کل فوڈ پانڈا سے آرڈر کیا تو یہ مسیج آیا ، جب وہ پارسل ڈلیور کرنے آیا تو بمشکل 18 سال کا تھا ، پسینے سے اس کی کمر گیلی تھی ، میں نے پانی کا پوچھا تو اس نے اشارے سے کہا ایک گلاس دے دیں ، وہ قوت گویائی سے بھی محروم تھا۔ میرے بیٹے نے اسے شربت کا گلاس پکڑایا ۔ آرڈر میں تین برگرز تھے ، ایک اسے آفر کیا مگر بارہا کہنے کے باوجود اس نے نہیں لیا۔ میں نے اسے کچھ Tip دی وہ بھی اس نے کافی جھجھکتے ہوئے رکھی۔ اور اشارے سے شکریہ کہہ کر چلا گیا ۔
یہ وہ لوگ جو عزت نفس کو قائم رکھ کر حلال روزی کے لیے نکلتے ہیں ۔ ورنہ ان سے جسمانی طور پر کئی گنا بہتر ہٹے کٹے مرد اور عورتیں بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ہم ان کی جھولیاں بھرتے بھی رہتے ہیں ۔ پٹرول مہنگا ہوگیا ہے ، پتا نہیں ان بائیکیا والوں کی روازنہ کتنی بچت ہوتی ہے ، اس گرمی میں کچھ بھی آرڈر کریں تو ان پر جتنی شفقت ہوسکتی ہے کریں ، لیٹ آرڈر پر سرزنش مت کریں ، ٹھنڈے پانی کا ضرور پوچھیں ، تھوڑا بہت بقای�� ہو تو واپس مت لیں ، استطاعت ہو تو اضافی ٹپ دے دیں ۔ مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کریں ۔ یہ نوجوان سفید پوش لڑکے پتا نہیں گھر کے کتنے افراد کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔ چھوٹی چھوٹی مدد سے ۔۔۔ یہ بوجھ بانٹ لیں ، ان محنت کشوں کے کندھے ہلکے ہونگے تو ہماری نیکیوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔
"ہماری کیمرہ گردی " (وہ ناسور جو ہمیں کپڑوں میں بھی بے لباس اور کمروں میں بھی بے حجاب کررہا ہے )
پچھلے دس دنوں میں پاکستان میں یہ تین مختلف واقعات ہویے -
- میاں چنوں میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں جب ایک ڈاکٹر ایک نیم بیہوش لڑکی کو "سٹرنل رب " (Sternal rub) کر رہا تھا جو کہ ایسے کیسیز میں ایک سٹینڈرڈ پروسیجر ہے تو اس کی لواحقین نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالدی اور پورا معاشرہ ایم بی بی ایس نہ ہوتے ہویے بھی ڈاکٹر بن گیا اور اس کو کیپشن کیا "لڑکی کے ساتھ ڈاکٹر کی نازیبا حرکات " - اس ڈاکٹر پر پرچہ ہوا اور اس کا کیرئیر داؤ پر لگ گیا -
- دوسرا واقعہ کراچی میں ہوا جہاں ایک چپل فروش چونسٹھ سال کے بابا جی نے اپنی بیگم کا قتل کردیا - وڈیو بنی جس میں بابا جی پولیس کو گھر لے کر جاتے ہیں اور خون میں لت پت اپنی بیوی کی لاش دکھاتے ہیں اور پھر وڈیو میں وجہ بتاتے ہیں کہ اس نے سیکس سے انکار پر بیوی ماردی - یہ وڈیو بھی وائرل ہوتی ہے اور بابا جی مشھور ہوجاتے ہیں - اتنے کہ یو ٹیوبر جیل میں جا جا کر بابا جی کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں - معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے - معاشرے کا ایک حصہ فورا سے عالم اور مفتی بن جاتا ہے اور دوسری تیسری شادی کی حکمت پر تبصرے شروع ہوج��تے ہیں اور دوسرا حصہ جگتی اور بھانڈ بن جاتا ہے اور "لینے دینے " لے الفاظ پر گندے لطیفے سنانا اپنا حق سمجھتا ہے - کیا کہا ڈومسٹک واؤلینس " پر بات ؟ اس پر بات وہ کرتا ہے جو کوئی معاشرہ ہوتا ہے ' لوگوں کا بےہنگم ہجوم اس پر کیا بات کرتا -
- ��یسرا واقعہ کوئٹہ کا ہے جہاں ہسپتال کی لفٹ میں ڈاکٹر ماہنور نامی ایک ڈاکٹر کے چہرے پر ایک آدمی تیزاب پھینک کر بھاگ جاتا ہے - اس کی بھی وڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں وہ ڈاکٹر لڑکی اپنا تیزاب سے جھلسا چہرہ تھامے تڑپتی چیخیں مارتی نظر آتی ہے - معاشرہ یہاں بھی فورا جج اور یو ٹیوبر بن جاتا ہے اور اس تیزاب گرد کو موت کی سزا سنا کر وہ وڈیوز شیئر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو اگر میرے لئے اتنی تکلیف دے تھی تو اس لڑکی کے گھر والوں کیلئے کیا قہر ڈھاتی ہوگی -
