بھائی کی تعریف تو پوری دنیا کرتی ہے
بھائی آجکل لندن میں ہیں، لیکن پورا کراچی انکی تعریف کرتا ہے
ہمارے بھائی
سب کے بھائی
Universal بھائی
@AltafHussain_90
بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے MQMکے کارکنوں کا باعزت بری ہونا ثابت کرتا ہے کہ ایم کیو ایم پر یہ الزام ایک گہری سازش کا حصہ تھا۔ MQM کل بھی بے گناہ تھی آج بھی بے گناہ ہے، اصل مجرم وہ ہیں جو MQM کے خلاف سازشیں تیار کرتے ہیں۔ سازشیں کرنے والے آج قوم سے معافی مانگیں
اے پی ایم ایس او کا نظریہ پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
آج اے پی ایم ایس او کوقائم ہوئے 48 سال ہوگئے ہیں،اس 48 سالہ جدوجہد میں ہمارے ہزاروں ساتھی شہید ہوگئے جن میں میرے بھائی اوربھتیجے بھی شامل ہیں، یہ ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ آج تحریک کا نظریہ پورے ملک میں پھیل گیا ہے اورالطاف حسین نے برسوں پہلے ملک کے نظام میں موجود جن خرابیوں کی نشاندہی کی تھی، آج پاکستان کابچہ بچہ وہی زبان بول رہا ہے جس پر میں تحریک کے تمام شہیدوں، لاپتہ ساتھیوں اوراسیرساتھیوں کوسلام پیش کرتا ہوں۔
شہیدوں کی روحیں دیکھ رہی ہیں کہ آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ سندھ بھر میں منایا جارہا ہے، وفاپرست ساتھی اے پی ایم ایس او کے پوسٹرزلگارہے ہیں، تحریک کا پیغام پھیل رہا ہے۔ میں تحریک کے ساتھیوں، ماؤں بہنوں بزرگوں سے کہتاہوں کہ اے پی ایم ایس او کے پوسٹرزپر موجود QR کوڈ کوموبائل فون سے اسکین کریں، آپ کے پاس تحریک میں شمولیت کا فارم کھل جائے گا،جس پراپنی تفصیل ڈال کرآپ تحریک میں شامل ہوسکتے ہیں۔ میں سب سے گزارش کرتا ہو ان کہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں۔ میں پاکستان کے تمام سیکٹروں، زونوں، اوورسیز یونٹوں میں موجود تحریکی ساتھیوں کواے پی ایم ایس او کے48 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی ثابت قدمی پر سلام پیش کرتا ہوں۔
میں ایم کیوایم برطانیہ کے کارکنوں، ان کی فیملیز اور تحریکی بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جومجھ سے جڑے ہوئے ہیں، جوتحریکی فرائض بھی انجام دیتے ہیں، اپناوقت بھی دیتے ہیں، تحریکی پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں، میں ان کی محبتوں اور عقیدتوں کوسلام پیش کرتا ہوں اوران سے کہتا ہوں کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری تحریک کوکامیابی عطافرمائے،انہیں ظلم وناانصافیوں سے نجات عطا فرمائے تاکہ میری آنے والی نسلیں آزاد فضاء میں زندگی گزارسکیں اوران پر غلامی اور خوف کے سائے نہ منڈلاتے ہوں۔
الطا ف حسین
(انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں APMSO کے یوم تاسیس کی تقریب کے موقع پر گفتگو)
11جون 2026ء
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے 48ویں یوم تاسیس کے موقع پرایم کیوایم انفارمیشن سیل نے ایک خصوصی ترانہ تیارکیا ہے جس کے بول ہیں
”ایم کیوایم کاپہلاستون……گیارہ جون، گیارہ جون“*
اس ترانے میں بانی تحریک جناب الطاف حسین کی تقریرکے کلپ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے نام ان کاایک مختصر پیغام بھی شامل ہے۔
#11JuneAltafHai
👇👇👇👇
ایم کیوایم لیاری سیکٹر کے ساتھیوں نے یوم تاسیس کے موقع پر بانی و قائد جناب الطاف حسین بھائی کے نام پیغام ریکارڈ کروایا اور اپنے قائد سے وفاداری کا عزم کیا۔
#MQM42YearsWithAltaf
#Khamenei
