڑنے کے لیے؛
بالکل ویسے ہی جیسے آپ ﷺ نے مغیث کی خاطر کوشش فرمائی تھی،
جب بریرہؓ نے اسے چھوڑ دیا تھا،
اور آپ ﷺ نے اس سے فرمایا تھا:
”اگر تم اس کی طرف لوٹ جاؤ تو؟“
کاش! جب قرض کا بوجھ مجھے دبا دیتا،
تو میں آپ ﷺ کے پاس اپنی پریشانی لے کر آتا،
اور آپ ﷺ میرے ساتھ چل کر قرض خواہ سے میرے لیے مہلت طلب کرتے؛
بالکل ویسے ہی جیسے جابرؓ کے قرض کے معاملے میں آپ ﷺ ان کے ساتھ چلے تھے
اور اس یہودی سے، جس کا جابرؓ پر قرض تھا، فرمایا تھا:
”جابر کو مہلت دے دو!“
کاش! اگر کوئی دوست میرے ساتھ زیادتی کرتا،
تو میں دکھ بھرا دل لیے آپ ﷺ کے پاس آتا،
اور آپ ﷺ میری خاطر کھڑے ہو جاتے؛
جیسے بلالؓ کی خاطر کھڑے ہوئے تھے،
جب ابوذرؓ نے ان سے کہا تھا:
”اے کالی ماں کے بیٹے!“
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
”کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی ہے؟ تم میں ابھی جاہلیت کی ایک بات موجود ہے!“
یا شاید میں اس دن آپ ﷺ کے دل میں ابو بکر�� کی طرح عزیز ہوتا،
تو آپ ﷺ میری خاطر ناراض ہوتے اور فرماتے:
”کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑ نہیں سکتے؟“
کاش! جب میں بیمار پڑتا،
تو آپ ﷺ میرے گھر میری عیادت کے لیے تشریف لاتے،
جیسے سعد بن ابی وقاصؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تھے،
اور ان کے دل پر دستِ شفقت رکھتے۔
کاش! کوئی بات مجھے غمگین کر دیتی،
تو آپ ﷺ مجھے تسلی دیتے،
جیسے اس بچے کو تسلی دی تھی جس کا پرندہ مر گیا تھا۔
کاش! کوئی معمولی سی پریشانی بھی مجھے گھیر لیتی،
تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا،
آپ ﷺ میرا بوجھ ہلکا کرتے اور میرے کام کے لیے میرے ساتھ چل پڑتے؛
بالکل ویسے ہی جیسے ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ چل پڑے تھے،
جب اس کے گھر والوں نے اسے کسی کام سے بھیجا تھا اور وہ دیر سے لوٹی تھی،
تو وہ آپ ﷺ سے مدد مانگنے آئی تھی۔
کاش! میں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ہوتا،
اپنے دل اور آنکھوں سے آپ ﷺ کی حفاظت کرتا رہتا۔
شاید کسی وقت آپ ﷺ اپنی سواری پر تھکن سے سو جاتے،
تو میں آپ ﷺ کو سہارا دیتا،
اور آپ ﷺ مجھے وہی دعا دیتے جو ابو طلحہؓ کے لیے فرمائی تھی:
”اللہ تمہاری حفاظت کرے، جیسے تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی!“
کاش! میں غزوۂ اُحد کے دن آپ ﷺ کے ساتھ لڑتا،
اور طلحہؓ سے پہلے آگے بڑھ کر اپنی پیٹھ جھکا دیتا،
تاکہ آپ ﷺ میرے جسم پر قدم رکھ کر چٹان پر چڑھ جاتے،
اور پھر میرے لیے فرماتے:
”ادھم نے اپنے لیے جنت واجب کر لی!“
کاش! جب زندگی ہر طرف سے تنگ ہو جاتی،
تو آپ ﷺ میرے پاس بھی اسی طرح آتے
جیسے آلِ یاسرؓ کے پاس آئے تھے،
اور فرماتے:
”صبر کرو، اے یاسر! تمہارا وعدہ جنت ہے!“
اگر اس وقت آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ سن لیتا،
تو میرے لیے ہر مصیبت آسان ہو جاتی!
میرے محبوب، یا رسول اللہ ﷺ!
مجھے آپ ﷺ کی کتنی شدید یاد آتی ہے!