یہ تین واقعات بظاہر الگ الگ نوعیت کے ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے " ہماری کیمرہ گردی" ---- وہ رجحان جس کے تحت وائرل ہونے ��الی وڈیو بنائی گئی اور لگائی گئی ' وائرل ہوئی اور اس پر تبصرے اور پروگرام ہویے - لیکن میں نے ایک بھی تحریر اس وڈیو گردی کے خلاف نہی دیکھی جو نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ کسی کے دکھ پر پیسے بنانے کا گھٹیا دھندہ بھی ہے -
چلیں اب ان تینوں واقعات کی وڈیو کی الگ الگ ڈائسیکشن کرتے ہیں :
کیا پہلے کیس میں وڈیو بننا چاہیےتھی ؟ ہر گز نہی - ہسپتالوں کی ایمر جنسی جہاں مریض ہوتے ہیں وہاں لواحقین کا کسی ڈاکٹر کی ایک پروفیشنل مینوور جس کو "سٹرنل رب " کہتے ہیں ' کرتے ہویے وڈیو بنا کر لگانا ایک جرم تھا جس میں وہاں موجود مریضوں کی پرائیویسی بھی بریچ ہوئی اور اس وڈیو کو دیکھ کر میڈیکل کی دنیا سے انجان لوگوں نے ایک ڈاکٹر پر گھٹیا الزام بھی لگایا جو نہ ہوتا اگر وہاں وڈیو نہ بنتی - اس وڈیو کے بعد اس ڈاکٹر اور اس کے خاندان پر کیا گزری ہوگی ' اس کا اندازہ لگانا اس معاشرے کیلئے بہت مشکل ہے -
دوسرے کیس میں پولیس نے وڈیو بنائی - ایک خون میں لت پت لاش کی اور ایک مجرم کے اقبال جرم کی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو کرائم ڈیپارٹمنٹ تک محدود رہتی لیکن یہاں بھی پولیس نے اس کو لیک کیا اور اس وڈیو میں موجود چٹخارے دار الفاظ نے اس معاشرے کے اندر سویے ہویے بھانڈ کو انگڑائی لینے پر مجبور کیا - اس وڈیو گردی کے بعد اس خاندان کے باقی افراد جن کی ماں یا بہن قتل ہوئی ہوگی ان پر کیا بیتی ہوگی ؛ اس کی اس پولیس اور اس جگتی معاشرے کو ٹھینگے کی بھی پرواہ نہی کیوں کہ یہ عورت عاصمہ بیگم نہ ان کی ماں تھی نہ ان کی بہن یا بیٹی- ایک مجرم جس نے قتل جیسا جرم کیا اس کیلئے بھی اگر ہلکی سی بھی ہمدردی کے جذبات جاگے وٹو بھی اس وڈیو گردی کے ناسور کا نتیجہ تھا جو ہرگز نہی جاگتے اگر یہ وڈیو یوں وائرل نہ کی جاتی -
تیسرے واقعہ میں بھی وڈیو ہسپتال میں موجود لفٹ کے سی سی کیمروں میں بنی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو بس ہسپتال کے ایم ایس یا ڈی ایم ایس اور تفتیشی عملے کے پاس رہتی یا پولیس کو دکھائی جاتی تاکہ مجرم کا تعاقب کیا جاسکے پر یہاں بھی کسی ایم ایس ' کسی ٹیکنیکل سٹاف کسی کلرک بادشاہ نے وہ وڈیو ویوز کے چکر میں لیک کردی - لوگوں کو ویوز کی کرنسی مل گئی اور معاشرے کو ایک تڑپتی چیختی لڑکی اپنا جھلسا چہرہ تھامے زمین پر لوٹتی پوٹتی نظر آگئی - کسی نے ہمدردی کی کسی نے غصہ کیا پر کیا اس وڈیو کے یوں وائرل کرنے سے کیس میں کوئی فرق پڑا؟
بس یہی میرا سوال ہے - اس نظام سے ؛ یہاں کے قانون نافذ کرنے والوں سے اور اس معاشرے سے کہ
اس وڈیو گردی کے خلاف کب کوئی تحریک چلے گی -
کب کوئی تحریر لکھی جائیگی -
کب کوئی نظم پڑھی جائیگی -
کب کوئی مقدمہ ہوگا کوئی قانون بنے گا -
کوئی تو اس مسلے کو مسلہ سمجھے -
کوئی تو اس موبائل فون کے کیمرے کو وہ کلاشنکوف وہ پسٹل سمجھے جس کی گولیوں سے نہ کوئی پروفیشنل ڈاکٹر محفوظ ہے ' نہ کوئی مقتولہ عورت محفوظ ہے اور نہ کسی مریض کی پرائویسی محفوظ ہے -
کوئی تو ان پولیس والوں کو ایس او پی سکھاے کہ وڈیوز کو سکرین کرنا ہوتا ہے ' وائرل نہی -
کوئی تو اس معاشرے کو یہ تمیز سکھاۓ کہ ایسی وڈیوز کو بار بار شیئر کرکے جگتی ' بغیر ڈگری کا ڈاکٹر اور بغیر علم کے عالم نہی بننا ہوتا بلکہ کسی کی ماں ' بہن بیٹی کا پردہ رکھنا ہوتا ہے -
کوئی تو اس غلیظ بزنس کی روک تھام پر بات کرے جس میں کرنسی ویوز ہیں ' مصنوعات انسان کی عزت اور تکریم ہے اور کاروباری مال انسانی خون اور کسی مریض کا مرض ہے -
مجھے اس معاشرے سے بس یہ ج��ننا ہے کہ اگر یہ عاصمہ بیگم ان کی ماں ہوتی ' ڈاکٹر ماہنور ان کی بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی وہ اپنی وال سے ان کی وڈیوز یوں وائرل کرتے ؟