امریکہ اوراسرائیل نے 28 فروری 2026ء کی علی الصبح جدیدترین اورانتہائی خطرناک میزائلوں اور لڑاکا طیاروں سے ایران پر اقوام متحدہ کے چارٹرکی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلاجواز اور بلااشتعال تابڑتوڑ حملوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مرد، عورتیں، بچے اوربچیاں شہید وزخمی ہوگئے۔ انہی میزائل اورجنگی طیاروں کے حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر محترم آیت اللہ خامنہ ای بھی اپنے قریبی ساتھیوں، رہنماؤں اور اہل خانہ کے ہمراہ شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
محترم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت صرف ایران اورایران کے عوام کاہی ایک بہت بڑا نقصان نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے ایک قیمتی اثاثے کاعظیم نقصان بھی ہے۔کیونکہ محترم آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایک جیّد عالم دین تھے بلکہ وہ ایک آزادو��ودمختار ملک ایران کے سپریم لیڈر بھی تھے۔ انہوں نے 1989ء سے اپنی شہادت تک یعنی 37برس تک کڑے سے کڑے حالات، مشکلات اورجبراً لگائی گئی سخت بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود جس طرح ایران اورایران کے عوام کی رہنمائی کی اس کی دنیابھرمیں کوئی مثال نہیں ملتی۔
دنیاجانتی ہے کہ دوروزقبل عمان کی ثالثی میں ایران اورامریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران اس بات پر راضی ہوگیا تھا کہ وہ نہ صرف یہ کہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیئم کی افزودگی (Enrichment) کے عمل کوبھی صرف 3 فیصد تک لے آئے گا۔لیکن امریکہ اور اسرائیل نے اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پرتابڑ��وڑ حملے شروع کردیئے جو کہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں، ضابطوں اوراقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ ایسا گھناؤناعمل جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کوایران پر کئے جانے والے ان بلاجواز حملوں کانوٹس لیتے ہوئے امریکہ اوراسرائیل کے خلاف مؤثراورسخت کارروائی کرنی چاہیے ورنہ اقوام متحدہ کاوجود قطعی اورقطعی بے معنی ہوکررہ جائے گا۔
میں پوری دنیا کے امن پسند، جمہوریت پسند ممالک سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل اورامریکہ کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے بلاجواز حملوں کامؤثرنوٹس لیں۔
میں اورمیری جماعت ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والاہرفرد ایران کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ میں ان حملو ں میں ایران کے بےگناہ لوگوں، اسکول کی طالبات اور بے گناہ شہریوں کی شہادتوں پر دلی رنج وغم کااظہارکرتاہوں اوردعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ آیت اللہ خامنہ ای شہیداورتمام شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور ان کے غم گساروں اورتمام ایرا��ی عوام کو صبرکرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
الطاف حسین
لندن
یکم مارچ 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بلاجواز و بلااشتعال میزائلوں اور ایئر اسٹرائیک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی
#IranUnderSevereAttacks
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس، تمام مہذب جمہوری ممالک بشمول یورپی یونین، نیٹو اور OICکے ممالک کی حکومتوں اور سربراہان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ حملوں کو فی الفور بند کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر جارحانہ حملہ دنیا کے تمام بین الاقوامی چارٹرز، اصولوں اور ضابطوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، وہاں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان اور دنیا بھر میں دیگر انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تمام اہم شخصیات اور اداروں نے امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ حملوں کو فی الفور نہ رکوایا تو اقوام متحدہ سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں کا وجود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔
انہوں نے ایران ��یں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جارحانہ حملوں میں ایرانی فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر ایرانی حکومت اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ موجودہ جارحیت کا عمل دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف نہ دھکیل دے
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا طویل اجلاس۔ سیکٹروں، زونوں کے کارکنوں بشمول خواتین کارکنوں کی جانب سے بھیجےگئے معافی ناموں پرتفصیلی غور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معافی نامے قبول کرنے اور بحیثیت کارکن تحریک میں دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بانی وقائد جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاف کئےجانےوالےکارکنان اپنے یونٹوں اور سیکٹروں کےوفاپرست ساتھیوں سےفی الفور رابطہ کریں۔قائدتحریک الطاف حسین کی ہدایت
لندن……25فروری 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا ایک اجلاس ہواجس میں مختلف سیکٹروں اورزونوں کے کارکنوں بشمول خواتین کارکنوں کی جانب سے بھیجے گئے معافی ناموں پر تفصیلی غورکیا گیا۔ یہ وہ کارکنان ہیں جو حالات کےجبریا اپنی مجبوریوں کی بناء پر تحریک سے غیرفعال ہوگئے تھے، تحریک سے دورہوگئےتھےیا وقتی طورپر کہیں چلے گئے تھے اوراب انہوں نے اپنے عمل پر شرمندگی اورندامت کا اظہارکرتےہوئے بانی وقائد جناب الطاف حسین کے نام معافی نامے تحریک کے مرکزکو بھیجے ہیں جن میں کراچی کے مختلف سیکٹروں، حیدرآباد اور دیگرزونوں سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکنان بشمول خواتین کارکنان شامل ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے معافی نامے بھیجنے والے کارکنوں کوپہلے کچھ عرصہ گھر بیٹھنے کی ہدایت کی تھی اوراس دوران ان کے طرزعمل کاجائزہ لیا گیا۔اب رابطہ کمیٹی نےاپنے طویل اجلاس کےبعد متفقہ طورپر یہ فیصلہ کیا کہ یہ ساتھی اپنی غلطیوں پر نہ صرف نادم ہیں بلکہ اپنی غلطیوں کاازالہ بھی کرنا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں ایک اورموقع دیاجائے کہ وہ بحیثیت کارکن اپنے عمل سے ثابت کریں کہ انہوں نے جو معافی نامے لکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو حاضروناظرجان کرلکھے ہیں۔ رابطہ کمیٹی نےتفصیلی غوروخوص کے بعد ان ساتھیوں کے معافی نامے قبول کرنے اورانہیں بحیثیت کارکن تحریک میں دوبارہ شامل کرنےکا فیصلہ کیا۔رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالات کے پیش نظر معافی نامے بھیجنے والے ساتھیوں کے نام ان کے تحفظ کی خاطر جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔رابطہ کمیٹی نے معافی نامے بھیجنے والے ساتھیوں پر زور دیتے ہوئےکہا کہ آپ دوبارہ اپنے معافی نامےپر غورکرتے ہوئےاپنی غلطیوں کا احساس کریں اورحتی المقدور کوشش کریں کہ آپ سے آئندہ ایسی غلطیوں کا ارتکاب نہ ہو۔
رابطہ کمیٹی کی جانب سے یہ فیصلہ بانی وقائد جناب الطاف حسین کو بھیجا گیا جنہوں نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے اوردعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ معافی نامے بھیجنے والے ساتھیوں کو ایسی غلطی دہرانے کے عمل سے باز رکھے اورانہیں تحریک کا سچا وفاداراورثابت قدم ساتھی بنائے رکھے۔جناب الطاف حسین نے ان کارکنان سےکہا ہےکہ وہ خود بھی اپنے ضمیر اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل سے دعا کریں کہ وہ اب آخری سانس تک تحریک کے وفادار رہیں گے اورکسی بھی غلط راستے پر نہیں جائیں گے۔