اور سلام ہو آپ ﷺ کے دلِ مبارک پر۔
ادہم شرقاوی
چونکہ آج “ شُٹی “ ہے تو سالم رکشہ پر خوردبینی اور باریک بینی سے عمرانی زندگی گا احاطہ کریں تو ایسے کئی پہلو دکھائی دیں گے جو شاید انسانی تاریخ میں دکھائی نہیں دیئے چونکہ یہ تحریر تھوڑی لمبی ہونے والی ہے لہذا آپ نے صبر اور مُٹھ رکھنے سے کام لینا ہے
بحیثیتِ گرگٹر آپکا نام ایک جواری کے طور پر بوتھم کی لائبریری میں ہمیشہ زندہ رہا
بحیثیت انسان آپکا نام پلے بوائے عورتوں کے رسیا اور زیرو پوائنٹ سے پلئیر پوائنٹ تک غلاظت میں ڈوبا رہا جہاں آپ نے ہر رنگ ہر مذہب اور ہر طرح کی چمڑی کو اپنے جال میں پھسایا خواتین و حضرات ٹرانسجینڈر اوع کتوں کو بھی نہ ��خشا اور مردہ ماں کے نام پر سیاسی ہسپتال عوامی پیسوں سے بنایا اور پھر زکوت سے تھالی لینڈ میں مساج سینٹر بنوائے اور بہنوں کو ارب پتی بنادیا
بحیثیت سیاستدان آپ نے مشرف کے پولنگ ایجنٹ سے کیرئیر کا آغاز کیا پھر پاشا حمید گُل کی نرسری سے تربیت حاصل کی اور پھر باجوہ فیض غفور کے “ ڈوڈوں “ کے ساتھ لٹک کر اقتدار میں پہنچے اور اپنے ہر بیان سے یوٹرن لیا
بحیثیت وزیراعظم آپ پرلے درجے کے تھن ترٹ تھے گوگی پنکی زلفی بزدار جیسے منڈیوں کے ہیرے آپکے فرنٹ مین تھے گراونڈ فلور پر طارق جمیل اسلامی ریاست کا نعرہ لگاتا تھا جبکہ چوتھے فلور پر حریم شاہ بغیر ستھن نچ رہی ہوتی تھی مودی کال نہیں چکتا تھا بائیڈن کال نہیں کرتا تھا ولی عہد نے چلتے جہاز سے اتارا ترک صدر ملائشیا کانفرنس میں عدم شرکت پر نالاں تھا اور ہندوستان نے آپکے دور میں مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرلیا اور آپ ورلڈ کپ جیتنے کی صدائیں لگاتے رہے اور ٹی ٹی پی کو پاکستان میں بسا کر آپ نے وہ چھرا گھونپا جس کی پاداش میں آج بھی ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں
بحیثیت پوزیشن لیڈر اپ نے سائفر لہرا کر پاکستانی سفارتکاری کو وہ کاری ضرب لگائی جو آج تک بھگت رہے ہیں اور فوج کی اینٹ سے اینٹ وجائی ریاست پر مسلح جتھوں ذریعے حملہ کروایا شہداء غازیوں کے مجسموں کو جلایا آئی ایم ایف دفتر کے باہر احتجاج کروایا اور پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے اور جی ایس پلس سٹیٹس ختم کروانے کیلئے پورا ذور لگایا
بحیثیت کھسبینڈ آپکی پہلی بیوی اس وجہ سے مر گئی کہ آپ نے اس کے بطن سے پیدا ہوئی بیٹی قبول کرنے سے انکار کیا دوسری اور تیسری بیوی دوڑ گئی اور خود کسی کی پانچ بچوں کی ماں دوڑا لائے
بحیثیت والد آپ نے اپنی بیٹی قبول کرنے سے انکار کیا دونوں بیٹوں کو گولڈ سمتھ کے ٹکڑوں پر پلنے کیلئے چھوڑ دیا اور آج تک اپنے کھیسے سے اپنے بچوں کو کما کر ایک ٹغہ نہیں کھلایا حالانکہ آپکی اپ��ی بیٹی 33 سال کی ہوگہ لیکن مانیکا کی بیٹی کا ویاہ ریاستی خرچ سے سعودیہ میں کروایا
مورخ نے عمران خان سے بڑا پلے بوائے مفاد پرست بیغیرت مدر سسٹر فکر انسانی تاریخ میں نہیں دیکھا
علمتني الحياة أن التفكير بطريقة مختلفة، أو بناء شيء لم يعتد عليه الناس أو لا يفهمه الناس في وقته يجلب النقد من أصحاب النظرة الضيقة وممن لا يملكون البصيرة لرؤية المستقبل.