خدا را ! اس وڈیو گردی کو بند کریں - زندگی کسی ٹک ٹاک کسی فیس بک کسی یو ٹیوب سے زیادہ سنجیدہ اور اہم ہے - اس کو اپنے کیمرے کی گولیوں سے یوں چھلنی نہ کریں کہ وہ دم گھٹ کر مر جائے - ادارے ان باتوں پر توجہ دیں کہ ان کے ڈیپارٹمنٹس میں سے کس طرح ویڈیوز لیک ہو رہی ہیں اور ایسا کرنے والوں کو جاب سے برخواست کریں - اپنے پولیس والوں اور سرکاری ہسپتال کے عملوں کو پروفیشنلزم سکھائیں تاکہ وہ جرم کی تشہیر' مقتول کی تضحیک اور مریض کے مرض کی اشاعت کرنے کی بجاے مجرم کی حوصلہ شکنی ' مقتول اور لواحقین کی دلجوئی اور مریض کی مرہم پٹی کرتے نظر آئیں -
یاد رکھیں کہ اگر آج ہم نے وڈیو گردی کے اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ معاشرہ اس قدر اس کی زد میں آجائیگا کہ ہر کوئی لباس زیب تن کیے ہویے بھی خود کو عریاں اور کپڑوں میں لپٹا ہوا بھی خود کو ننگا محسوس کریگا -
کیوں کہ
"چراغ سب کے بجھیں گے ' یہ ہوا کسی کی نہی "
قلم کی جسارت وقاص نواز
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
مولانا کا فین بچہ اور ڈاکٹر خالد
تحریر/رئوف کلاسرا
آج ایک کلپ دیکھا جس میں ایک مولانا صاحب گاڑی سے اترتے ہیں اور ایک مدرسے کا بچہ ان سے ہاتھ ملانا چاہتا ہے تو وہ اس سے ہاتھ نہیں ملاتے اور منع کر دیتے ہیں ۔
اب کلپ نیا ہے یا پرانا مجھے علم نہیں ہے۔
میں گمان اچھا رکھتا ہوں کہ مولانا کے پاس اس بچے سے ہاتھ نہ ملانے کی کوئی مناسب وجہ ہوگی۔ شاید تھکے ہوں، انہیں خدشہ ہو بچے کے ہاتھ صاف نہیں ہوں گے، یا کچھ بھی۔
خیر وجہ جو بھی ہو بچے کو جو سب کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ہوگی وہ شاید ساری عمر اس کے ساتھ رہے گی۔ شاید وہ عمر بھر دوسروں سے ہاتھ ملاتے ��رے گا۔ اس کے نفسیاتی اثرات الگ ہوتے ہیں جیسے جو بچے اٹک اٹک کر بولتے ہیں/ ان پر ایسے بچپن کے واقعات کا ٹراما ہوتا ہے کہ بات کرتے وقت کسی گھر کے بڑے نے ڈانٹ دیا، پرائمری سکول میں سبق درست نہ پڑھنے پر استاد نے پوری کلاس کے سامنے تھپڑ مار دیا یا کان پکڑوا دیے۔ یا سب اس کی سنجیدہ بات پر ہنس پڑے یا مذاق اڑایا تو بھی وہ اندر اندر احساس جرم کا شکار ہوتا ہے کہ اگر اس نے کوئی بات کی تو اسے تھپڑ پڑے گا یا پھر اس کا سب لوگ مذاق اڑائیں گے۔ وہ بولتے ہوئے ڈرتا ہے۔ زبان کی لڑکھراہٹ کا ان سے گہرا تعلق ہے۔ یہ میڈیکل نہیں نفسیاتی ایشو ہے۔
یہی ان کیسز میں ہوتا ہے جب اتنا بڑا آدمی اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں بچے کا ہاتھ جھٹک دے گا تو بچہ ساری عمر اس صدمے سے شاید ہی نکلے۔ یہ بچپن کے ٹراما خوفناک ہوتے ہیں اور ساری عمر یاد رہتے ہیں۔
شاید اس بچے نے اب تک ان مولانا کے بارے میں سن رکھا ہوگا تو عقیدت سے ہاتھ ملانے کا خواہشمند ہوگا۔ مجھے نہیں پتہ اس کے بعد اس بچے کو اس کے ساتھی بچوں نے حوصلہ دیا، کسی استاد نے پیار کیا یا پھر جو ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ اسے جی بھر کر سب نے مذاق مذاق میں جگتیں لگا کر ذلیل کیا۔۔ اسے مزید نفسیاتی طور پر تباہ کیا۔
ہاتھ ملانے سے یاد آیا کہ دس بارہ برس قبل گائوں سے اسلام آباد آرہا تھا۔ شدید بارش ہورہی تھی۔ بارش میں ڈرائیونگ میں زیادہ انرجی اور توجہ لگتی ہے اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
میرے بچے بھی ساتھ تھے۔ چھ سات گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد بھیرہ رکے تو بچوں نے کہا کے ایف سی کھانا ہے ۔ اندر گئے تو میں بچوں کے ساتھ ایک میز کرسی پر تھکا ہارا س�� بیٹھ گیا۔
اتنی دیر میں ایک صاحب داخل ہوئے۔ مجھے دیکھا تو سیدھے ہنسے مسکراتے میری طرف آئے اور کہا میں آپ کو سنتا پڑھتا رہتا ہوں۔ میرا نام ڈاکٹر خالد ہے۔ انہوں نے ہاتھ آگے کیا تو میں نے بیٹھے بیٹھے وہیں سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ وہ ہاتھ ملا کر چلے گئے۔
میرا بڑے والا بیٹا احمد دیکھا رہا تھا۔ خالد صاحب کے جانے کے بعد اس نے مجھے کہا بابا آپ نے غلط کیا۔ آپ کو ان سے اٹھ کر ہاتھ ملانا چاہیے تھا۔
میں نے کہا کیسے؟