بانی وقائد جناب الطاف حسین نےمعاف کئے جانے والےکارکنوں کوہدایت کی ہےکہ وہ اپنے متعلقہ یونٹوں اورسیکٹروں کے وفاپرست ساتھیوں سے فی الفوررابطہ کریں۔ جناب الطاف حسین نے یونٹوں، سیکٹروں ��ورزونوں کے وفاپرست ساتھیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے ساتھیوں کے بارے میں تصدیق کے لئے اپنے سیکٹروں اورزونوں کے تنظیمی معاملات دیکھنے والے رابطہ کمیٹی یاسی ای سی کے ارکان یا رابطہ کمیٹی کے کسی بھی رکن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
جاری کردہ
مرکزی شعبہ اطلاعات
متحدہ قومی موومنٹ
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن
حقوق کے مطالبے پر خون کی ندیاں بہانے کی باتیں نہ کی جائیں،
اگر صوبے کے حقوق کی باتیں جائز ہیں تو کراچی اور شہری علاقوں کے حقوق کی بات ناجائز کیوں ہے؟ شہری اور دیہی علاقوں کے برابر کے حقوق ہونے چاہئیں۔
کراچی کی صورتحال پر تازہ وڈیو لاگ
#Karachi
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے امبرنینسی کی معافی اورتحریک میں دوبارہ کام کرنے ک�� درخواست قبول کرلی
لندن …… 24فروری 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے رابطہ کمیٹی کی سابق رکن امبرنینسی کی جانب سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر تہہ دل سے معافی مانگنے اورتحریک میں کارکن کی حیثیت سے کام کرنے کی درخواست کا جائزہ لیا اور اسے قبول کرتے ہوئے انہیں تحریک میں کارکن کی حیثیت سے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دینے کافیصلہ کیا ہے۔
رابطہ کمیٹی نے امبرنینسی کوتاکیدکی کہ وہ آئندہ تحریکی نظم وضبط کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے کام کریں۔ دریں اثناء بانی وقائدجناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کردی۔
👇👇
https://t.co/NTAhPoIWNF
بلدیہ فیکٹری کا کیس ایم کیو ایم پر غلط ڈالا گیا اس لیئے کہ یہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ کرتا تھا۔ ایک دن کوئی ریٹائرڈ میجر یا جنرل کسی ٹاک شو یا کتاب میں اس حقیقت سے پردہ اٹھائے گا۔ سینئر کرائم رپورٹر فہیم صدیقی کا انکشاف
اہم اعلان ‼️
بہادرآباد ٹولے کےکمالوکی ہرزہ سرائی پررابطہ کمیٹی کی ہنگامی وڈیو بریفنگ
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی آج مورخہ 28دسمبر 2025 بروز اتوارلندن وقت شام 5بجے اورپاکستان وقت رات 10بجے ہنگامی وڈیوبریفنگ کرے گی۔
اس وڈیو بریفنگ میں رابطہ کمیٹی کے ارکان ، قائد تحریک ج��اب الطاف حسین کےخلاف بہادرآباد ٹولے کے بدزبان اور بدتمیزکمالو کی ہرزہ سرائی ،بدزبانی ، مغلظات اور جھوٹے الزامات کا بھرپور، مدلل اورجواب دے گی
رابطہ کمیٹی کی یہ وڈیوبریفنگ ایم کیوایم کے آفیشل فیس بک اور یوٹیوب پیچ پربراہ راست نشر کی جائے گی۔ جس کے لنک درج زیل ہیں۔*
فیس بک:
https://t.co/7iODHymGiH
یوٹیوب:
https://t.co/X3Cr3rEyjX
براہ کرم یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے
شکریہ
جاری کردہ
مرکزی شعبہ اطلاعات
متحدہ قومی موومنٹ
28دسمبر 2025ء
عمران خان پر الزامات غلط اورالطاف حسین پر
الزامات درست کیوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج @PTIofficial کےلوگ کیوں کہتےہیں کہ عمران خان یہودی ایجنٹ، دہشت گرداورتخریب کار نہیں ہیں، میں PTI کےلوگوں سےسوال کرتاہوں کہ کیا9، مئی2023ء کوپاکستانی فوجیوں کےمجسمے نہیں گرائےگئے؟ کیا کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملہ کرکے وہاں آگ نہیں لگائی گئی؟ کیا جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیاگیا؟کیافوجی ہیڈکوارٹرز پر حملے نہیں ہوئے؟
