Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is in solitary confinement since October 16, 2025.
He has spoken to his sons only twice in 2025 and once in February 2026 after Supreme Court orders. He has been denied books to read. He has received only 3 of the dozen books that we managed to get to adiala through a judge.
Then, a perfectly health and fit Imran Khan suddenly develops a clot in his eye. He was not provided medical assistance. For two weeks, he repeatedly told the jail superintendent that he CANNOT SEE.
The Adiala Jail superintendent Ghafoor Anjum DELAYED calling in a specialist for three months.
By the time the eye doctor came, the delay caused permanent damage to Imran Khan’s eye. We are extremely worried that his other eye could also develop a clot.
Imran khan has repeatedly sent messages over past few months that he is not satisfied with the treatment and there is only marginal improvement after the first injection in the eye. No improvement since then.
Over the past month, Bushra Bibi, his wife has also developed an eye condition and was operated upon last week.
Imran khan and his wife are being tortured through solitary confinement. We have repeatedly protested, demanding Imran Khan to be examined and treated at Shifa International Islamabad. There is an urgent need to identify the cause of the blood clot. Our worry is that his other eye could also develop a clot unless proper diagnosis is done and it’s treated accordingly
This is inhumane and a violation of all fundemental and human rights of a prisoner under Pakistan and International laws.
@KaliwalYam بھائی پنجاب میں کبھی چھوٹی سطح پر احتجاج ہوا ہی نہیں ہے۔ لوگ بہت چارجڈ ہیں لیکن نہ کوئی کچھ بتانے والا نہ لوگوں کی اس طرح کے احتجاج کی ذہن سازی ہے۔ خان صاحب نے جتنے بھی احتجاج کیے سب میں اسلام آباد کی طرف مارچ ہوتا تھا۔ اب لوگ خود سے کیسے نکل ائے جب کہ پولیس گردی کا بھی خوف ہے
@enkidureborn ساری باتیں درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر عمل رفتہ رفتہ اس مافیا کو کمزور کر رہا ہے اور یہ مافیا ہر دفعہ پہلے سے ذیادہ زور لگا کر مذاحمت کو کچل رہا ہے ہمیں بالکل بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے ہر سطح پر۔
@RebelByThought لیپ ٹاپ کے کاروبار سے وابستہ ہوں۔ جب باہر سے پرانے لیپ ٹاپ آتے ہیں تو بہت ساروں پر خراشیں آئی ہوتی ہیں تو ان کے ٹاپ کور پر ٹیپنگ کی جاتی ہے۔ یہ شائد وہی کام ہو رہا۔
آج میں بھی ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ شروع کرنے جا رہا ہوں، یہ صرف ایک ٹرینڈ نہیں بلکہ جمہور کی آواز کے۔
ریٹویٹ کر کے ہر پاکستانی تک یہ پیغام پہنچائیں اور اس ہیش ٹیگ #ایکسٹینشن_نامنظور پر ایک ٹویٹ لازمی کریں۔
کیا مریم نواز یا آصفہ زرداری یا فریال تالپور میں سے کسی پر انڈا پھیکا جاسکتا ہے؟ یہ تو دور کی بات ہے، کوئی طیب بلوچ جیسا ولدالحرام صحافی جرات نہیں کرسکتا کہ موبائل اور کیمرہ ان کے چہرے کے قریب رکھ کر بدتمیزی سے سوال پوچھ سکے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت کبھی مریم یا آصفہ کو اکیلا نہیں چھوڑتی۔ قیادت کے ساتھ ساتھ ان کے باڈی گارڈز اور غنڈے بھی ہمیشہ گھیرا ڈالے رکھتے ہیں۔
اگر ہم کئی مہینوں سے پی ٹی آئی کے قائدین اور اراکین اسمبلی سے کہتے آئے ہیں کہ اڈیالہ جیل کے باہر اور عدالتوں میں علیمہ خانم کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے موجود رہا کریں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے۔
کیا عمران خان کی بہنوں کو اس کی جماعت کے قائدین اور اراکین اسمبلی اتنی سی پروٹیکشن بھی فراہم نہیں کرسکتے؟
اگر غیرت مر نہ گئی ہوتی تو کس کی جرات تھی کہ آئے روز علیمہ خانم سے بدتمیزی کرسکتا؟
مجھے تحریک انصاف کی موجودہ قیادت سمیت اس کے تمام اراکین اسمبلی سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں رہی۔ ان کا بھی مُکو ویسے ہی ٹھپے گا جیسے 8 فروری کو فوج اور ن لیگ کا ٹھپا گیا!!!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
Let's go for Tag in our tweets
#FreeImranKhan
مرشد میں لڑ نہیں سکا پر چیختا رہا
خاموش رہ کے ظلم کا حامی نہیں بنا
بولئے ۔ یہ حق آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا
@MoeedNj So it means whenever our enemies have a bad meal or are their mood is off, they can fire missiles and kill innocent civilians to chill out and we don't respond fearing that the war will break out.
ٹرینڈ الرٹ 🚨
سب انگریزی میں یہ ٹرینڈ #FreeKhanRightNow شروع کریں اور پاکستان کی خاطر عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں
عمران خان کی سیکورٹی کو یقینی بنا کر اسی وقت بنی گالہ منتقل کیا جائے