کہنے لگا اس پر بڑی اسٹڈی ہوئی ہے کہ سو میں سے آپ کا ایک فین آپ سے ہاتھ ملانے آئے گا۔ خود کو قائل کرنا آسان نہیں ہے کہ کسی دوسرے کو جا کر اہمیت دیں یا اسے بتائیں وہ کتنا اہم بندہ ہے۔ اپنا آپ پیچھے کرنا پڑتا ہے۔ وہ خود کو مجبور کر کے ملنے آتا ہے۔ وہ آپ کو خود سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ آپ نے یونہی بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا دیا۔ آپ کا فین توقع رکھتا ہے کہ جتنا وہ آپ کو جانتا ہے اتنا آپ اسے جانتے ہیں۔ وہ آپ کو روز دیکھتا سنتا یا پڑھتا ہے اور اسے لگتا ہے آپ اس کے دوست یا خاندان کا حصہ ہیں جس سے اس کی روز ملاقات ہوتی ہے۔ آپ نے ان کے چہرے پر تاثر دیکھا تھا کہ انہیں لگا وہ ایک اجنبی انسان سے ملا رہا ہے۔ آپ کو ایکٹنگ بھی کرنی پڑے تو کیا کریں جو بھی ملنے آئے کہ آپ بھی اسے اتنا ہی جانتے ہیں جتنا وہ جانتا ہے۔
میں شرمندہ نظروں سے بیٹے کو دیکھتا رہا۔ اچانک اٹھا، ڈاکٹر خالد صاحب لائن میں لگے بل ادائیگی کا انتظار کررہے تھے۔ انہیں جا کر متوجہ کیا، معذرت کی کہ تھکا ہوا تھا۔ گلے لگایا اور کہا آپ مجھے برگرز کا بل دینے دیں۔
وہ حیرانی سے مجھے دیکھتے رہے کہ اس بندے کو یہ اچانک کیا ہوا ہے۔۔
میں نے مڑ کر احمد کو دیکھا، اسے آنکھ ماری اور عمربھر کا سبق اپنے بیٹے سے سیکھا کہ جو بھی ملنے آئے سب کو عزت دینی ہے۔ سب کو احساس دلوانا ہے آپ میرے لیے اہم ہیں۔ میں بھی آپ کو جانتا ہوں۔ آپ سیکھنا چاہیں تو ا��نے بچوں سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔
#RaufKlasra
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
اسامہ خان۔۔۔۔
*"چپل سے کرسی تک" - غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی*
*1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل*
تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔
نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟"
نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔"
پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے ن��یں ہوتے بیٹا۔"
*2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی*
میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔
جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔
دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔"
نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔"
*3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی*
CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔
گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔"
رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔"
ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔"
نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔"
*4. چوتھی بار اور تاریخ*
چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔
رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔*
جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے ��ئی ہوں۔"*
*5. کمشنر نور بانو*
آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔
پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"*
جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
"بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔"
استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی نویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں، کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنس دان ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کی جدوجہد اور سائنسی خدمات پر ایک مضمون شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہی یار جان عبدالصمد ہے، جس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی سن کر کراچی کی انگلش میڈیم سکول کی میڈم نے طنزاً کہا تھا کہ تم گاؤں جا کر کھیتی باڑی کرو، یہ تعلیم تمہارے بس کا کام نہیں۔