طبيعة العمل العام أنه يجلب النقد.. ولابد أن تتحمل، افعل الصواب.. دعهم يتحدثون، أما إذا أرد�� رضا الناس الكامل فلا تقل شيئاً.. ولا تفعل شيئاً.. ولا تكن شيئاً.
#من_كتاب_علمتني_الحياة
کیا سسٹم واقعی تباہ ہو چکا ہے
حالانکہ اسی سسٹم نے چند دن پہلے تک امریکہ اور ایران جنگ میں ثالثی کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں سے داد وصول پائی اور اگر سالم رکشہ کروا کر تھوڑا سا پشاں جائیں تو پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان نے ایک نیا جنم لیا تھا اور آزادی کے بعد آزادی جتنی خوشی حاصل کی تھی پھر اندرون بیرون دشمنان کی منجی پیڑھی ٹھوکنے کے بعد سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ جیسی کامیابی بٹوری اور پھر اندرون ملک اسی سسٹم نے فوج سے عمرانڈو جرنیلوں کو نکالا اور پھر عدلیہ میں سے “ گڈ ٹو سی یو “ ججز کو پھیتیو پھیتی کردیا جبکہ تیسری جانب پنجاب حکومت ترقیاتی کاموں میں بقیہ صوبوں کو پچھاڑ چکی ہے اور سب اسی سسٹم کی بدولت ہوا لیکن یہاں یہ بات ضروری ہے کہ وزارت خزانہ پٹرولیم نے عوام کی بنڈ بندوق کردی ہے اور مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اس وجہ سے آپ سسٹم کی ناکامی راگ الاپ سکتے ہیں لیکن پاکستانی تاریخ میں حافظ سید عاصم منیر نے وہ کامیابیاں سمیٹی ہیں جو شاید اس سے پہلے آج تک ممکن نہ ہوسکیں اور اس میں سب سے بڑی کامیابی 10 مئی 2025 کو ہندوستان کو گھر میں گھس کر مارنا ہے اور مورخ اس کامیابی کو سنہری حروف سے ��ندہ کرتا رہے گا
سسٹم میں خرابیاں ضرور ہیں جنہیں دور کرنا نہایت ضروری ہے لیکن یہ سسٹم تباہ نہیں ہوا
Did you know the longest winning streak in ALL of professional sports history doesn't belong to Muhammad Ali, Michael Jordan, or Roger Federer?
It belongs to a boy from Karachi who doctors said should never exercise.
Jahangir Khan. Pakistani squash player. 555 consecutive wins. 5 years. 8 months. Undefeated.
The world forgot to tell his story. We won't. 🇵🇰
ڈاکٹر سارہ قریشی۔ 1
اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کا��ی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔
اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پ��چھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔
تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیس��
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی ��ہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔
اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ جاری
I used to think that bringing Allah/religion in every convo is extremism. .but no, I've now realised everything is about Allah , from Allah and for Allah. May we all die on Shah'dah!!.
Overwhelmed. Genuinely. The messages, the shares, the people reaching out from places I did not expect. Thank you.
I have not done anything special here. I just put into words what we have all felt. With the world's attention on Pakistan this week, it felt important to set the record straight. Who we are and who we are not.
What I think gets missed in conversations about Pakistan is that despite the incredible diversity, the languages, the provinces, the traditions, we have managed to forge a national identity that is distinctly and unapologetically our own. That deserves to be named and taken pride in.
I am as Pakistani as they come. I have lived and breathed everything in that piece. At the same time, I've grown up and have spent most of my life outside Pakistan, working in international media, I know how to write for those audiences. That combination is probably why the piece lands. I know the country from the inside. I know how to explain it to the outside. This piece was the bridge.
Thank you for crossing it with me.
Pakistan just saved the last two people on Earth who can end this war from being killed by the country that started it.