جب یہ واقعات رونماہوئےاُس وقت عمران خان جیل میں اسیر تھےاس لئے پی ٹی آئی کےلوگ کہتے ہیں کہ عمران خان پر دہشت گردی،تخریب کاری اورغیرملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات جھوٹ ہیں۔
سوال یہ ہےکہ جن قوتوں کی جانب سےعمران خان پر الزامات لگائےگئے انہی کی جانب سے ایم کیوایم اورالطاف حسین پر بھی طرح طرح جھوٹےاوربےبنیاد الزامات لگائےگئے تھے لیکن یہ عجب بات ہے کہ تحریک انصاف کےلوگ عمران خان پر لگائے گئےالزامات کوتو غلط قراردیتے ہیں جبکہ مجھ پر لگائے گئے الزامات کو درست مانتے ہیں۔
اسے سراسر بے ایمان�� کھلی منافقت،تعصب اوردوعملی نہیں تو پھرکیاکہاجائے؟
عمران خان نےپارلیمنٹ کےفلورپر مجھے ڈرون حملے میں مارنے کی بات کی مگرجب عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوااورانہیں گرفتارکیاگیاتو الطاف حسین پاکستان کاواحد سیاسی رہنما تھا جس نے اس عمل کی بھرپورمذمت کی اوراُس وقت سے آج کے دن تک میں عمران خان کی حمایت میں بول رہاہوں اورظلم کوظلم کہہ رہاہوں۔
ماض�� میں عمران خان نے اپنی جماعت کے رکن فیصل واوڈا کو لندن بھیج کرمیرے خلاف مہم چلائی اور جب بات نہیں بنی تو عمران خان خودمیرے خلاف جھوٹے الزامات لیکر لندن آئے اورانہوں نے میرے خلاف مہم چلائی۔اگرمیں نے عمران خان اور ان کے ارکان کے منفی کردار کو دل میں رکھا ہوتا تو کیامیں عمران خان یا ان کے کارکنوں پر مظالم کی مخالفت کرتا؟
ایک طرف الطاف حسین کا دل اور ظرف دیکھاجائے اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے لیڈروں کا ظرف دیکھا جائے کہ میرے تمام ترمثبت عمل کے جواب میں پی ٹی آئی کے کسی ایک رہنما نے بھی شکریہ کے دولفظ تک نہ کہے اوریہ نہیں کہاکہ الطاف حسین ہم آپ کے مخالف تھے، آپ کی مخالفت میں مہم چلاتے رہے لیکن آپ نے برے وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور ہمارے لیڈر کی حمایت کی، کیا انہوں نے اپنے کسی بیان یا پریس کانفرنس میں کبھی الطاف حسین کی تعریف کی کہ آپ ماضی باتوں کو ایک طرف رکھ کرظلم کو ظلم کہہ رہے ہیں، سچ اورحق بات بول رہے ہیں؟
الطاف حسین کا منشور:
میری تحریک پاکستان کی سلامتی وبقاء کی تحریک ہے، ملک کی تمام لسانی،ثقافتی اکائیوں کو برابری کی بنیاد پرحقوق دینے کی تحریک ہے، ملک میں بسنے والے غیرمسلموں کو برابر کاپاکستانی کادرجہ دینے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کی تحریک ہے، میری تحریک فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی تحریک ہے، یہ ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں سے ہزاروں ایکڑاضافی زمینیں واپس لیکر غریب ہاریوں، کسانوں اورمزارعوں میں تقسیم کرنے کی تحریک ہے، خواتین کو زندگی کے ہرشعبے میں مردوں کے برابر حقوق، عزت اور احترام دلانے کی تحریک ہے، میری تحریک پسندناپسند کی بنیاد پر کسی کومرتبہ یاپوزیشن دینے کے خلاف ہے، میری تحریک پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کی تحریک ہے، امیراو�� غریب کے لئے ایک ہی تعلیمی معیار کے اسکول اوریکساں تعلیمی نصاب پڑھانے کی تحریک ہے، ملک بھرمیں جگہ جگہ معیاری اسپتال اورمیٹرنٹی ہوم بنانے کی تحریک ہے، میری تحریک کا مقصد یہ ہے کہ ایماندار اورخاندانی خواتین کی سرپرستی میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں جہاں کاروکاری سمیت دیگر فرسودہ رسومات اور ظالم جاگیرداروں کے مظالم کا شکار خواتین کو اپنائیت کے ساتھ پناہ مل سکے۔
میں کرپشن سے پاک پاکستان کے قیام کی جدوجہد کررہا ہوں اورچاہتاہوں کہ پاکستان میں احتساب کا ایسا نظام نافذ ہو جہاں کرپشن کیلئے زیروٹالیرنس ہو۔میری یہ جدوجہد پاکستان کی کرپٹ سیاسی جماعتوں اوردوفیصد رولنگ ایلیٹ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔
میں 47سال سے ملک بھرکے غریب ومظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہا ہوں، میری عمر72 سال ہوچکی ہے لیکن جب تک میری سانس باقی ہے میں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے یہ جدوجہد جہادسمجھ کرکرتا رہوں گا اور کسی بھی جابر آمرکے آگے اپنا سر نہیں جھکاؤں گا۔میں نے ماضی میں جیل کی صعوبتیں اور سرکاری عقوبت خانوں میں وحشیانہ تشدد سہے، اپنے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین، بہنوئی اسلم ابراہانی سمیت ہزاروں ساتھیوں کی شہادتوں کے صدمات جھیلے، اپنے خاندان کی دربدری کاکرب برداشت کیا اس کے باوجود میرے حوصلوں کو توڑا نہیں جاسکا۔میراعز م آج بھی یہی ہے کہ حالات چاہے جوبھی ہوں میں اپنے مشن کو آخری سانس تک نہیں
چھوڑوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 351ویں فکری نشست سے خطاب
23، نومبر2025ء
Sarah Pochin is a fucking racist.
This was never just about asylum seekers or immigrants. To them, this is about all people that are not white.
They’re the BNP.
قبول ہے…قبول ہے … قبول ہے
…………………………
صدرڈونلڈ ٹرمپ :
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف صاحب! آپ بتائیں کہ آپ کو میرا 20 نکاتی امن منصوبہ قبول ہے؟
وزیراعظم شہبازشریف:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب! جناب عالی ! جب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب نے اسےقبول کرلیا ہےتو میں کیسے انکار کرسکتاہوں۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ :
وزیراعظم شہبازشریف صاحب! آپ خود اپنے منہ سے کہیں کہ آپ کوقبول ہے یانہیں؟
وزیراعظم شہبازشریف:
جناب عالی ڈونلڈ ٹرمپ صاحب! بالکل قبول ہے۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ : آپ کوقبول ہے؟
وزیراعظم شہبازشریف: جناب عالی قبول ہے۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ : آپ کوقبول ہے؟
وزیراعظم ش��بازشریف: جناب عالی قبول ہے۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ :
چلیں بھئی سب کومبارک ہو۔ چلو جلدی سے چھوہارے بانٹو۔
شرکائے محفل :
مبارک ہو…مبارک ہو…مبارک ہو
The decades old Israel–Palestine conflict: Parties involved.
Israel and Palestine efforts for resolution:
Meetings and agreements between the leaders of the two sides.
#Gaza#Palestine
Yesterday, on September 29, 2025, a 20-point pact was signed between the U.S. President @realDonaldTrump and Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu.
The Palestinian side was not taken on board. Why? The conflict wasn't a U.S- Israel one, but a conflict between Israel and Palestine.
Respected readers!
Allow me to present some historical facts which will endorse that this conflict has always been between two parties whose leaders have held meetings in the past.
Photographs and videos of these meetings are annexed herewith.
1. In 1991, a Multilateral Summit was held in Madrid, the capital of Spain, where representatives from the U.S., Russia, Israel, the PLO (Palestinian Liberation Organization), and Arab states participated.
2. In 1993, the Oslo Accord was signed, which discussed the two-state solution formula. Participants included U.S. President Bill Clinton, Israeli Prime Minister Yitzhak Rabin, PLO Chairman Yasser Arafat, among others.
3. In 1995, the Oslo II Agreement (Palestinian–Israeli Interim Agreement) was signed by PLO Chairman Yasser Arafat and Israeli Prime Minister Yitzhak Rabin.