اس بچے نے یہ فقرہ اور یہ لہجہ گرہ میں باندھ لیا۔ پھر وہ ایسا پڑھا، ایسا پڑھا، ایسا پڑھا کہ کراچی سے سیدھا یورپ جا پہنچا اور آج وہ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسپیس سائنس پڑھاتا ہے۔ قوموں کا حقیقی فخر ایسے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
اس جوان پر یہ مضمون شامل کر کے، ٹیکسٹ بک بورڈ نے، اس کتاب کے مصنفین نے اپنے قد میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں مصنفین تو قابلِ تحسین ہیں ہی، ایک کریڈٹ ان لوگوں کو بھی ملنا چاہیے جو ایسے متن کو شامل کرنے سے لے کر سراہنے اور چھاپنے تک کے عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ اس میں چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ کا یقیناً اہم کردار ہے، ساتھ ہی متعلقہ مضمون کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ کا بھی جو ایسے مضامین کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ بورڈ میں انگریزی کے ماہر مضمون فرید بزدار ہیں۔ یہ ہمارے کالج کے کولیگ رہے ہیں۔ اس نیک کام میں ان کی حصہ داری کو بھی سراہنا بنتا ہے۔ یہ لوگ چوں کہ اکثر پسِ پردہ کام کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا کام تو نظر آتا ہے، نام نہیں۔
یہ کتاب اب بلوچستان بھر میں پڑھائی جا رہی ہے۔ یقیناً یار جان عبدالصمد کے گاؤں میں بھی پہنچے گی، جہاں اس نے اولین جماعتیں پڑھیں۔ یہ وہاں کے بچوں کے لیے فخر کے ساتھ ساتھ کس قدر موٹیویشن کا ذریعہ بنے گی۔ کیا پتہ اسی سے حوصلہ پا کر پھر کوئی یار جان پیدا ہو، جس کے علم و ہنر کی روشنی اپنے وطن کے تاریک گوشوں کو بھی منور کر سکے۔
عابد میر
دنیا کے امیرترین شخص ایلون مسک کو مئی2021 میں انہیں ایک امریکی مزاحیہ شو میں مدعو کیاگیا۔ شو میں آتےہی انہوں نے اعلان کیا۔
میں آج رات دراصل تاریخ رقم کررہا ہوں کیونکہ میں وہ پہلا شخص ہوں گا جسے امریکی شو 'سیٹرڈے نائٹ لائیو' کے اوپننگ مونولاگ میں بلایا گیا ھے اور وہ آٹزم کا شکار ہیں۔قدرت کا کرشمہ دیکھیےکہ جس کیفیت کو ہمارے ہاں اکثر کمزوری یا خامی سمجھاجاتاہے اسی کیفیت کا حامل شخص آج دنیا کا امیر ترین بزنس مین ہے۔
گزشتہ دنوں جنیدصفدر کی شادی میں شریک ہونے والی کئی شخصیات پر تبصرے ہوتےرہے۔ ان میں مریم نواز شریف کی بہن عاصمہ نواز بھی شام�� تھی جو ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی اہلیہ ہیں۔اسی تناظر میں جنیدصفدر کی شادی کے موقع پر علی ڈار کی ایک ویڈیو سامنےآئی جس میں وہ اپنے بڑے بیٹے ابراہیم کے ساتھ نہایت خوش دکھائی دے رہےہیں۔ ابراہیم موسیقی پر جھوم رہےہیں۔ 18 سالہ ابراہیم بھی آ��زم کا شکار ہیں۔ یہ ویڈیو خود علی ڈار نے شیئر کی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے بیٹےکی ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ تقریباً ہر ویڈیو میں وہ اپنے بیٹے کو پیار سے بوسہ دیتے نظر آتےہیں۔
آٹزم عموماً بچپن کے ابتدائی برسوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے بچے عام بچوں کی طرح دنیا کو نہیں دیکھتے؛ ان کا ردعمل، دلچسپیاں اور اظہار کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ بچےبولنے میں وقت لیتے ہیں، کچھ بالکل نہیں بولتے،
یہ صرف بچے کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ پورے خاندان کا امتحان بن جاتا ہے۔ والدین اکثر صدمے، مایوسی اور احساس جرم کے مراحل سے گزرتےہیں۔ انہیں یہ فکر لاحق رہتی ہے ک�� ان کا بچہ معاشرے میں کیسے جیے گا؟ کیا وہ سکول جا سکے گا؟ کیا خودمختار زندگی گزار پائے گا؟
علی ڈار نے جب بچے کی وڈیو سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو شیئر کی تو صارفین کی جانب سے انتہائی گھٹیا اور نامناسب تبصرے سامنے آئے۔ اس پر علی ڈار نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا۔