Reuters confirmed, citing a Pakistani official: Israel had developed detailed plans, including movement coordinates, to assassinate Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi and Parliament Speaker Mohammad-Bagher Ghalibaf. Pakistani intelligence intercepted the plans. Islamabad delivered an urgent message to Washington: if you eliminate these two, there is no one left to talk to. The only figures remaining who can negotiate a ceasefire will be dead, and full control passes to hardcore IRGC commanders who have no interest in talking and every interest in keeping the toll booth open, the missiles flying, and the strait closed.
Washington listened. The US intervened directly with Israel. Araghchi and Ghalibaf were temporarily removed from the joint target list for 4-5 days. WSJ confirmed the window. The back channel is now open. Pakistan is relaying a 15-point American proposal to Tehran. Turkey & Egypt are supporting the effort. Foreign Minister Ishaq Dar confirmed all of this publicly on March 26.
Process what just happened. The country whose Prime Minister stood at a podium last month and called Donald Trump “genuinely a man of peace” and “the savior of South Asia” and nominated him for the Nobel Peace Prize just used its intelligence apparatus to prevent an Israeli strike that would have collapsed the last diplomatic off-ramp in a war that is destroying the global economy. Pakistan did not send warships. Pakistan did not fire missiles. Pakistan sent a message. And the message worked.
NATO did not do this. NATO was asked to send warships to reopen the Strait of Hormuz. Germany said “this is not our war.” France said it would participate after fighting ends. The UK said it has no plans. Trump posted “NEVER FORGET” at 6:16 this morning. Thirty alliance members with $1.6 trillion in combined defence spending provided what Trump called “absolutely nothing.” Pakistan, with a GDP smaller than Belgium’s and a defence budget funded partly by Chinese loans, provided the intelligence intercept that kept the negotiation alive.
The contradiction is the architecture. The alliance Trump built to fight this war refused to fight. The country Trump praised for flattering him is the country now brokering the peace. NATO debates mandates. Pakistan relays proposals. NATO cites escalation risks. Pakistan takes escalation risks. The 15-point American proposal is being deliberated in Tehran right now because a Pakistani intelligence officer picked up the phone and told Washington that killing the foreign minister would end the conversation permanently.
The strait is still closed. The toll booth still collects in yuan. The helium is still offline. The diesel is still rationed. The sulfuric acid is not arriving. The cluster bomblets are still falling on Kfar Qasim. The IRGC commander who built the Hormuz corridor is dead and the corridor is still operating. Nine thousand targets destroyed and Hormuz has not reopened. The $200 billion bought kinetic supremacy. It did not buy a ceasefire. The ceasefire, if it comes, will be brokered not by the alliance that spent $1.6 trillion on defence but by the country that spent a phone call on diplomacy.
Islamabad has offered to host the talks. A possible summit: VP Vance with Ghalibaf or Araghchi. The window is four to five days. It expires around March 29 to 31. If the talks fail, the targets go back on the list. The coordinates are already plotted. The pilots are already briefed. And the only thing standing between the last two Iranian diplomats and an Israeli precision munition is a message from a country that most of the world forgot was involved.
The molecules do not care who brokers the ceasefire. The molecules need the strait open. The strait needs a conversation. The conversation needs two people alive. Those two people are alive because Pakistan made a phone call.
There has been unnecessary speculation in the media regarding peace talks to end ongoing conflict in the Middle East. In reality, US-Iran indirect talks are taking place through messages being relayed by Pakistan. In this context, the United States has shared 15 points, being deliberated upon by Iran.
Brotherly countries of Turkiye and Egypt, among others, are also extending their support to this initiative.
Pakistan remains fully committed to promoting peace and continues to make every effort to ensure stability in the region and beyond.
Dialogue and Diplomacy is the only way forward!
@SecRubio@araghchi@SteveWitkoff
ایران نے پاک سر زمین پر حملہ کیا اس نے ایران کو گھر میں گھس کر مارا
ہندوستان کو “ رافیلوا “ پر گھمنڈ تھا حملہ کیا اس نے 10 مئی کو مودی کو گھر میں اندر وڑ کر مارا
نمک حرام افغانیوں نے مودی کی جھولی میں بیٹھ کر حملہ کیا اس نے دو مرتبہ افغانیوں کو تندور میں واڑ کر ساتویں کا دودھ یاد کرو��یا
آج حافظ دنیا کی جنگوں میں ثالث بن چکا ہے کیونکہ اس نے اپنی جنگوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہے
حافظ سید عاصم منیر شاہ آپکی راتی کوئی نہیں جمیا