4. On 13 January 1997, a meeting took place between Israeli Prime Minister Netanyahu and PLO Chairman Yasser Arafat in the presence of U.S. envoy Dennis Ross.
5. On 23 October 1998, the Wye River Memorandum was signed at the White House in the USA. Israeli Prime Minister Netanyahu and PLO Chairman Yasser Arafat signed the agreement in the presence of U.S. President Bill Clinton. It was decided that Israel would withdraw from further Palestinian territories.
6. In 2000, during the Camp David Summit, it was agreed in the presence of U.S. President Bill Clinton that 95 percent of the West Bank and the "entire Gaza Strip" would be given to Palestine, and Jerusalem would be shared. Attendees included Israeli Prime Minister Ehud Barak, Palestinian President Yasser Arafat, and U.S. President Bill Clinton.
This process of meetings and agreements continued through 2001, 2007, and 2013–2014. However, on 29th September 2025**, only U.S. President Donald J. Trump and Israeli Prime Minister Netanyahu signed a 20-point agreement, with no representative of the Palestinian Authority present, even though the current Palestinian President Mahmoud Abbas was available. Why he was not invited?
Was this not the oldest conflict between Israel and Palestine? Was it really a conflict between the U.S. and Israel? So, this rises a question as why Palestinian were deprived of their due representation in this pact?
It's my request to all the respected readers, especially teachers of history and philosophy, to dissipate ambiguities and confusions thear have grasped me. I shall appreciate them most.
Thank you,
Altaf Hussain
LONDON. [UK].
September 30 2025.
(Photographs and videos of meetings 1/2 👇
سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبر کراچی ناقابل فراموش ہے، قائدتحریک الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 37ویں برسی کے موقع پر بیان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہ 30ستمبر حیدرآباد اور سانحہ یکم اکتوبرکراچی ناقابل فراموش ہیں اورسانحہ 30 ستمبرحیدرآباد کے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ کل سانحہ 30ستمبر حیدرآباداورسانحہ یکم اکتوبرکراچی 1988ء ک�� شہدا ء کی 37ویں برسی ہے۔ 30ستمبر1988ء کوفوج اور آئی ایس آئی نے حیدرآباد اورکراچی میں قتل وغارتگری کامنصوبہ بنایا جس کے تحت کئی گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں کے ذریعے حیدرآباد کے مختلف علاقوں بے گناہ مہاجروں پر اندھادھند فائرنگ کروائی گئی اور ڈھائی سو سے زائد مہاجربزرگ، خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو خاک وخون میں نہلادیا گیاجبکہ سینکڑوں شہریوں کو شدید زخمی کردیاگیا۔دوسرے دن یکم اکتوبر1988ء کوفوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے زرخریددہشت گردوں کے ذریعے کراچی میں بے گناہ سندھیوں پر حملے کرائے تاکہ صوبے کو لسانی فسادات کی آگ میں جھونکا جاسکے اور سندھ کے مستقل باشندوں میں غلط فہمیاں پیدا کرکے انہیں آپس میں لڑایاجاسکے۔ستم بالائے ستم یہ کہ سینکڑوں معصوم وبے گناہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث سفاک قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دینے کے بجائے عدالت کی جانب سے بری کردیاگیا اوربے گناہ شہریوں کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں۔
میں سانحہ 30 ستمبراور یکم اکتوبر کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اورشہداء کے لواحقین کو یقین دلاتا ہوں کہ معصوم وبے گناہ شہیدوں کا لہو ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اورسندھ کے مستقل باشندوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔میری دعاکی کہ اللہ تعالی تحریک کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، شہیدوں کوجنت الفردوس میں جگہ دے اورتمام لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔(آمین)
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم وفاپرست کارکنان کوہدایت کرتا ہوں کہ تحریک کے شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ یاد رکھیں ،سانحہ 30 ستمبرحیدرآباد اور سانحہ یکم اکتوبر کراچی کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے اجتماعات منعقد کریں۔
الطاف حسین