جن لوگوں کو یہ عقل و شرم سے عاری کبھی سزا اور کبھی عذ��ب کہہ رہے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ اس سے بڑا اللہ کی طرف سے تحفہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر آپ کے گھر میں ایک ایسا بچہ ہے جو معصوم ہے، فرشتہ صفت ہے، اور جس کے لیے اللہ رب العزت کے قرب اور جنتی ہونے کی نوید ہے، تو اس بچے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کیا ہو سکتی ہے؟
اگر کوئی بچہ کسی جسمانی یا ذہنی تکلیف میں مبتلا ہو تو ماں باپ سے شاید وہ دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی پیار لے جائے، کم نہیں۔ اپنے سپیشل بچوں کو چھپانا یا ان پر شرمندہ ہونا سراسر غلط ہے۔ یہی بچے روزِ محشر ان شاءاللہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر جنت الفردوس میں لے جائیں گے۔ یہ اللہ میاں کا بہت بڑا انعام ہیں۔
اسی حقیق�� کا اقرار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 27 نومبر 2025 کو ایک تقریب کے دوران بھی کیا۔ انہوں نے کہا
میری ایک ہی بہن ہے عاصمہ جو مجھ سے 8 سال چھوٹی ہے۔ اس کے 3 بچے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا ابراہیم 18سال کا ہے اور وہ سپیشل چائلڈ ہے۔ جب وہ گھر پر ہوتا ہے تو میں اسے غور سے دیکھتی ہوں کہ ایک بچے کی موجودگی سے گھر میں کتنی رونق، کتنی برکت اور کتنی رحمت آ جاتی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ شاید اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا لیکن وہ بہت دور کی آواز بھی سن لیتا ہے، گزرنے والوں کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ ہاں، کچھ مشکل لمحے بھی آتے ہیں، خاص طور پر جب وہ تکلیف میں ہوتا ہے۔
شاید اسی ذاتی تجربے اور احساس کی بنیاد پر پنجاب حکومت نے آٹزم اور خصوصی بچوں کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب کا پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم کیا گیا جہاں 3 سے 16 سال تک کے آٹسٹک بچوں کو تعلیم، تھراپی اور سپورٹ پروگرامز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے Autism School & Resource Centre Act, 2025 منظور کیا جس کے تح�� لاہور میں ایک جدید ریسورس سینٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے کے مختلف سپیشل ایجوکیشن سینٹرز میں 12 آٹزم یونٹس جبکہ 27 ڈویژنل پبلک سکولوں میں آٹزم سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ خصوصی بچوں کے لیے نئی بسیں، مخصوص یونیفارمز، ماہرین آٹزم کی شمولیت اور مختصر مدت میں 5 ہزار سے زائد بچوں کے داخلے۔
مریم نواز بارہا کہہ چکی ہیں کہ آٹزم میں مبتلا بچے مریض نہیں بلکہ 'خاص لوگ' ہیں۔
تو جناب والا! اگر کسی بچے کو اللہ نے ایک مختلف کیفیت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کوئی ماں باپ معاشرتی طنز اور دقیانوسی سوچ کے برخلاف اسے پورے فخر، محبت اور قبولیت کے ساتھ اپنا رہے ہیں تو اس پر ہنسنا، انگلی اٹھانا یا تضحیک کرنا نہ صرف گھٹیا بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے
علی ڈار اور عاصمہ نواز جیسے والدین واقعی داد اور سلیوٹ کے مستحق ہیں کیونکہ معاشرتی رویوں کےبرعکس اپنےبچےکی کیفیت کو قبول بھی کر رہےہیں اور اس میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے۔
ادیب یوسفزئی
ان سے ملیے
مولانا بھی، بائیک والا بھی…
پشاور سے تیمرگرہ پہنچا تو آگے دور د��ر تک گاڑی کا نام و نشان نہیں تھا۔
اتنے میں ایک بائیک والا قریب آ کر رُکا۔ بات ہوئی، کرایہ طے ہوا اور سفر شروع ہو گیا۔
راستے میں گفتگو چلی تو پوچھا: کہاں سے ہو؟
کہنے لگے: دیر اپر سے۔
حیرت سے پوچھا: اس وقت یہاں؟
مسکرا کر بولے: میں وڈیگرام ایک مدرسے میں رہتا ہوں، صبح وہاں کلاس ہوتی ہے۔ پھر بائیک پر مزدوری کرتا ہوں۔ عصر کے وقت تالاش کے ایک اور مدرسے میں پڑھاتا ہوں، وہاں سے فارغ ہو کر دوبارہ اسی بائیک پر محنت مزدوری۔
��یک ہی وجود میں دو زندگیاں…
دن کو مولانا، شام کو مزدور۔
علم بھی، محنت بھی اور شکر بھی۔
یہ ہیں ہمارے اصل ہیرو—خاموش، باوقار اور صابر۔
اللہ ایسے لوگوں کے رزق میں برکت دے اور محنت کو قبول فرمائے۔ 🤍
