حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔پٹرول 2روپے 27پیسے فی لیٹرستا، پٹرول کی نئی قیمت 389روپے 3 پیسے فی لٹر مقرر،جبکہ ڈیزل بھی 3 روپے 56پیسے فی لٹرسستا کیا گیا ہے،ڈیزل کی نئی قیمت404 روپے 97پیسے فی لیٹر مقرر۔
حکومت نے پٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا کر دیا۔پٹرول 2 روپے 2 پیسے فی لیٹر مہنگا،جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 391روپے30پیسے فی لٹر مقرر،جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 59پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہ��،ڈیزل کی نئی قیمت 408روپے 53پیسے فی لیٹر مقرر۔نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پٹرول صرف 84پیسے فی لیٹرسستا کردیا، پٹرول کی نئی قیمت 389روپے28 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل بھی 2روپے 63پیسے فی لٹر سستا کیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 412روپے 12پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ۔نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پھر پٹرول اور ڈیزل سستا کر دیا۔پٹرول 1 روپے 93پیسے فی لیٹر سستا جس سے پٹرول کی نئی قیمت 390روپے12 پیسے فی لٹر مقرر، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 21پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے ڈیزل کی نئی قیمت 414روپے 75پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4روپے 61پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 75 پیسے فی لٹر مقرر،جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 96پیسے فی لٹر کی معمولی کمی کی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 422روپے 8پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں صرف 43 پیسے فی لیٹر معمولی کمی کر دی جس ہعد پٹرول 390 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہےجبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل 424 روپے 92 پیسے کا ہوگیا۔نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا،جس کے بعد نئی قیمت 421 روپے 45 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔جبکہ پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا،جس کے بعد نئی قیمت 391 روپے 22 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔
پاور پلانٹس کیلئے مہنگا درآمدی کوئلہ خرید کر صارفین سے اضافی وصولی کا انکشاف....مختلف پاور پلانٹس ایک ہی عالمی اشاریے (API-4 انڈیکس) کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہی سپلائرز سے کوئلہ خرید رہے تھے لیکن انہیں حاصل رعایت میں نمایاں فرق تھا جو 0.25 امریکی ڈالر سے 7.12 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن تک تھا، ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو الگ الگ رعایتیں فراہم کیں اور ایسے معاملات بھی سامنے آئے جہاں زیادہ رعایت دینے والے سپلائر کے ساتھ معاہدہ کے باوجود کم رعایت دینے والے سے کوئلہ خریدا جا رہا تھا۔ اس فرق سے ایندھن کی لاگت میں ہونے والا غیر ضروری اضافہ بالآخر بجلی کے ٹیرف کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جاتا ہے: دنیا اخبار میں اسلم لُڑکا کی رپورٹ
@AslamLurka