منقول
ایک عورت جس نے آگ میں جلتی ہوئی لڑکیوں کے لیے دنیا بدل دی
فرانسس پرکنز کی داستان۔
وہ کھڑی دیکھ رہی تھی جب 146 عورتیں جل کر راکھ بن گئیں کیونکہ فیکٹری کے مالکوں نے باہر کے دروازے بند کر رکھےتھے۔
بارہ سال بعد، وہ امریکہ کی سب سے طاقتور عورت بن چکی تھی۔
بچپن میں فرانسس پرکنز (Frances Perkins) یہ سوچ کر حیران رہتی تھی کہ نیک اور محنتی لوگ غریب کیوں ہیں۔
اس کے والد نے کہا: "غریب اس لیے غریب ہیں کیونکہ وہ کمزور یا سست ہیں۔"
لیکن فرانسس کے دل نے کہا یہ سچ نہیں ہو سکتا۔
کالج میں اس نے فزکس پڑھی ایک محفوظ اور معزز مضمون جو عورتوں کے لیے مناسب سمجھا جاتا تھا۔
مگر ایک دن اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
کالج کے پروفیسر نے طلبہ کو دریائے کنیکٹی کٹ کے کنارے واقع فیکٹریوں کا دورہ کروایا۔
فرانسس نے وہاں دیکھا:
تھکی ہوئی لڑکیاں، جن کی عمریں اُس سے بھی کم تھیں، اندھیری اور بند کمروں میں مشینوں کے آگے جھکی ہوئی تھیں۔
نہ ہوا کا گزر، نہ کھڑکیاں، نہ دروازے۔
بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، ہفتے میں چھ دن۔
مشینوں نے ان کی انگلیاں چھین لی تھیں، کپاس کی دھول نے ان کے پھیپھڑے جلا ڈالے تھے۔
اس نے جان لیا علم کی کوئی قیمت نہیں اگر وہ انسان کو عزت سے جینے میں مدد نہ دے۔
اس نے محفوظ راستہ چھوڑ دیا۔ امیر شوہر، پیانو کی تعلیم، آرام دہ زندگی۔
اس کے بجائے وہ کولمبیا یونیورسٹی سے معاشیات اور سماجیات میں ماسٹرز کرنے لگی۔
رشتے داروں نے اعتراض کیا توفرانسس نے کہا: "میں وہ نہیں کروں گی جو اچھی لڑکیاں کر��ی ہیں، میں وہ کروں گی جو صحیح ہے۔"
1910 میں وہ نیویارک کنزیومرز لیگ کی ایگزیکٹو سیکریٹری بنی۔
فیکٹریوں کے دورے، تصاویر، رپورٹیں اس نے حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔
"یہ لوگ نہیں مرتے، ان کو مارا جاتا ہے۔"
وہ قانون سازوں کے سامنے کھڑی ہوتی، سادہ مگر باوقار لباس میں، اور مردوں سے کہتی:
"آپ کی فیکٹریاں عورتوں کو زندہ جلا رہی ہیں۔"
انہوں نے اس سے نفرت کی۔
مگر وہ نہیں رکی۔
پھر آیا 25 مارچ 1911 کا دن۔
وہ واشنگٹن اسکوائر میں دوستوں کے ساتھ چائے پی رہی تھی جب آگ کے الارم بجے۔
وہ دھواں دیکھتی ہوئی دوڑی ٹرائینگل شرٹ ویسٹ فیکٹری کے سامنے۔
دس منزلہ عمارت آگ میں لپٹی تھی۔
دروازے بند تھے۔
لڑکیاں کھڑکیوں سے کود رہی تھیں کیونکہ مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ان کے جسم زمین پر گرتے رھے۔
بار بار، بار بار۔
146 عورتیں جل گئیں۔
وہ امیر عورتوں کے لیے "شرٹ ویسٹ" بلاؤز تیار کر رہی تھیں —
فرانسس نے جلتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھا اور کہا:
ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔
چند ہفتوں میں فرانسس کو آگ کی تفتیشی کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔
اس نے رپورٹ نہیں لکھی قانون ہی بدل دیا۔فیکٹریوں کے لیے نئے اصول بنائے گئے۔ تمام دروازے کھلے اور واضح نشانوں کے ساتھ۔
حفاظتی سیڑھیاں اور اسپرنکلر سسٹم۔
ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 54 گھنٹے کی محنت۔ ایک دن کی لازمی چھٹی
فیکٹری مالکان نے شور مچایا:
مگر فرانسس نے ان کے سامنے جلتی لڑکیوں کی تصاویر رکھ دیں۔
اور کہا اگر منافع انسان سے زیادہ قیمتی ہے، تو ہم ا��سان نہیں رہے۔
قانون پاس ہوا۔ نیویارک سے آغاز ہوا، پھر پورے امریکہ نے اپنایا۔
کاروباری طبقہ اس سے نفرت کرنے لگا۔
اخبارات نے لکھا: "یہ عورت شادی کے قابل نہیں۔ مردوں کے کام میں مداخلت کرتی ہے۔
مگر وہ چپ نہیں ہوئی۔
1933میں جب فرینکلن ڈی روزویلٹ صدر بنے، انہوں نے فرانسس سے کہا:
"تم میری کابینہ میں شامل ہو جاؤ۔
فرانسس نے کہا:
ٹھیک جے مگر میری شرائط پر اور اس نے مطالبات کی فہرست پیش کی۔
40 گھنٹے کا ہفتہ
کم از کم اجرت
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ
بے روزگاری الاؤنس
بڑھاپے کی پنش
روزویلٹ نے کہا یہ سب ناممکن ہے!
فرانسس نے کہا: پھر کسی اور کو ڈھونڈ لو۔
اور روزویلٹ نے اسے تعینات ��ردیا۔
بارہ سال تک وہ وزیرِ محنت رہیں سب سے طویل مدت۔
اسی کے دور میں قانون بنے
بڑھاپے کی پنشن، بے روزگاری الاؤنس
48 گھنٹے کا ہفتہ، کم از کم اجرت، 70 ڈالر۔ بچوں کی مزدوری پر پابندی۔
یہ قوانین مکمل نہیں تھے
مگر انہوں نے امریکہ کو بدل دیا۔
فرانسس کا کہنا تھا
جب تک کوئی عورت بھوک سے مرتی ہے، میں سکون سے نہیں سو سکتی۔
1945 میں روزویلٹ کے انتقال کے بعد وہ مستعفی ہوئیں۔
اور پھر کارنیل یونیورسٹی میں پڑھانے لگیں۔
1965میں 85 سال کی عمر میں وفات پائی۔
آج بہت کم لوگ اس کا نام جانتے ہیں —
مگر اگر آپ ہفتے کے آخر میں چھٹی کرتے ہیں،
اگر آپ کو اوور ٹائم کی تنخواہ ملتی ہے،
اگر آپ کے دفتر میں ہنگامی دروازہ لگا ہے،
یا اگر آپ کے بزرگ پینشن پر زندگی گزار رہے ہیں
تو یاد رکھیے،
یہ سب فرانسس پرکنز کی بدولت ہے۔
1911 میں اس نے جلتی ہوئی عورتوں کو دیکھا اور اگلے پچاس سال تک جلتی دنیا کے لیے انصاف کی عمارت کھڑی کی۔
اس نے ثابت کیا۔
غربت کمزوری نہیں، ایک پالیسی کی پیداوار ہے۔
اور پالیسی بدلی جا سکتی ہے۔
چالیس سے پچاس سال کے لوگ جس دور سے تعلق رکھتے ہیں وہ دور انہیں مردہ دل اور بوڑھا ہونے ہی نہیں دیتا وہ کیا کریں ۔ وہ کیا کریں کہ انہوں نے انسپکٹر جمشید سیریز پڑھ رکھی ہے ۔ وہ بلیک زیرو ، ایکسٹو اور علی عمران کے فین رہ چکے ہیں۔ وہ دیوتا پڑھ چکے ہیں اور نک ویلوٹ کی چوریوں کے بارے بھی جانتے ہیں ۔ امبر ناگ ماریا ا��ر عمرو عیار کی زنبیل سے بھی واقفیت رکھتے ہیں ۔ خواتین چھپ چھپ کے ڈائجسٹس پڑھتی رہی ہیں ۔ نازیہ زوہیب کے گیت بھی بار بار ٹیپ ریکارڈر پہ سنے ہیں اور پھر عاشقی کے گیت بھی گنگنائے ہیں ۔ دو روپے کی شیزان بھی پی ہے اور مرینہ خان اور راحت کاظمی کا دھوپ کنارے کا رومینس بھی جیا ہے اور اب یہ لوگ اپنے بچوں کیساتھ بہت کچھ نیا بھی ایکسپیرئینس کررہے ہیں ، نہ یہ پچھلے دور سے ہاتھ چھڑا پارہے ہیں اور نہ ہی اس دور سے آنکھیں چرا پارہے ہیں۔ ایک ہاتھ سے پچھلا دور تھاما ہوا ہے اور دوسرے ہاتھ سے جدید دور کو بھی پکڑ رکھا ہے ۔یہ نسل پرانی روایتوں اور جدید دور کا حسین امتزاج ہے ۔ چہرے پہ بھلے دو چار لکیریں پڑ گئی ہیں لیکن یہ ابھی بھی زندگی اور توانائی سے بھرپور ہیں ۔ دل میں قدیمی روایات سنبھالے ہوئے جدید فیشن سے بھی آراستہ ہیں۔
جی ہاں یہ ہم ہیں چالیس سے پچاس سال کی جنریشن ایکس ۔۔۔💕ہمیں اتنا سا 🤌بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ہمیں بڈھا کہتے اور سمجھتے ہیں😅۔
نوٹ: بہت ساری چیزوں کا ذکر رہ گیا ہے ۔ میرے ہم عمر لوگ کمنٹ میں ایڈ کرتے جائیں پلیز ۔
منقول
#موناسکندر
ریاست پاکستان کے پائلٹس نے اسرائیل کے چار جنگی طیارے تباہ کر رکھے ہیں، جبکہ چھ ایسے طیارے تباہ کر رکھے ہیں، جن کے پائلٹس اسرائیلی تھے، جبکہ اسرائیل کے طیارے گرانے کا تسلیم شدہ اعزاز ریاست پاکستان کے علاؤہ دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔ کہانی میں موڑ یہ ہے کہ صرف پاکستان کی عوام کو اس احساس کمتری میں رکھا گیا ہے کہ ہماری ریاست اسرائیل کی یار ہے اور یہ قوم کبھی خود پر فخر کر ہی نہیں سکی۔ جو قوم خود پر فخر نہیں کر سکتی اسے اقوام عالم کیا عزت دیں گی؟
پاکستان پر فخر کریں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد پاک فوج پائندہ باد 😎👊🇵🇰💖💖
خواجہ آصف کی تقریر! وہ لمحہ جب بھارت کا پردہ چاک ہوا 🧵
خواجہ آصف نے وہ کیا جو الفاظ سے آگے تھا انہوں نے تقریر نہیں کی، بلکہ ایک دستاویزی فائل کھولی۔ اور بھارت کی چادر میں چھپے وہ داغ بے نقاب کر دیے جنہیں برسوں سے چھپایا جا رہا تھا۔
👇
اسامہ بن لادن کی جو اپ کےپاس گھڑی ہے کینیڈین میوزیم کی بڑی افر تھی لیکن اپ نے نہیں بیچی👇🏻
عمران خان نےجب تحفے میں ملی گھڑی بیچی توکینیڈین میوزیم نےفون کر کےکہااپ کے وزیراعظم نےتوتحفہ میں ملنےوالی گھڑی بیچ دی تھی اپ نےنہ بیچی😂😆
جب اپنےسکے کھوٹےہوں تولوگ ایسےمنہ پہ چپیڑےبھی مارتےہیں